ہالی ووڈ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہے، جس کے دنیا بھر پر زبردست اثرات ہیں۔ اسی لیے اسے پروپیگنڈہ فلموں کے لیے بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی کیا جاتا ہے خصوصاً جنگ عظیم اور جنگ ویت نام کے حوالے سے بننے والی کئی فلمیں مکمل طور پر پروپیگنڈہ تھیں۔ ان میں فرضی کہانیوں کو حقیقت بنا کر پیش کیا گیا یا پھر حقیقی واقعات کی تلخ حقیقتوں پر پردہ ڈالا گیا۔ میرے پسندیدہ ڈائریکٹر رڈلے اسکاٹ (Ridley Scott) کی ایک فلم “بلیک ہاک ڈاؤن” (Black Hawk Down) بھی انہی پروپیگنڈہ فلموں میں سے ایک ہے۔ اس فلم کی کہانی مارک بوڈن کی کتاب “بلیک ہاک ڈاؤن” سے ماخوذ ہے اور اس کی کہانی جنگ مقدیشو (جسے ہم انگریزی زدگی کے باعث موغادیشو بولتے ہیں) میں صومالی جنرل فرح عدید کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن کے گرد گھومتی ہے جس میں امریکی فوج کے دو ہیلی کاپٹرز صومالی جنگجوؤں کے راکٹوں کا نشانہ بنتے ہیں اور کئی امریکی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
یہ فلم 2001ء میں دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ فلم میں جوش ہارٹنیٹ، ٹوم سائزمور، ایون بریمنر، ولیم فچنر اور کم کوٹس نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ یہ تمام اداکار اس سے قبل جیری برک ہیمر کی فلم “پرل ہاربر” میں بھی ایک ساتھ تھے۔
کہانی
—— انتباہ ——
مکمل کہانی پڑھنے کی صورت میں آپ فلم میں دلچسپی کھو سکتے ہیں
فلم ڈیلٹا فورس آپریٹر، آرمی رینجر اور اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ کے مشترکہ آپریشن کی حقیقی داستان ہے جو صومالی دارالحکومت مقدیشو کی بکارا مارکیٹ میں فرح عدید کے دو اہم نائبین کی گرفتاری کے لیے کیا گیا تھا۔ مشن کی قیادت میجر جنرل ولیم گیریزن کر رہے تھے۔ آپریشن کے بارے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس مشن کی تکمیل میں نصف گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ڈیلٹا فورس کا مشن تو کامیاب رہا لیکن اس دوران مسلح صومالی ملیشیا نے امریکی فوج کے 2 بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز مار گرائے جس کے بعد پوری مہم کا رخ ان ہیلی کاپٹروں میں سوار سپاہیوں کو بچانے کی جانب کر دیا گیا یہ آپریشن 15 گھنٹے طویل ہو گیا۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران امریکی فوج کو پہلا مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے جب ایک ہیلی کاپٹر کو آر پی جی (Rocket propelled grenade) سے بچانے کی کوشش میں پی ایف سی ٹوڈ بلیک برن نیچے گر جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی صومالی ملیشیا کے ساتھ ایک خونی مقابلے کا آغاز ہو جاتا ہے جس کے دوران دو امریکی ہیلی کاپٹر مار گرائے جاتے ہیں جن میں سپر سکس ون اور سپر سکس فور شامل ہیں جنہيں بالترتیب کلف “ایلوس” والکوٹ اور مائیک ڈیورینٹ چلا رہے تھے۔ بعد ازاں ڈیورنٹ کو صومالی ملیشیا گرفتار کر لیتی ہے۔ بالآخر 19 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج کی مدد سے امریکی اپنے فوجیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
فلم کا اختتام 19 امریکی فوجیوں اور تقریباً ایک ہزار صومالی شہریوں کی ہلاکت، مائیک ڈیورنٹ کی رہائی اور 1996ء میں محمد فرح عدید کی ہلاکت کی خبر کے ساتھ ہوتا ہے۔
پروپیگنڈہ
فلم میں دیگر امریکہ نواز فلموں کی طرح امریکی فوجیوں کو بڑا رحم دل دکھایا گیا ہے۔ آپریشن سے قبل کے مناظر میں فوج کو یہ ہدایات دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جائے گا وہ انتہائی گنجان آباد شہری علاقہ ہے اس لیے بہت زیادہ احتیاط کریں تاکہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اور پوری فلم میں بھی آپریشن کے نتیجے میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو نہیں دکھایا گیا بلکہ یہ ظاہر کیا گیا کہ امریکیوں نے کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچایا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس آپریشن میں 1300 عام شہری جاں بحق ہوئے جن میں سے نصف عورتیں اور بچے تھے۔
پس منظر اور پیش کاری
دراصل اس کتاب پر فلم بنانے کا منصوبہ ہدایت کار سائمن ویسٹ نے بنایا تھا جنہوں نے جیری برک ہیمر پر زور دیا کہ وہ فلم کی ہدایات دینے کو ذہن میں رکھ کر اس کتاب کے حقوق حاصل کریں۔ تاہم ویسٹ نے لارا کرافٹ: ٹومب ریڈر کی ہدایات کے لیے اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔
فلم میں رینجر کے کردار ادا کرنے والے 40 سے زائد افراد کو دو ہفتے کی تربیت کے لیے فورٹ بیننگ بھیجا گیا جبکہ ڈیلٹا فورس کی تربیت کے لیے تین اداکار فورٹ بریگ، جنوبی کیرولائنا گئے جہاں انہوں دو ہفتوں کا کمانڈو کورس کرایا گیا۔ رون ایلڈرڈ اور ہوا بازوں کے کردار ادا کرنے والے دیگر اداکاروں کو فورٹ کیمبل بھیجا گیا جہاں انہیں لٹل برڈ اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں نے دروس دیے۔ ہدایت کار نے فلم بندی کے لیے امریکی فوج کی مدد بھی طلب کی اور فلم میں دکھائے گئے بلیک ہاک اور لٹل برڈ ہیلی کاپٹرز 160 ویں اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن ریجمنٹ (ایس او اے آر) سے تعلق رکھتے تھے اور بیشتر پائلٹ 3 اور 4 اکتوبر 1993ء کو ہونے والے حقیقی آپریشن میں بنفس نفیس شریک بھی رہے تھے۔ امریکی بری افواج نے فلم کے لیے زمینی گاڑیاں اور ہتھیار بھی فراہم کیے جبکہ امریکی آرمی رینجرز کی ایک پلاٹون بھی مختلف مناظر (جیسے رسیوں سے اترنے وغیرہ) کی فلم بندی کے لیے موجود تھی۔ بیشتر فلم مراکش کے شہروں رباط اور سالے میں فلمائی گئی حالانکہ فلم سازوں نے صومالیہ میں فلم بندی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن خطرات کے باعث مراکش کا انتخاب کیا گیا۔
بہترین مناظر
اگر آپ کو ایکشن فلمیں پسند ہیں اور آپ جنگی مناظر دلچسپی سے دیکھتے ہیں تو یہ فلم آپ ہی کے لیے ہے۔ شروع سے لے کر آخر تک اس میں قابل دید مناظر کی بھرمار ہے۔ ہیلی کاپٹرز گرانے کے مناظر، گلی میں دو بدو لڑائی، ریسکیو آپریشن کی مشکلات اور فوجیوں کی ایک دوسرے کی جانیں بچانے کی کوششوں کو بہت خوبصورت انداز میں فلمایا گیا ہے۔ ویسے بھی رڈلے اسکاٹ تو جنگی مناظر کی فلمبندی کے حوالے سے خاصا شہرہ رکھتے ہیں۔ اور جو ناظرین ان کی دوسری فلمیں بھی دیکھ چکے ہیں، اور منظر کشی کو پسند کر چکے ہیں، ان کو یہ فلم ہر گز مایوس نہیں کرے گی۔
اداکار
اس فلم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی ایک اداکار کو مرکزی کردار نہیں دیا گیا بلکہ بحیثیت مجموعی تمام اداکاروں کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔
* جوش ہارٹ نیٹ – اسٹاف سارجنٹ میٹ ایورس مین، امریکی رینجرز
* ایرک بانا – سارجنٹ فرسٹ کلاس نورم ہوٹ گبسن، ڈیلٹا فورس آپریٹر
* ایوان میک گریگور – اسپیشلسٹ جون گرائمز، امریکی آرمی رینجرز
* ٹوم سائز مور – لیفٹیننٹ کرنل ڈینی میک نائٹ، کمانڈر تیسری رینجر بٹالین
* اورلانڈو بلوم – پرائیوٹ فرسٹ کلاس، ٹوڈ بلیک برن، امریکی آرمی رینجر
* جارج ہیرس۔ عثمان علی اٹو، فرح عدید کا لیفٹیننٹ
باکس آفس کارکردگی
جب 28 دسمبر 2001ء کو پہلی بار فلم چھوٹے پیمانے پر 4 سینماؤں میں پیش کی گئی تو اس نے پہلے اختتام ہفتہ پر صرف 179،823 امریکی ڈالرز کی آمدنی حاصل کی۔ لیکن 18 جنوری 2002ء کو فلم بڑے پیمانے پر 3101 سینماؤں میں پیش کی گئی اور اس نے پہلے اختتام ہفتہ پر 28،611،736 ڈالرز کا کاروبار کیا اور اس طرح 2002ء میں پہلے ہفتہ میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم بن گئی۔ جب 14 اپریل 2002ء کو فلم سینماؤں سے اٹھائی گئی تو وہ 108،638،745 ڈالرز مقامی اور 64،350،906 ڈالرز بین الاقوامی طور پر کما چکی تھی اس طرح فلم کی کل عالمی آمدنی 172،989،651 ڈالرز بنتی ہے۔
خیر مقدم و تنقید
بلیک ہاک ڈاؤن کو ناقدین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔ روٹن ٹماٹوز پر اس کی ریٹنگ 76 فیصد ہے جبکہ میٹاکریٹک پر اس کو 74 کی ریٹنگ حاصل ہے۔ تاہم فلم کی پروپیگنڈہ انداز کہانی کے باعث اسے مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا خصوصا صومالیہ کے افراد کو جس طرح فلم میں پیش کیا گیا اس کے لیے اور امن افواج کے کردار کے حوالے سے۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب “ان دی لائن آف فائر” میں بھی اس فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس میں پاکستانی فوج کے کارنامے کو نمایاں کر کے پیش نہیں کیا گیا۔
اعزازات
فلم 4 آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی ، بہترین ہدایت کار (رڈلے اسکاٹ)، بہترین سینماٹوگرافی ، بہترین تدوین اور بہترین آواز تاہم اس میں سے آخر الذکر دو اعزازات (بہترین تدوین اور آواز) ہی حاصل کر پائی۔ یہ اعزازات پیٹرو اسکالیا کو بہترین تدوین پر اور مائیکل منکلر، مائرون نیٹنگا، کرس منروکو بہترین آواز پر دیے گئے۔
موشن پکچر ساؤنڈ ایڈیٹرز، امریکہ کی جانب سے 2002ء کا گولڈن ریل ایوارڈ برائے بہترین صوتی تدوین، صوتی اثرات اور فولے، مقامی فیچر فلم اور 2002ء ہیری ایوارڈ بھی بلیک ہاک ڈاؤن کو ملا۔
بہترین مکالمے
- اوٹو: تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ یہ ایک خانہ جنگی ہے۔ یہ ہماری جنگ ہے، تمہاری نہیں!
جنرل گیریزن: 3 لاکھ مر چکے اور مزید مر رہے ہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے اوٹو! یہ نسل کشی ہے۔
- ایورزمین: دیکھو، ان لوگوں کو، ان کے پاس روزگار نہیں ہے، غذا نہیں، تعلیم نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی مستقبل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم دو کام کر سکتے ہیں۔ یا تو ان ان کی مدد کریں یا پھر سکون سے بیٹھ جائیں اور سی این این پر ایک ملک کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھیں۔
- ایورزمین: تم ٹھیک ہو؟
ٹوڈ بلیک برن: بہت پرجوش۔ میں نے پوری زندگی اسی کی تربیت حاصل کی۔
ایورزمین: تم نے پہلے کبھی کسی پر گولی چلائی ہے؟
ٹوڈ بلیک برن: نہیں سارجنٹ۔
ایورزمین: میں نے بھی نہیں۔
- [ڈیورنٹ دورانِ تفتیش]
ڈیورنٹ: میری حکومت میری خاطر کبھی مذاکرات نہیں کرے گی۔
عبد اللہ ‘فرمبی’ حسن: تو ہم اور تم مذاکرات کر سکتے ہیں، ٹھیک ہے؟ دو سپاہی دوبدو۔
ڈیورنٹ: مجھے اس کا اختیار نہیں ہے۔
عبد اللہ ‘فرمبی’ حسن: بالکل نہیں ہے، تمہیں صرف مارنے کا اختیار حاصل ہے، مذاکرات کرنے کا نہیں۔ اور صومالیہ میں قتل کرنا ہی مذاکرات کرنا ہے۔
- عبد اللہ ‘فرمبی’ حسن: تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر تم جنرل عدید کو پکڑ لو گے، تو ہم آسانی سے ہتھیار ڈال دیں گے اور امریکی جمہوریت کو قبول کر لیں گے؟ اور کیا قتل عام رک جائے گا ؟ ہم جانتے ہیں، بغیر فتح کے کہیں امن قائم نہ ہوگا۔ اس لیے ہمہ وقت قتل عام جاری رہے گا، دیکھو، دنیا میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔
ٹریلر
یہ مضمون لکھنے کے لیے فلم کے بارے میں اردو وکیپیڈیا پر موجود مضمون سے مدد لی گئی ہے جو میں نے کسی زمانے میں لکھا تھا۔

11 تبصرے کیے گئے۔
جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ says:
Aug 2, 2010
ہمیں بھی اپنی جہالت بگھارنے کی اجازت ہے یہاں کیا ؟ بڑی تعریف سنی ہے آپکی اور دل کر رہا ہے کہ آپکو بھی کچھ تنگ کرنے کی کوشش کیجائے ۔
فیصل says:
Aug 4, 2010
بہترین فلم ہے. خصوصاَ انکے دیکھنے کیلیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بہتر ہتیار اور ٹیکنالوجی ہی کسی جنگ کو جیتنے کیلئے کافی ہوتے ہیں. ویسے تو اصل زندگی میں بھی افغانستان کی فلم کا ڈراپ سین ہونے والا ہی ہے. انشااللہ.
محمداسد says:
Aug 4, 2010
دلچپس تجزیہ اور ٹریلیر ہی سے فلم کی جاندار کہانی اور شاندار ادکاری کا ثبوت مل گیا۔ ابھی ڈاون لوڈ پر لگائے دیتے ہیں اور کل فرصت ملتے ہی دیکھتے ہیں۔
عین لام میم says:
Aug 6, 2010
بہت اچھا تجزیہ لکھا ہے فہد بھائی. آپکا اندازِ تحریر ہی’ وکیپیڈیائی‘ ہے…. تفصیل بہت خوب بیان کرتے ہیں، اور دلچسپی بھی برقرار رہتی ہے.
ایسا لگ رہا ہے کسی نے دسویں جماعت کی کاپی میں مضمون لکھا ہے اس فلم پہ. ہیڈنگز کے ساتھ اور اقوالِ زریں سے مزین…… D::lol:
فلم لگا دی ہے ڈاؤنلوڈ پہ… دیکھ لیتے ہیں کیا بنایا ہے آپکے رڈلے سکاٹ نے… p:
عمیر ملک says:
Aug 7, 2010
فلم واقعی اچھی ہے.
شیئر کرنے کا شکریہ
جعفر says:
Aug 7, 2010
کسی چینل پر دیکھی تھی ٹوٹوں کی صورت میں
مطلب چلتے پھرتے۔۔۔
ایکشن مناظر، عکاسی، سپیشل ایفیکٹس زبردست لگے مجھے۔۔۔
وقاراعظم says:
Aug 8, 2010
یہ فلم میں نے کئی سال پہلے دیکھی تھی. کیا زبردست پروپیگنڈہ فلم ہے جی کہ امریکی فوجی بڑے رحم دل ہوتے ہیں. گلی کوچوں میں دوبدو لڑائی کے دوران میں ان کی رحم دلی دیکھ کر ہنستا رہا. جنگجوئوں کی جانب سے آر.پی.جی جیسے معمولی ہتھیاورں کے ذریعے ہیلی کاپٹرز کو مارگرانے کے مناظر بہت زبردست ہیں.
طارق راحیل says:
Aug 11, 2010
دیکھ چکا ہوں مگر مجھے ایسی فلمیں پسند نہیں
اسد اللہ خان says:
Aug 26, 2010
فلم واقعی بہت اچھی ہے.
saim says:
Aug 27, 2010
nice movie
نورالدین says:
May 14, 2011
فلم کی کہانی واقعی پروپیگنڈے پر مبنی ہے ۔
کچھ کچھ دیکھی ہے ۔
غالباًپاکستانی سفارت خانے کا بھی ذکر ہے اس میں ۔
اس کے علاوہ سینماٹو گرافی بہت بہترین ہے اس کی ۔