گون ود دا ونڈ کہانی ہے امریکی جنوب کی ریاستوں کی، امریکی خانہ جنگی کی اور اسکارلیٹ اوہارا کی۔

انیس سو انتالیس میں بننے والی یہ شہرہ آفاق فلم، سینما کی تاریخ کی عظیم ترین فلموں میں سے ایک شمار کی جاتی ہے۔ ہدایات کاری، عکاسی، مکالمہ نگاری، اور اداکاری کے میدانوں میں رجحانات کے سینکڑوں نئے در وا کرنے والی یہ فلم دنیا بھر میں لاکھوں فلم بینوں کی پسندیدہ ترین فلموں میں سے ایک ہے۔ فلم میں رہیٹ بٹلر کا کردار ادا کیا ہے کلارک گیبل نے جو اس وقت بھی فلمی صنعت کا ایک معروف نام تھے اور اسکارلیٹ اوہارا کا کردار نبھایا ویویان لیھ نے جنہیں اس فلم پر ان کا پہلا آسکر ملا۔ فلم نے تیرہ آسکر اعزازت کے لئے نامزدگی پائی اور ان میں سے آٹھ حاصل کرے جن میں بہترین فلم کا اعزاز بھی شامل ہے۔

فلم کی کہانی امریکی جنوب کی ریاست جارجیا کی ایک بڑی جاگیر ٹیرا اور اس جاگیر کے مالک کی بیٹی اسکارلیٹ اوہارا کے گرد گھومتی ہے۔ اسکارلیٹ کے بارے میں آپ کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلنڈری، مغرور، گھمنڈی قسم کی لڑکی ہے۔ آس پاس کی جاگیروں کے کئی لڑکے اس کی ایک نگاہ التفات کے منتظر رہتے ہیں۔ اور وہ ان کے دلوں سے کھیلنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتی۔ مگر دل ہی دل میں وہ ایشلے نامی ایک نوجوان کو چاہتی ہے جو ان کے ہی علاقے میں ایک جاگیر Twelve Oaks کے جاگیردار کا لڑکا ہے۔ مگر ایشلے اپنی ایک کزن میلینی سے پیار کرتا ہے اور جس رات امریکی خانہ جنگی شروع ہوتی ہے اس رات Twelve Oaks میں ایک بڑی دعوت میں وہ میلینی سے اپنی منگنی کا اعلان کرتا ہے۔

اسکارلیٹ حیران رہ جاتی ہے، وہ ایشلے کو اکیلا پاکر اس سے اقرار محبت کرتی ہے مگر ایشلے مہذبانہ طریقے سے اسے سمجھاتا ہے کہ گرچہ وہ اسے پسند کرتا ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ میلینی ہی اس کے لئے بہتر بیوی ہوسکتی ہے۔

حویلی کی مطالعہ گاہ میں جہاں اسکارلیٹ، ایشلے سے اظہار محبت کرتی ہے اور اس کے ٹھکرا دینے کے بعد آنسو بہارہی ہوتی ہے وہاں ایک مہمان رہٹ بٹلر اس کی اس بے شرم جرات کا مظاہرہ دیکھ کر اس پر فدا ہوجاتا ہے۔

رہٹ بٹلر، چارلسٹن جنوبی کیرولینا کا رہائشی ہے، اور کافی بدتمیز، گھمنڈی اور مغرور ہے۔ وہ اسکارلیٹ سے کہتا ہے کہ تم میں اور مجھ میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ جب اعلان جنگ ہوتا ہے اور twelve oaks میں موجود تمام جوان مرد اپنے ہتھیار پہن کر جنگ کے لئے اپنا اندراج کروانے جارہے ہوتے ہیں رہٹ بے نیازی سے اعلان کرتا ہے کہ اس کے خیال میں یہ جنگ بے مقصد ہے اور جنوب، شمال کی دولت و وسائل اور فوجی برتری کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

جنگ کے پس منظر میں فلم کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ اسکارلیٹ جلد بازی میں ایشلے سے پہلے شادی کرنے کے چکر میں ایک نوجوان کی پیشکش قبول کر بیٹھتی ہے مگر وہ نوجوان جلد ہی جنگ میں ہلاک ہوجاتا ہے۔ بیوگی کا سوگ گزارنا اسکارلیٹ کے لئے محال ہوتا ہے تو اس کی ماں اسے اٹلانٹا بھیج دیتی ہے جہاں میلینی دل و جان سے اسکارلیٹ کو خوش آمدید کہتی ہے۔ اس کو سگی بہن کی طرح پیار کرتی ہے اور اسکارلیٹ ایشلے کا انتظار کرتی ہے۔ رہٹ بٹلر بھی اٹلانٹا میں مقیم ہوتا ہے اور یہاں وہ اسکارلیٹ سے کہتا ہے کہ وہ اس کا دل جیت کر رہے گا۔ اسکارلیٹ کہتی ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

فلم کی رومانوی کشمکش پر مبنی داستان جنگ کے پس منظر میں آگے بڑھتی ہے۔ جہاں اسکارلیٹ ایشلے کو، ایشلے میلینی کو، اور رہیٹ اسکارلیٹ کو چاہتا ہے۔ مگر اسکارلیٹ کو اس کی محبت نہیں مل پاتی، رہیٹ کو اس کی محبت مل کر بھی نہیں مل پاتی اور اسکارلیٹ آخر میں۔۔۔

فلم کی کہانی کچھ ایسی ہے کہ کسی تبصرہ نگار کے لئے شاید ہی یہ ممکن ہو کہ وہ کہانی کا کوئی ایک سین بھی بیان کرے بغیر تبصرہ آگے بڑھا سکے۔ مگر میں کہانی بیان کرے بغیر تبصرے کی طرف آتا ہوں۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا کہ گون ود دا ونڈ سینما کی تاریخ کی اہم ترین فلموں میں سے ایک ہے۔ فلم سازی پر اس فلم کے اثرات بے پناہ ہیں۔ امریکی عوام میں فلم کی بے پناہ مقبولیت کے سبب اس فلم کے امریکی کلچر پر اثرات بھی نمایاں ہیں۔ فلم کے مکالمے فلمی تاریخ کے سب سے زیادہ پسندیدہ ترین مکالمے ہیں۔ فلم کی ایک لائن کو امریکی فلم انسٹی ٹیوٹ نے سو بہترین یادگار کلمات میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔

Frankly my dear, I don’t give a damn

اسکارلیٹ کی دو بہنیں اور ہیں، مگر اسکارلیٹ ان سے زیادہ چالاک اور جہاندیدہ ہے۔ اس کا باپ اسے اپنا جانشین تصور کرتا ہے اور اسے اکثر بتاتا ہے کہ جاگیر کتنی ضروری ہے۔ اور ٹیرا ہی سب کچھ ہے یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اسی لئے جنگ کے بعد اسکارلیٹ ٹیرا کو بچانے کے لئے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہوجاتی ہے۔ وہ مادہ پرست ہے اور اسے آسائشوں اور دولت سے پیار ہے۔ فلم کا ایک اور یادگار مکالمہ تب آتا ہے جب اسکارلیٹ جنگ کے اختتام پر ٹیرا واپس لوٹتی ہے اور غربت اور افلاس سے تنگ آکر وہ قسم کھاتی ہے:

As God is my witness, as God is my witness they’re not going to lick me. I’m going to live through this and when it’s all over, I’ll never be hungry again. No, nor any of my folk. If I have to lie, steal, cheat or kill. As God is my witness, I’ll never be hungry again!

“خدا میرا گواہ ہے، وہ مجھے چاٹ نہیں سکیں گے۔ میں اس سب کے دوران بھی زندہ رہوں گی، اور جب یہ سب ختم ہوجائیگا، میں کبھی بھوکی نہیں رہوں گی۔ نہیں ۔۔۔ اور نہ ہی میرے لوگ۔ چاہے مجھے جھوٹ بولنا پڑے، چوری کرنا پڑے یا قتل، خدا گواہ ہے میں اب کبھی بھوکی نہیں رہوں گی۔ “

ہالی ووڈ میں پہلی بار ایک انتہائی مہنگی پروڈکشن امریکی خانہ جنگی کے پس منظر میں امریکی جنوبی ریاستوں کے نقطہ نظر سے ایک کہانی بیان کر رہی تھی۔

فلم کی کہانی دو حصوں پر مبنی ہے۔ پہلا حصہ ابراہم لنکن کے صدارات سنبھالنے سے لیکر جنگ کے اختتام تک اور دوسرا جنگ کے ختم ہونے کے بعد کے آٹھ سالہ واقعات پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں اسکارلیٹ کی محبت میں بے بسی، بیوقوفی اور یہ امید کے شاید وہ رہٹ کے التفات کا مثبت جواب دے گی فلم بین کو محسور رکھتی ہے۔ اسکارلیٹ کی جرات، بے شرمی اور بیوقوفی کے باوجود اس کا کردار اتنا دلچسپ ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ وہ سنبھل جائے۔ کہانی آپ کو اسکارلیٹ کو پسند یا ناپسند کرنے پر مجبور نہیں کرتی۔ آپ چاہیں تو اسکارلیٹ کو ایک خود غرض، لالچی، بے وقوف عورت سمجھ کر اس سے نفرت کرسکتے ہیں۔ یا چاہیں تو اس کے عزم و حوصلے، اس کی طاقت اور چالاکی اور ایک وہم نما پیار کے پیچھے اس کی دیوانگی کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اس کہانی کی ہیروئن بھی ہے، اور ولن بھی۔

فلم کے دوسرے حصے میں اسکارلیٹ ایک ذمے دار جاگیردارنی کے روپ میں سامنے آتی ہے۔ جنگ کے بعد کی انتہائی سخت غربت اور تنگدستی کے باجود وہ اپنی چالاکی اور محنت سے حالات بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ خانہ جنگی اور شکست کے بعد کنفڈریٹ ریاستوں کے عوام کو انتہائی سخت مالی مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکارلیٹ بہادری سے ان حالات کا مقابلہ کرتی ہے۔ فلم میں کنفڈریٹ ریاستوں کو پہنچنے والے بے پناہ جانی اور مالی نقصان کی بھی جنوب کے نقطہ نظر سے عکاسی کی گئی۔

گرچہ میں نے یہ فلم بڑی اسکرین پر نہیں دیکھی، مگر ڈی وی ڈی پر بھی فلم کی عکاسی لاجواب تھی۔ گون ود دا وینڈ امریکی لینڈ اسکیپ کی انتہائی سحرانگیز عکاسی کرتی ہے۔ فلم کے عظیم الشان سیٹ، ٹیرا کی حویلی کی منظر کشی، قدیم جنوب کی پلانٹیشن، اٹلانٹا کی منظر کشی، ملبوسات، رقص، موسیقی، بہترین مکالمے فلم بین کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ ایک گم گشتہ دور کی داستان دیکھ رہے ہیں۔ اور درحقیقت یہ فلم اسی گم گشتہ دور کی کہانی بیان کرتی ہے۔ فلم کے ابتدائی مناظر میں پس منظر میں پیش کیا جانا والا ابتدائیہ کہانی ان جملوں کے ساتھ شروع کرتا ہے۔

“There was a land of Cavaliers and Cotton Fields called the Old South. Here in this patrician world the Age of Chivalry took its last bow. Here was the last ever seen of the Knights and their Ladies Fair, of Master and of Slave. Look for it only in books, for it is no more than a dream remembered, a Civilization gone with the wind.

کسی زمانے میں شہ سواروں اور کپاس کے کھیتوں کی ایک سرزمین ہوا کرتی تھی جسے قدیم جنوب کہتے تھے۔ اس اشرافیہ کی سرزمیں پر سپہ گیری نے اپنا آخری گھاؤ سہا۔ یہیں آخری بار گھڑسوار اور ان کی اچھی خواتین، آقا اور ان کے غلام دکھائی دئیے تھے۔ اب اسے صرف کتابوں میں ہی دیکھا جاسکتا ہے، کیونکہ آپ یہ بس ایک یاد رہ جانے والے خواب سے زیادہ کچھ نہیں، ایک تہذیب جو ہوا کے ساتھ اڑ گئی۔