﻿<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>فلمستانفلمستان | فلمستان</title>
	<atom:link href="http://filmistan.info/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://filmistan.info</link>
	<description>فلموں پر تبصرے و تجزیے مکمل اردو زبان میں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 12 Feb 2012 10:52:34 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>Contact</title>
		<link>http://filmistan.info/sciencefiction/contact</link>
		<comments>http://filmistan.info/sciencefiction/contact#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 12 Feb 2012 10:05:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>بلال امتیاز احمد</dc:creator>
				<category><![CDATA[سائنس فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈی فاسٹر]]></category>
		<category><![CDATA[رابرٹ زیمیکس]]></category>
		<category><![CDATA[کارل سیگن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://filmistan.info/?p=544</guid>
		<description><![CDATA[In all our searching, the only thing we’ve found that makes the emptiness bareable is our selves. ہماری زمین ابھی تک ساری کائنات میں واحد معلوم سیارہ ہے جس پر زندگی اپنی پوری آب و تاب سے موجود ہے، اور باوجود ہماری تلاش کے معلوم کائنات میں، جو کہ کروڑہا نوری سالوں پر محیط ہے، زندگی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ اس کے باوجود یہ بات 100 فیصد یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ہمارے اس چھوٹے سے سیارے سے پرے کوئی اور تہذیب یا زندگی موجود نہیں۔ کائنات میں زمین سے باہر زندگی کی یہ تلاش شروع ہوئے صرف چند دہائیاں ہی گزری ہیں اور اتنی جلدی نتائج اخذ یقینا جلد بازی ہے۔ کائنات کی مثال ایک لامتناہی بھوسے کے ڈھیر کی سی ہے اور اس میں کسی دوسری تہذیب کو ڈھونڈنا ایسا ہی کہ جیسے اس ڈھیر میں سوئی تلاش کی جائے، لیکن اگر اس کائنات میں ہمارے علاوہ کوئی اور بھی موجود تو اس سے ہمارا پہلا رابطہ کس طرح ہوگا؟ زیادہ سائنس دان یہی سمجھتے ہیں کہ یہ رابطہ ریڈیو سگنلز کے ذریعے ہوسکتا ہے کیونکہ یہ رابطے کا تیز ترین ذریعہ ہے۔1997ء میں ریلیز ہونے والی سائنس فکشن فلم &#8220;کانٹیکٹ&#8221; ایک ایسے ہی پہلے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;">In all our searching, the only thing we’ve found that makes the emptiness bareable is our selves.</p>
<p>ہماری زمین ابھی تک ساری کائنات میں واحد معلوم سیارہ ہے جس پر زندگی اپنی پوری آب و تاب سے موجود ہے، اور باوجود ہماری تلاش کے معلوم کائنات میں، جو کہ کروڑہا نوری سالوں پر محیط ہے، زندگی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ اس کے باوجود یہ بات 100 فیصد یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ہمارے اس چھوٹے سے سیارے سے پرے کوئی اور تہذیب یا زندگی موجود نہیں۔ کائنات میں زمین سے باہر زندگی کی یہ تلاش شروع ہوئے صرف چند دہائیاں ہی گزری ہیں اور اتنی جلدی نتائج اخذ یقینا جلد بازی ہے۔ کائنات کی مثال ایک لامتناہی بھوسے کے ڈھیر کی سی ہے اور اس میں کسی دوسری تہذیب کو ڈھونڈنا ایسا ہی کہ جیسے اس ڈھیر میں سوئی تلاش کی جائے، لیکن اگر اس کائنات میں ہمارے علاوہ کوئی اور بھی موجود تو اس سے ہمارا پہلا رابطہ کس طرح ہوگا؟ زیادہ سائنس دان یہی سمجھتے ہیں کہ یہ رابطہ ریڈیو سگنلز کے ذریعے ہوسکتا ہے کیونکہ یہ رابطے کا تیز ترین ذریعہ ہے۔1997ء میں ریلیز ہونے والی سائنس فکشن فلم &#8220;کانٹیکٹ&#8221; ایک ایسے ہی پہلے رابطے کی ایک کہانی ہے۔</p>
<p>سائنس فکشن کا نام لیتے ہی ذہن میں حقیقت سے ماوراء اور مافوق الفطرت کہانیاں آنے لگتی ہیں، حیرت انگیز صلاحیتوں کے حامل سپر ہیروز، جدید ترین خلائی جہاز اڑاتی مضحکہ خیز شکلوں والی خلائی مخلوق اور مستقبل قریب میں روبوٹس کی بغاوت وغیرہ لیکن کانٹیکٹ ایک بالکل دوسری قسم کی فلم ہے، ویسے تو ہر سائنس فکشن کہانی کو سائنسی اصولوں سے قریب تر رکھنے کی کوشش کی جاتی لیکن اگر کوئی کہانی عین سائنسی اصولوں کے مطابق لکھی گئی ہے تو وہ یہ فلم ہے۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://filmistan.info/wp-content/uploads/contact-poster.jpg"><img class="aligncenter  wp-image-591" title="contact-poster" src="http://filmistan.info/wp-content/uploads/contact-poster.jpg" alt="" width="407" height="604" /></a></p>
<p>اس فلم کی کہانی کسی فکشن رائٹر کی بجائے ایک مشہور امریکی فلکیات دان کارل سیگن نے لکھی ہے۔ 1979ء میں کارل سیگن نے اپنی مشہور ترین ٹی وی سیریز &#8220;کاسموس&#8221; کے بعد ایک سائنس فکشن فلم کا اسکرین پلے وانر برادرز اسٹوڈیو کے لئے لکھنا شروع کیا لیکن وارنر برادرز نے جلد ہی فلم بنانے کا منصوبہ ترک کردیا، لیکن کارل سیگن اور ان کے اہلیہ این ڈریان نے کہانی پر کام جاری رکھا اور ستمبر 1985ء میں یہ کہانی ناول کی صورت میں شائع کی گئی۔ این ڈریان کے مطابق &#8220;کارل اور میرا خواب یہ تھا کہ ہم کچھ ایسا لکھیں جو کہ اصل رابطے کی قریب ترین خیالی شکل ہو&#8221;، اور حقیقت یہی ہے کہ سائنس فکشن فلموں میں دکھائے گئے یہ نظریات کہ خلائی مخلوق اڑن طشتریوں میں سفر کرتے ہوئے زمین پر آتی ہیں اور انسانوں کو اغواء کرکے لے جاتی ہیں محض انسانی تخیل ہے۔ 1996ء میں وارنر برادرز اسٹوڈیو نے فلم پر دوبارہ کام شروع کیا۔ کینسر کے عارضے میں مبتلاء ہونے کے باوجود کارل سیگن نے فلم کی تیاری میں وارنر برادرز کی بھرپور مدد کی لیکن فلم ریلیز ہونے سے قبل دسمبر 1996ء میں وہ انتقال کرگئے۔ فلم کانٹیکٹ جولائی 1997ء میں ریلیز کی گئی،اس فلم پر 90 ملین ڈالرز کی لاگت آئی جبکہ فلم نے دنیا بھر میں 171 ملین ڈالرز کمائے۔</p>
<h3>کچھ فلمی سائنس</h3>
<h3></h3>
<p>فلم کی کہانی میں کئی سائنسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، اس لئے میرا خیال ہے کہ مندرجہ ذیل سائنسی معلومات سے آپ کو کہانی سمجھنے میں آسانی رہے گی۔</p>
<p><strong>ریڈیو فلکیات دانی:</strong> ریڈیو لہروں سے ہمارے ذہن میں ریڈیو اور ٹی وی نشریات آتی ہیں جنہیں ہم ریڈیو لہریں استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں نشر کرتے ہیں، لیکن بذاتِ خود ریڈیو لہریں نہ ہی آواز ہیں اور نہ ہی تصویر بلکہ ریڈیائی لہریں روشنی کی ایک قسم ہیں۔ روشنی کو اگر منشور سے گزارا جائے تو وہ بکھر جاتی ہے، اس بکھری ہوئی روشنی کا بہت چھوٹا سا حصہ ہم <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/File:EM_spectrum.svg">قوسِ قزح</a> کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں لیکن روشنی کا بہت بڑا حصہ ہم انسان دیکھ نہیں دیکھ سکتے، ریڈیائی ، بالائےبنفشی، زیریں سرخ، ایکس رے اور گاما شعائیں اسی نادیدہ روشنی کا حصہ ہیں۔ریڈیو فلکیات دانی کائنات میں کسی دوسری ترقی یافتہ سائنسی تہذیب کی تلاش کے لئے بہت کارآمد ہے ہم ریڈیو ٹیلی اسکوپ استعمال کرکے زمین تک پہنچنے والی ریڈئی لہروں کا تجزیہ کرسکتے ہیں اور ان میں کسی دوسری دنیا سے بھیجے گئے پیغام (دانستہ و نادانستہ) کو وصول کرسکتے ہیں۔</p>
<p><strong>آئن اسٹائن کا نظریہ خصوصی اضافیت</strong>: آئن اسٹائن کے مطابق ہم زمان و مکاں (ٹائم اور اسپیس) میں ایک متناسب سفر کررہے ہیں، اور اگر ہم اسپیس میں اپنی رفتار بڑھائیں تو وقت میں ہماری رفتار سست ہوجائے گی حتیٰ کہ روشنی کی رفتار کے قریب (99.9 فیصد) پر وقت تقریبا بلکل رک جائے گا، لیکن کوئی چیز 100 فیصد روشنی کی رفتار یا اس سے بڑھ کر سفر نہیں کرسکتی۔ وقت کے سست ہو نے کے اس عمل کو ٹائم ڈائلیشن کہتے ہیں اور یہ کئی تجربات سے ثابت ہوچکاہے۔ کائنات ناقابلِ بیان حد تک وسیع ہے اور اگر ہم معمول کی رفتار سے سفر کریں تو انسانی زندگی میں قریب ترین ستارے الفا سینٹوری تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے لیکن اس سائنسی اصول کے مطابق اگر ہم روشنی کی رفتار کے قریب سفر کریں تو ہمارے خلائی جہاز میں موجود تمام گھڑیاں (برقی، میکانی یا حیاتیاتی) سست ہوجائیں گےاور خلائی جہاز کے وقت کے مطابق ہم 21 سال میں کہکشاں ملکی وے کے وسط سے ہوکر واپس آسکتے ہیں لیکن زمین کے وقت کے مطابق 21 سال نہیں بلکہ 30 ہزار سال گزرچکے ہوں گے۔ (دسمبر 2011ء میں سوئٹزرلینڈ میں واقع تجربہ گاہ لارج ہیڈرون کولائیڈرمیں <a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2011/09/110923_light_speed_cern_rwa.shtml">ایک تجربے </a>کے دوران نیوٹرینو ذروں نے روشنی سے تیز سفر کرکے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔زیادہ تر سائنسدان وجوہات بتانے سے قاصر ہیں ، کچھ کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت میں واپسی کا سفر بھی ممکن ہےجبکہ ایک قلیل تعداد کے نزدیک نظریہِ خصوصی اضافیت کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرنے کا وقت آگیا ہے۔اضافیت کے بارے میں مزید پڑھنے کے لئے ساتھی بلاگر مکی کی کتاب &#8220;<a href="http://makki.urducoder.com/?p=461">ہم اضافیت اور کائنات</a>&#8221; کامطالعہ ضرور کریں۔)</p>
<p><a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Wormhole"><strong>ورم ہول</strong>: </a>اگر کائنات کی ہئیت سمجھنا مقصود ہو تو اس پر کئی پیراگراف لکھے جاسکتے ہیں لیکن اگر صرف فلم کو سمجھنا ہے تو یہ بذاتِ خود زماں و مکاں میں ایک شارٹ کٹ ہےجس سے گزرنے کے بعد کائنات میں کسی اور جگہ اور زمانے میں کسی اور وقت پہنچا جاسکتا ہے۔</p>
<h3>پلاٹ</h3>
<p>فلم کی کہانی ایک باصلاحیت سائنسدان ایلی نور ایروے (جوڈی فاسٹر) کے گرد گھومتی ہے جو کہ ایراسیبو آبزرویٹری، پورٹو ریکو میں ایس ای ٹی آئی (سرچ فار ایکسٹرا ٹیریسٹیئل انٹیلی جنس)  پروگرام پر کام کررہی ہوتی ہے، ڈیوڈ ڈرملن (ٹام سکیرٹ) جو کہ ایک سرکاری سائنسدان ہے ایس ای ٹی آئی پروگرام کے فنڈز رکوا دیتا ہے کیونکہ وہ اس پروگرام کو بیکار کی مشق سمجھتا ہے۔ایلی کے نزدیک یہ ایک اہم پروجیکٹ ہوتا ہے اس لئے وہ اس کام کے لئے نجی اداروں سے سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش اور کافی محنت کے بعد ایک ارب پتی کاروباری شخصیت ایس آر ہیڈن (جان ہرٹ) اس پروگرام کو اسپانسر کرنے پر راضی ہوجاتا ہے۔ ہیڈن انڈسٹریز سے حاصل ہونے والے سرمائے کی بدولت ایلی ایس ای ٹی آئی پروگرام کو سکارو کاؤنٹی نیومیکسیکو میں واقع وی ایل اے (ویری لارج ایرے) ریڈیو آبزرویٹوری میں جاری رکھتی ہے۔</p>
<p>چار سال بعد ایلی اپنی عادت کے مطابق ریڈیو ٹیلی اسکوپ کے ذریعے موصول ہونے والے سگنلز کو سن رہی ہوتی ہے کہ اسے ایک انتہائی طاقت ور سگنل موصول ہونا شروع ہوتا ہے۔ یہ سگنل آسمان پر پانچویں چمکدار ترین ستارے ویگا کی قریب سے آرہا ہوتا ہے۔ شروع میں تو سگنل کافی دیر تک ایک مستقل اتار چڑھاوَ رکھتا ہے لیکن بعد میں اتار چڑھاوَ میں وقفہ آنے لگتا ہے اور یہ درمیانی وقفہ سگنل کو پرائم اعداد (ایسے اعداد جوصرف خودپر اور ایک پر ہی مکمل تقسیم ہوسکتے ہیں) کی صورت میں ظاہر کرنے لگتا ہے۔ مستقل اتار چڑھاؤ والے سگنل کا منبع قدرتی بھی ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر <a href="http://ghaziusman.blogspot.com/2012/02/blog-post_04.html">پلسار </a>وغیرہ, لیکن <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Prime_number">پرائم اعداد</a> کی پیچھے یقینا کسی کا ذہن کام کررہا ہے یعنی ایسا سگنل صرف سوجھ بوجھ رکھنے والی سائنسی طور پر ترقی یافتہ مخلوق کی طرف سے ہی بھیجا جاسکتا ہے۔ 26 نوری سال کے فاصلے سے آنے والا یہ پیغام کسی بھی دوسری تہذیب کا انسانی تہذیب سے پہلا رابطہ ہوتا ہے۔ یہ اپنی نوع کا عظیم ترین واقعہ ہوتا ہے، اس لئے قومی مشیر برائے دفاع مائیکل کٹز (جیمز ووڈ) اور صدارتی مشیر برائے سائنس ڈیوڈ ڈرملن وی ایل اے آبزرویٹوری کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ایلی اور مائیکل کٹز کے درمیان بحث چھڑ جاتی ہے۔ اسی دوران سگنل کا مزید تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کے ایک اور سگنل جو کہ ویڈیو ہے وہ بھی موصول ہورہا ہے۔ ٹی وی مانیٹر پر دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ 1936ء کے برلن اولمپکس کی افتتاحی تقریب سے ایڈولف ہٹلر کے خطاب کا ایک ویڈیو کلپ ہے۔</p>
<p>دراصل 1936ء کے برلن اولمپکس میں ہٹلر کا خطاب وہ پہلا طاقتور ٹی وی سگنل تھا جو خلاء میں سفر کرسکتا تھا یہ سگنل 26 سال مسلسل سفر کرنے کے بعد ویگا تک پہنچا۔ وہاں کے باشندوں نے اسے ریکارڈ کرکے دوبارہ زمین کی طرف نشر کیا تاکہ اپنی موجودگی کا اعلان کرسکیں۔ مزید تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس سگنل میں صرف ہٹلر کی ویڈیو ہی نہیں بلکہ 60 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل تحریر موجود ہے۔ حکومت کی جانب سے اس تحریر کا ترجمہ (ڈی کوڈ) کرنے کے لئے ماہرین کے خدمات حاصل کی جاتیں ہیں لیکن ماہرین کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی ایسے میں ایلی کا محسن اور اسپانسر ایس آر ہیڈن ایلی کو بتاتا ہے کہ یہ صفحات سہہ جہتی (تھری ڈی) ترتیب سے لگائے جائیں تو ازخود ترجمے میں مددگار مساوات فراہم کردیں گے۔ جب ان مساوات کے ذریعے ان صفحات کا ترجمہ کیا گیا تو یہ ایک مشین تیار کرنے کا ہدایت نامہ تھا۔ ایک مشین جو صرف ایک مسافر کو ایک دوسری دنیا میں آباد ایک مختلف تہذیب تک لے جائے۔ ایسی مشین بنانے پر جو انتہائی مہنگی ہو، اور جس کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اسے بنانا محفوظ ہے کہ نہیں، کئی لوگوں کے تحفظات ہوتے ہیں لیکن کافی مباحثے کے بعد حکومت اسے بنانے پر راضی ہوجاتی ہے۔</p>
<p>اب یہ مشین کام کرتی ہے یا نہیں، اس میں بیٹھ کر بنی نوع انسان کا نمائندہ بن کر ایک دوسری تہذیب کے باشندوں کے کے پاس جانے کا موقع کسے ملتا ہے؟ اور چھبیس نوری سال کا سفر کرنے کے بعد آخر کس سے ملاقات ہوتی ہے، یہ فلم دیکھے بغیر معلوم ہوجائے تو پھر مزا نہیں آئے گا۔</p>
<h3>تبصرہ</h3>
<p>&#8220;کانٹیکٹ&#8221; خلائی مخلوق کے موضوع پر ایک بہت الگ اور میرے نزدیک سب سے بہترین فلم ہے، فلم کی کہانی ایک فلکیات دان کے ناول پر مبنی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فلم محض سائنسی، جذبات سے عاری اور بور ہوگی، جن لوگوں نے کارل سیگن کی ٹی وی سیریز کاسموس دیکھ رکھی ہے وہ جانتے ہونگے کہ کارل سیگن کا انداز کتنا تخلیقی ہے۔ فلم میں کہانی کو بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے، کہانی میں جذبات بھی ہیں اور محبت بھی ،سائنس اور مذہب کی قدیم بحث بھی اور خود سائنسدانوں میں موجود پیشہ ورانہ رقابت بھی۔ </p>
<p>فلم میں گرافکس کا بھی شاندار استعمال کیا گیا ہے،۔فلم کاآغاز ہی ہمارے نظامِ شمسی کے خوبصورت منظر سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت کے امریکی صدر کے بل کلنٹن کی اس تقریر کو جو انہوں نے مریخ پر زندگی کے آثار ملنے پر کی تھی، کو ایڈیٹنگ کے ذریعے فلم کا حصہ بنایا گیا ہے۔جوڈی فاسٹر جنہوں نے ایلی ایروے کا کردار نبھایا ہے، کمال کی اداکاری کی ہے۔ ناظرین کے جانب سے فلم کو اچھی ریٹنگز دی گئی ہیں اور ویب سائٹ روٹن ٹماٹوز پر اسکی ریٹنگ 6.8 ہے۔</p>
<h3>ٹریلر</h3>
<h3><iframe src="http://www.youtube.com/embed/SRoj3jK37Vc?rel=0" frameborder="0" width="560" height="315"></iframe></h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/sciencefiction/contact/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Inception</title>
		<link>http://filmistan.info/sciencefiction/inception</link>
		<comments>http://filmistan.info/sciencefiction/inception#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 08 Feb 2012 11:54:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جعفر</dc:creator>
				<category><![CDATA[سائنس فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[لیونارڈو ڈی کیپریو]]></category>
		<category><![CDATA[کرسٹوفر نولان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://filmistan.info/?p=554</guid>
		<description><![CDATA[میرے خیال میں تو کسی بھی غیر معمولی کتاب یا فلم کو جانچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دوبارہ پڑھنے اور دیکھنے پر وہ کتاب یا فلم آپ کو مجبور کرتی ہے یا نہیں۔ کرسٹوفر نولان کی جتنی فلمیں میں نے دیکھی ہیں ان سب میں یہ خاصیت بدرجہ اتّم موجود ہے۔ بلکہ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس کی فلموں کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ایک دفعہ دیکھنا میرے لیے کافی نہیں ہوتا سوائے &#8220;ڈارک نائٹ&#8221; کے۔ لیکن اس کو بھی &#8220;جوکر&#8221; کے لیے بار بار دیکھنا پڑا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ سائنس فکشن فلموں سے مجھے کبھی رغبت نہیں رہی۔ ٹرانسفارمرز نے چاہے اربوں ڈالرز کما لیے ہوں لیکن میرے لیے ایسی فلمیں ٹکے کی نہیں ہوتیں۔ انسپشن بارے جب پہلی دفعہ سنا تو اس کے ساتھ لگے ہوئے سائنس فکشن کے دم چھلّے کی وجہ سے مجھے مایوسی سی ہوئی کہ یہ نولان میاں کس طرف نکل گئے۔ بہرحال &#8220;کَوڑا گھُٹ&#8221; کرکے انسپشن کو دیکھنے کا ارادہ کیا۔ اگر میں نے اس دفعہ میٹرک کے امتحان دینے ہوتے تو اردو &#8220;ب&#8221; کے پرچے میں &#8220;سحر زدہ کرنا&#8221; کا جملہ بنانا میرے لیے بہت آسان ہوجاتا۔ یہ فلم اور سب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میرے خیال میں تو کسی بھی غیر معمولی کتاب یا فلم کو جانچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دوبارہ پڑھنے اور دیکھنے پر وہ کتاب یا فلم آپ کو مجبور کرتی ہے یا نہیں۔ کرسٹوفر نولان کی جتنی فلمیں میں نے دیکھی ہیں ان سب میں یہ خاصیت بدرجہ اتّم موجود ہے۔ بلکہ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس کی فلموں کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ایک دفعہ دیکھنا میرے لیے کافی نہیں ہوتا سوائے &#8220;ڈارک نائٹ&#8221; کے۔ لیکن اس کو بھی &#8220;جوکر&#8221; کے لیے بار بار دیکھنا پڑا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://filmistan.info/wp-content/uploads/inception.jpg"><img class="aligncenter  wp-image-570" title="inception" src="http://filmistan.info/wp-content/uploads/inception-702x1024.jpg" alt="" width="421" height="614" /></a></p>
<p>سائنس فکشن فلموں سے مجھے کبھی رغبت نہیں رہی۔ ٹرانسفارمرز نے چاہے اربوں ڈالرز کما لیے ہوں لیکن میرے لیے ایسی فلمیں ٹکے کی نہیں ہوتیں۔ انسپشن بارے جب پہلی دفعہ سنا تو اس کے ساتھ لگے ہوئے سائنس فکشن کے دم چھلّے کی وجہ سے مجھے مایوسی سی ہوئی کہ یہ نولان میاں کس طرف نکل گئے۔ بہرحال &#8220;کَوڑا گھُٹ&#8221; کرکے انسپشن کو دیکھنے کا ارادہ کیا۔ اگر میں نے اس دفعہ میٹرک کے امتحان دینے ہوتے تو اردو &#8220;ب&#8221; کے پرچے میں &#8220;سحر زدہ کرنا&#8221; کا جملہ بنانا میرے لیے بہت آسان ہوجاتا۔ یہ فلم اور سب کچھ ہوسکتی ہے لیکن نام نہاد سائنس فکشن زمرے میں اسے شامل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اسی کسی بھی متعین زمرے میں ڈالنا اس فلم کے ساتھ زیادتی ہے۔</p>
<p>فلم کی کہانی ایک خوابی چور کے گرد گھومتی ہے جو لوگوں کے ذہن میں ان کے خوابوں کے ذریعے داخل ہوکر ان کے راز چراتا ہے۔ کہانی کے بارے میں کچھ اور بتانا فلم کے مزے کو پھسپھسا کرسکتا ہے لہذا اسی پر اکتفا کریں اور کم از کم ایک بار فلم ضرور دیکھیں۔ دوسری ، تیسری اور چوتھی بار یہ فلم آپ کو خود ہی دکھوا لے گی۔</p>
<p>فلم کے ہدایتکار بارے تو آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ کرسٹوفر نولان ہے۔ فلم کے مصنف بھی یہی حضرت ہیں۔ یار، بندے کو اتنا ٹیلنٹڈ بھی نہیں ہونا چاہیے!</p>
<p>مرکزی کردار لیونارڈو ڈی کیپریو نے نبھایا ہے۔ ڈیپارٹڈ اور <a href="http://filmistan.info/featured/shutter-island">شٹر آئی لینڈ </a>کے بعد اس فلم میں ڈی کیپریو کی پرفارمنس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اس دور کا رابرٹ ڈی نیرو ہے بلکہ میری رائے میں تو اس سے بھی بہتر ہے۔ ٹائی ٹینک کے پپّو بچّے سے کم از کم مجھے تو یہ امید کبھی نہیں تھی کہ وہ اتنی منجھی ہوئی، پیچیدہ اور &#8220;مردانہ&#8221; قسم کی پرفارمنس دے سکتا ہے۔ فلم کے دوسرے اہم اداکاروں میں جوزف گورڈن لیوٹ، ایلن پیج، ٹام ہارڈی، ٹام فشر، میرین کوٹلرڈ وغیرہ شامل ہیں۔ جوزف گورڈن لیوٹ کو اس سے پہلے میں نے &#8220;ڈیزآف سمر&#8221;میں دیکھا تھا، اور اس کی اداکاری کا قائل ہوا تھا۔ اس فلم میں اس نے ثابت کیا کہ میں غلط نہیں تھا۔ ٹام ہارڈی اور ایلن پجس کی کارکردگی بھی درجہ اول (بناسپتی نہیں) کی ہے۔</p>
<p>اب میرا کہنا مانیں اور اس ریویو کا پچھا چھوڑ کر اس فلم کو دیکھنے کا بندوبست کریں۔ اب تک آپ کو پتہ تو چل ہی گیا ہوگا کہ میری تجویز کردہ فلمیں بری چاہے ہوں، بور نہیں ہوتیں۔</p>
<h3>ٹریلر</h3>
<p style="text-align: center;"><iframe src="http://www.youtube.com/embed/_zfMZaLoAsY?rel=0" frameborder="0" width="560" height="315"></iframe></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/sciencefiction/inception/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Sense and Sensibility</title>
		<link>http://filmistan.info/drama/sense-and-sensibility</link>
		<comments>http://filmistan.info/drama/sense-and-sensibility#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Feb 2012 11:24:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>سلمان غنی</dc:creator>
				<category><![CDATA[ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایلن رک مین]]></category>
		<category><![CDATA[ایما تھامسن]]></category>
		<category><![CDATA[اینگ لی]]></category>
		<category><![CDATA[جین آسٹن]]></category>
		<category><![CDATA[لنڈسے ڈورن]]></category>
		<category><![CDATA[کیٹ ونسلیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ہو گرانٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://filmistan.info/?p=519</guid>
		<description><![CDATA[سینس اینڈ سینسی بلیٹی برطانیہ میں ریلیز ہوئی ایک ڈرامہ فلم ہے جس کی کہانی اسی نام کے مشہور زمانہ ناول سے اخذ کی گئی ہے۔1811ء میں شائع ہوئے اس ناول کو انگریزی ادب کی معروف ناول نگار جین آسٹن نے لکھا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر لنڈسے ڈورن آسٹن کی تحریروں کے شیدائی تھے۔ انہوں نے اس فلم کا اسکرپٹ تحریر کرنے کیلئے ایما تھامسن کو منتخب کیا جنہوں نے فلم میں ایلانور ڈیش ووڈ کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ ایما تھامسن کی چھوٹی بہن کا کردار کیٹ ونسلیٹ نے نبھایا ہے۔ دراصل اسی فلم نے کیٹ ونسلیٹ کے کامیاب کیریئر کی بنیاد رکھی۔ جس کے بعد انہوں نے شہر آفاق فلم &#8220;ٹائی ٹینک&#8221; میں اداکاری کے جوہر دکھا کر ہالی ووڈ میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ فلم کی نمائش کے بعد انگریزی ادب کیلئے جین آسٹن کے بیش بہا خدمات کو مزید سراہا گیا اور ان کے اس ناول کی کہانی کئی دوسری فلموں اور ٹیلی وژن ڈراموں میں منتقل کی گئی۔ مایہ ناز ناقدین تو اس فلم کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں۔ لیکن کیونکہ میں ذاتی طور پر ناول پر مبنی ڈرامہ اور فلمیں دیکھنا پسند کرتا ہوں اس لیے اگر آپ اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سینس اینڈ سینسی بلیٹی برطانیہ میں ریلیز ہوئی ایک ڈرامہ فلم ہے جس کی کہانی اسی نام کے مشہور زمانہ ناول سے اخذ کی گئی ہے۔1811ء میں شائع ہوئے اس ناول کو انگریزی ادب کی معروف ناول نگار جین آسٹن نے لکھا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر لنڈسے ڈورن آسٹن کی تحریروں کے شیدائی تھے۔ انہوں نے اس فلم کا اسکرپٹ تحریر کرنے کیلئے ایما تھامسن کو منتخب کیا جنہوں نے فلم میں ایلانور ڈیش ووڈ کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ ایما تھامسن کی چھوٹی بہن کا کردار کیٹ ونسلیٹ نے نبھایا ہے۔ دراصل اسی فلم نے کیٹ ونسلیٹ کے کامیاب کیریئر کی بنیاد رکھی۔ جس کے بعد انہوں نے شہر آفاق فلم &#8220;ٹائی ٹینک&#8221; میں اداکاری کے جوہر دکھا کر ہالی ووڈ میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ فلم کی نمائش کے بعد انگریزی ادب کیلئے جین آسٹن کے بیش بہا خدمات کو مزید سراہا گیا اور ان کے اس ناول کی کہانی کئی دوسری فلموں اور ٹیلی وژن ڈراموں میں منتقل کی گئی۔</p>
<p><a href="http://filmistan.info/wp-content/uploads/sense-and-sensibility-poster.jpg"><img class="aligncenter size-medium wp-image-522" title="sense-and-sensibility-poster" src="http://filmistan.info/wp-content/uploads/sense-and-sensibility-poster-203x300.jpg" alt="" width="203" height="300" /></a></p>
<p>مایہ ناز ناقدین تو اس فلم کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں۔ لیکن کیونکہ میں ذاتی طور پر ناول پر مبنی ڈرامہ اور فلمیں دیکھنا پسند کرتا ہوں اس لیے اگر آپ اس فلم کو دیکھنا چاہتے ہیں اور اصل ناول نہیں پڑھا تو میرا مشورہ ہوگا کہ پہلے آپ ناول پڑھ لیں۔ فلم دیکھنے کے بعد اس کہانی پرمبنی ناول کو پڑھنا بے مزہ ہو جاتا ہے۔ لیکن ناول پڑھنے کے بعد اس پر بنی ہوئی فلم دیکھنے کا لطف الگ ہی ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ فلم رومانوی ضرور ہے لیکن اس میں شکستہ دل پر گزرنے والی کیفیات کا بھر پوراحاطہ کیا گیا ہے۔ اس فلم میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم جسے پسند کرتے ہیں ضروری نہیں کہ ہماری زندگی کی خوشیاں اسی سے وابستہ ہو جائیں بلکہ عین ممکن ہے کہ یہی پسند ہمارے لئے تاحیات غم کا سامان بن جائے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں کئی ایسی شخصیات سے انسان کا سابقہ پیش آتا ہے جو بظاہر تو بے حد دیدہ زیب اور پر کشش ہوتے ہیں لیکن ان کی سیرت پر ایسے سیاہ دھبے بھی ہوتے ہیں جنہیں انکی صورت ظاہری پوشیدہ کئے ہوتی ہے۔ ان سیاہ دھبوں کی غلاظت و کسافت اکثر حادثاتی یا اتفاقی طور پر عیاں ہوتی ہے۔یہ فلم دراصل اسی پر فریب عشق کی داستان بیان کرتی ہے جس میں مبتلا ہو کر ایک انسان کسی فریبی کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اسی کو اپنی تمام خوشیوں کا محور و مرکز اور غم و الم کا مداوا سمجھ بیٹھتا ہے۔لیکن حقیقت اس کے عین برعکس ہوتی ہے۔ یہ اصول دائمی ہے کہ انسان کی تمام خوشیاں کسی فرد واحد کے ساتھ وابستہ ہو ہی نہیں سکتیں۔ اگر ایسا ہو تو دنیا میں رہنے والا کوئی شخص خوشگوار زندگی بسر کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ کسی فریبی کا فریب بجائے خود اس امر کا گواہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی کو خوش رکھنے کے قابل ہی نہ تھا۔ فریب کھانے والے پر جوں ہی یہ حقیقت آشکار ہو تی ہے اس کے شکستہ دل کو خود بخود حوصلہ اور طاقت ملنا شروع ہو جا تی ہے۔</p>
<p>فلم کی کہانی کی اصل شروعات مسٹر ڈیش ووڈ(ٹام ولکن سن) کی تین بیٹیوں کے تعارف کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایلانور (ایما تھامسن) سنجیدہ اور باشعور خاتون ہیں جو اپنی شادی کی عمر کے اختتامی مراحل میں ہیں، ماریان (کیٹ ونسلیٹ) ان کی شوخ اور جزباتی منجھلی بہن ہیں۔ اور11سالہ مارگریٹ (ایملی فرینکوئس) سب سے چھوٹی بہن جو ماریان کے نقش قدم پر چلنا پسند کرتی ہے۔ یہ تینوں مسٹر ڈیش ووڈ کے انتقال کے بعد اپنی سوتیلی والدہ(ہاریٹ والٹر ) اور سوتیلے بھائی جان(جیمس فلیٹ) کے ذریعہ جائداد سے بے دخل کر دی جاتی ہیں اور ایک چھوٹے سے شہر ڈیون شائر میں اپنی والدہ مسز ڈیش ووڈ(جیما جونز) کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ دریں اثنا اتفاقی طور پر ان تینوں بہنوں کی زندگی میں تین مختلف المزاج مرد آتے ہیں۔ ایڈورڈ فیرس (ہیو گرانٹ) جو ایک بااخلاق لیکن کم سخن مرد ہیں پہلی ملاقات کے بعد ہی ایلانور کے دل پر اپنا قبضہ جما لیتے ہیں۔ کرنل برانڈن (ایلن رک مین) ایک بہادر ، خوبرو مگر قدر ےشرمیلے ہیں، ماریان پر فریفتہ ہوتے ہیں جبکہ ماریان حادثاتی طور پر ایک پر کشش اور خوبصورت نوجوان جان ویلوبی (گریگ وائس) کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی ہیں۔ فلم کی کہانی ان کے مہذب معاشقے کے درمیان دلچسپ انداز میں گردش کرتی ہے۔جس میں کامیاب اور ناکام،حقیقی اور پر فریب محبت کے احساسات اور اس کے انجام کو دلکش انداز میں دکھایا گیا ہے۔اگر آپ ایکشن ، ایڈونچر اور مار دھاڑ سے بھرپور فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں تو اس فلم پر محض آپ کا وقت ضائع ہوگا۔ ایما تھامسن کی اداکاری تمام کرداروں پر حاوی ہے۔ انہوں نے اپنی ہی تیار کی ہوئی اسکرپٹ پر زبردست کام کیا ہے۔ ایلن رک مین کا سنجیدہ اور پرسکون کردار دیکھنے لائق ہے۔</p>
<h3>تنقید و اعزازات</h3>
<p>فلم کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ نیو یار ک ٹائمز کی مشہور ناقد جینٹ ماسلن نے فلم کو تفریح سے بھرپوراور دور حاضر کی مہذب ترین فلم بتایا۔ یہ فلم سات اکیڈمی اور 11 برٹش اکیڈمی یعنی بافٹا ایوارڈز کے علاوہ کئی اعزازات کے لئے نامزد کی گئی۔ جن میں اسے بہترین ماخوذ اسکرین پلے(Best Adapted Screen Play) کیلئے آسکر ایوارڈ اور بہترین فلم ، بہترین اداکاری( ایما تھامسن)، بہترین معاون اداکاری(کیٹ ونسلیٹ) کیلئے بافٹا ایوارڈ کا اعزاز حاصل ہوا۔</p>
<h3>اضافی معلومات</h3>
<p>ایملی فرینکوئس نے اس فلم میں مسٹر ڈیش ووڈ کی سب سے چھوٹی بیٹی مارگریٹ ڈیش ووڈ کا کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے اس فلم کے بعد 1997ء میں پاز (Paws)اور 2001ء میں نیو یارکس ڈے (New York&#8217;s day)میں کام کیا۔ 2003ء میں اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر وہ مسلمان ہو گئیں۔اب ان کا نام مریم ہے ۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور برطانیہ میں اسلام پر ہونے والے ٹی وی مباحثوں میں شرکت کرتی ہیں ۔ فری لانس صحافی کی حیثیت سے ان کے مضامین اکثر برطانیہ اور امریکہ کے انگریزی اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ حالات حاضرہ پر ان کے مضامین ان کے ذاتی بلاگ http://myriamfrancoiscerrah.wordpress.com/ پر بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔</p>
<h3>ٹریلر</h3>
<p style="text-align: center;">
<iframe src="http://www.youtube.com/embed/Ns17RQr1yK8?rel=0" frameborder="0" width="420" height="315"></iframe></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/drama/sense-and-sensibility/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Fair Game</title>
		<link>http://filmistan.info/drama/fair-game</link>
		<comments>http://filmistan.info/drama/fair-game#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Jan 2012 05:36:39 +0000</pubDate>
		<dc:creator>بلال امتیاز احمد</dc:creator>
				<category><![CDATA[سنسنی خیز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[سین پین]]></category>
		<category><![CDATA[نومی واٹس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈوگ لیمان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://filmistan.info/?p=424</guid>
		<description><![CDATA[آج کل اخبارات میں میمو گیٹ اسکینڈل کا بہت چرچا ہے اور اگر جوکچھ کہا جارہا ہے وہ صحیح ثابت ہوگیا تو پاکستان کے سربراہ مملکت پر غداری کا مقدمہ بن سکتا ہے، یہ سب میں ایک فلمی ویب سائٹ پر کیوں کہہ رہا ہوں؟؟ دراصل یہ اسکینڈل مجھے ایسے ہی ایک واقعے کی یاد دلاتا ہے جو کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی کے لئے وبال جان بنا اور جس طرح میموگیٹ اسکینڈل میں حسین حقانی کو قربانی کا بکرا بناکر اصل شخصیت کو بچایا جارہا ہے اسی طرح امریکہ میں بھی ڈک چینی کی جگہ لوئس لبی کی قربانی دی گئی اور عدالت سے سزا ملنے کے بعد امریکی صدر جارج بش نے لوئس لبی کو اسی طرح معاف کردیاجیسے صدرزرداری نے رحمان ملک کی سزا معاف کرکے انہیں جیل جانے سے بچایا تھا، اس اسکینڈل کو پلیم گیٹ اسکینڈل کہاجاتا ہے اور فیئر گیم اسی واقعے پر مبنی فلم ہے۔یہاں میں بجائے فلم کے پلاٹ کو بیان کرنے کے پلیم گیٹ اسکینڈل کو بیان کروں گا تاکہ فلم کے لئے کچھ تجسس باقی رہے۔ عراق پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام کچھ نیانہیں تھا لیکن جنوری 2003ء کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج کل اخبارات میں میمو گیٹ اسکینڈل کا بہت چرچا ہے اور اگر جوکچھ کہا جارہا ہے وہ صحیح ثابت ہوگیا تو پاکستان کے سربراہ مملکت پر غداری کا مقدمہ بن سکتا ہے، یہ سب میں ایک فلمی ویب سائٹ پر کیوں کہہ رہا ہوں؟؟ دراصل یہ اسکینڈل مجھے ایسے ہی ایک واقعے کی یاد دلاتا ہے جو کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی کے لئے وبال جان بنا اور جس طرح میموگیٹ اسکینڈل میں حسین حقانی کو قربانی کا بکرا بناکر اصل شخصیت کو بچایا جارہا ہے اسی طرح امریکہ میں بھی ڈک چینی کی جگہ لوئس لبی کی قربانی دی گئی اور عدالت سے سزا ملنے کے بعد امریکی صدر جارج بش نے لوئس لبی کو اسی طرح معاف کردیاجیسے صدرزرداری نے رحمان ملک کی سزا معاف کرکے انہیں جیل جانے سے بچایا تھا، اس اسکینڈل کو پلیم گیٹ اسکینڈل کہاجاتا ہے اور فیئر گیم اسی واقعے پر مبنی فلم ہے۔یہاں میں بجائے فلم کے پلاٹ کو بیان کرنے کے پلیم گیٹ اسکینڈل کو بیان کروں گا تاکہ فلم کے لئے کچھ تجسس باقی رہے۔</p>
<p><a href="http://filmistan.info/wp-content/uploads/fair-game.jpg"><img class="aligncenter size-medium wp-image-534" title="fair-game" src="http://filmistan.info/wp-content/uploads/fair-game-202x300.jpg" alt="" width="202" height="300" /></a></p>
<p>عراق پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام کچھ نیانہیں تھا لیکن جنوری 2003ء کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں سابق امریکہ صدرجارج بش کے وہ مشہور سولہ الفاظ کہ ”برطانوی حکومت کو حال ہی میں علم ہوا ہے کہ صدام حسین افریقہ نے افریقہ سےبھاری مقدار میں یورینیم حاصل کرنے کی کوشش کی ہے“،عراق پر امریکی قبضے کا باعث بنے۔ امریکی حملے سے قبل ہی امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے عراق کی جوہری صلاحیت کے بارے میں تحقیقات کررہا تھا۔ ویلیری پلیم ولسن جو کہ سی آئی اے کہ ایک خفیہ اہلکار تھیں ان تحقیقات میں شامل تھی ، ادارے میں ویلیری کی ذمہ داری جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنا تھا۔ فروری 2002ء میں سی آئی اے نے ایک اطلاع کہ عراق نے افریقی ملک نائیجر سے یورینیم خریدنے کا سودا کیا ہے، کی تفتیش کرنے کے لئے ویلیری پلیم ولسن کے شوہر جوزف ولسن کی خدمات حاصل کیں کہ وہ نائیجر جاکر اس معاملے کہ تحقیقات کریں ۔جوولسن ایک سابق امریکی سفارت کار ہیں جو کہ پہلی خلیجی جنگ کے دوران بغداد میں قائم مقام امریکی سفیر تھے اور بعد ازاں نائیجر میں بھی تعینات رہے۔ پہلی خلیجی جنگ کے دوران صدام حسین نے ان سمیت تمام غیر ملکی سفیروں کو دھمکی دی تھی کہ جو کوئی بھی غیر ملکیوں کو اپنے سفارت خانے پناہ دے گا اس کے سزا سزائے موت ہوگی، جو ولسن اس دھمکی کا جواب ایک پریس کانفرنس میں دیا جہاں خود بنایا ہوا پھانسی کا پھندا پہن کر آئے اور کہا کہ ”اگر فیصلہ یہ ہے کہ امریکی شہریوں کو یرغمال بنایا جائے یا قتل کیا جائے تو میں اپنے لئے رسی خود لے کر آیا ہوں“۔ صدام حسین کی دھمکی کے باوجود نہ جوولسن نے نہ صرف سو سےزائد امریکی شہریوں کو سفارت خانے میں پناہ دی بلکہ ہزاروں افراد {امریکی اور غیرامریکی } کو عراق سے نکلنے میں بھی مدد دی، امریکہ واپسی پر ان کا صدر جارج بش سینئر نے استقبال کیا اور انہیں ایک اصل امریکی ہیرو قرار دیا یہی وجہ ہے کہ جوولسن امریکہ میں جانے پہچانے اور قابل احترام تھے۔نائیجر میں اپنی اس تفتیش کے دوران جوزف اس اطلاع کہ عراق نائیجر سے یورینیم حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے کے صحیح ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور امریکہ واپسی پر انہوں نے ایک رپورٹ سی آئی اے کو دی کہ اطلاع جھوٹی ہے اور عراق کا نائیجر سے یورینیم حاصل کرنا ممکن نہیں ، یہی نہیں بلکہ ویلیری کی جانب سے عراقی جوہری سائنسدانوں سے بالواسطہ تفتیش نے بھی یہی ثابت کیا کہ عراق کے پاس جوہری یا وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے ہتھیار موجود نہیں اور ناہی وہ انہیں حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہےلیکن اس کے باوجود جب جنوری 2003ء کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں جارج بش نےعراق پر الزام لگایا کہ اس نے ایک افریقی ملک سے یورینیم حاصل کیا ہے تو جوزف ولسن نے 6 جولائی 2003ء کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل بنام ”میں نے افریقہ میں کیا نہیں پایا“ لکھا جس میں انہوں یہ انکشاف کیا کہ سی آئی اے نے انہیں اس معاملے کہ تفتیش کہ لئے نائیجر بھیجا تھا اور ایسے کچھ نہیں ہے۔</p>
<p>جو ولسن کا یہ چھوٹا سا آرٹیکل وائیٹ ہاؤس کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھا کیونکہ اس آرٹیکل نے عراق پر امریکی حملے کے جواز کو ایک جھوٹ قرار دے دیا تھا، میڈیامیں اس معاملے کی خوب تشہیر ہوئی اور امریکی حکومت پر اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا دباوَ پڑنے لگا۔ اس آرٹیکل کے شائع ہونے کے ایک ہفتہ بعد صحافی رابرٹ نویک کا ایک کالم امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اس معاملے پرشائع ہوا جس میں انہوں نے نا صرف جوولسن اور ان کے نائیجر کے دورہ کے بارے لکھا وہیں یہ بھی لکھ ڈلا کہ جو ولسن کے بیوی ویلیری پلیم ولسن سی آئی اے کی خفیہ اہلکار ہیں۔کیونکہ ویلیری ایک خفیہ اہلکار تھیں اس لئے یہ راز صرف ان کے شوہر اور والدین کو معلوم تھا ، اخبار میں اس انکشاف نے ویلیری کا خفیہ کور اور سی آئی اے میں کریئر ختم کردیا اور ویلیری کو سی آئی اے کے تمام اہم معاملات سے فورا علیحدہ کردیا گیا۔ جو ولسن بش انتظامیہ پر الزام لگایا کہ ویلیری کا نام ان کے جانب سے لیک کیاگیا ہے تا کہ وائیٹ ہاوَس جو ولسن سے بدلہ لے سکے۔ امریکی قوانین کے مطابق خفیہ معلومات کو افشاء کرنا غداری ہے اور ایک خفیہ آفیسر کی اصل شناخت ظاہر کرنا غداری کے زمرہ میں آتا ہےاسی لئے اس معاملے کی تحقیقات کی گئیں کہ آخر یہ معلومات کس کی ایماء پر لیک ہوئیں۔ اس دوران جو ولسن عراق نائیجر یورینیم معاملے پر مختلف فورم اور میڈیا پر بات کرتے رہےجس کی وجہ سے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ٹی وی چینلوں ان کا میڈیا ٹرائل شروع کرتا۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے انہیں اور ان کی بیوی کو تنگ کرنا شروع کردیا ، میڈیا میں ویلیری اور جو ولسن کو غدار،جھوٹا، کمیونسٹ ایجنٹ اور مفاد پرست کہاجانے لگا، ویلیری کو سی آئی اے کی ایک معمولی سیکریٹری کہاگیا۔ اس تمام پروپیگنڈا کی باوجود جوولسن نے ہار نہیں مانی اور ویلیری کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ اپنی خاموشی کو توڑے اور پارلیمان کی ہاوَس اور سائٹ کمیٹی کے سامنے بیان دے۔بعد ازاںمعاملے کی تحقیقا ت کے دوران معلوم ہوا کہ ویلیری کا نام امریکی نائب صدر کے دفتر سے لیک ہوا ہے اور 6 مارچ 2007ء کو نائب صدر کے چیف آف اسٹاف لوئس لبی کو اس معاملے میں ڈھائی سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا سائی گئی ، لیکن قید کی سزا صدر جارج بش نے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے معاف کردی، بعد ازا ں ایک اوراہم عہدہ دار رچرڈ آرمٹیچ نے قبول کیا کہ انہوں نے ویلیری کا نام رابرٹ نویک کو دیا تھا۔</p>
<p>فلم، فیئر گیم ویلیری پلیم ولسن کی آپ بیتی ”فیئر گیم: میری زندگی بطور جاسوس“ پر مبنی ہے، کتاب کا نام وائیٹ ہاؤس کے سابق نائب چیف آف اسٹاف کارل روو کے اس بیان ”ولسن کی بیوی جائز شکار{فیئر گیم} ہے“ سے لیا گیا ہے۔ فیئر گیم 2010ء میں ریلیز کی گئی، فلم میں ویلیری کا کردار نومی واٹس اور جو ولسن کا کردار شان پین نے ادا کیا ہے۔ 22 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی اس فلم نے دنیا بھر میں 24 ملین ڈالر کا بزنس کیا۔</p>
<h3 style="text-align: center;">ٹریلر<br />
<iframe src="http://www.youtube.com/embed/MpMGQgXbOgA?rel=0" frameborder="0" width="560" height="315"></iframe></h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/drama/fair-game/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>V for Vendetta</title>
		<link>http://filmistan.info/action/v-for-vendetta</link>
		<comments>http://filmistan.info/action/v-for-vendetta#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 23 Jan 2012 16:05:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>بلال امتیاز احمد</dc:creator>
				<category><![CDATA[ایکشن]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ایلن مور]]></category>
		<category><![CDATA[جان ہرٹ]]></category>
		<category><![CDATA[نیٹلی پورٹ مین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیوڈ لائیڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ہوگو ویونگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://filmistan.info/?p=477</guid>
		<description><![CDATA[کامک کہانیاں اور گرافک ناول مغربی ممالک میں تخیلاتی ادب پیش کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک ہرماہ کئی کامک کہانیاں اور گرافک ناول دکانوں اور پھر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچتےہیں۔ اسپائیڈر مین، گرین لینڑن ،ٹن ٹن،ایکس مین، اسکاٹ پلگرم ورسز دی ورلڈ اور لیگ آف ایکسڑا آرڈنیری جنٹل مین گرافک ناولوں اور کامک کہانیوں سے ماخوذ فلموں کی چندمثالیں ہیں۔ لیکن کسی کامک یاگرافک ناول سے ماخوذ ہونے کا یہ مطلب قطعی طور پر یہ نہیں کہ اس کا ہیرو ہوا میں اڑتا آنکھوں سے لیزر شعائیں پھینکتا کوئی مافوق الفطرت انسان ہی ہو، جو کسی سائنسی تجربے یا حادثے کی بھینٹ چڑھ کر عام انسان سے برتر طاقت بن گیا ہو۔ بیٹ مین فلم کا بروس وین ایسی کسی طاقت کا حامل نہیں ، اور گزشتہ سال کی ایک بہترین فلم کک ایس کا ہیرو تو بروس وین کی طرح جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی نہیں رکھتا ، اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ فلمیں صرف جرم کے خلاف جنگ کے سنجیدہ موضوع پر ہی بنی ہوں مثال کہ طور پر اسکاٹ پلگرم ایک ہلکی پھلکی رومانوی مزاحیہ فلم ہے۔ لیکن جس فلم کا تذکرہ میں کرنے جارہا ہوں میرے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کامک کہانیاں اور گرافک ناول مغربی ممالک میں تخیلاتی ادب پیش کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک ہرماہ کئی کامک کہانیاں اور گرافک ناول دکانوں اور پھر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچتےہیں۔ اسپائیڈر مین، گرین لینڑن ،ٹن ٹن،ایکس مین، اسکاٹ پلگرم ورسز دی ورلڈ اور لیگ آف ایکسڑا آرڈنیری جنٹل مین گرافک ناولوں اور کامک کہانیوں سے ماخوذ فلموں کی چندمثالیں ہیں۔ لیکن کسی کامک یاگرافک ناول سے ماخوذ ہونے کا یہ مطلب قطعی طور پر یہ نہیں کہ اس کا ہیرو ہوا میں اڑتا آنکھوں سے لیزر شعائیں پھینکتا کوئی مافوق الفطرت انسان ہی ہو، جو کسی سائنسی تجربے یا حادثے کی بھینٹ چڑھ کر عام انسان سے برتر طاقت بن گیا ہو۔ بیٹ مین فلم کا بروس وین ایسی کسی طاقت کا حامل نہیں ، اور گزشتہ سال کی ایک بہترین فلم کک ایس کا ہیرو تو بروس وین کی طرح جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی نہیں رکھتا ، اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ فلمیں صرف جرم کے خلاف جنگ کے سنجیدہ موضوع پر ہی بنی ہوں مثال کہ طور پر اسکاٹ پلگرم ایک ہلکی پھلکی رومانوی مزاحیہ فلم ہے۔</p>
<p><a href="http://filmistan.info/wp-content/uploads/v-for-vendetta1.jpg"><img class="aligncenter size-medium wp-image-490" title="v-for-vendetta" src="http://filmistan.info/wp-content/uploads/v-for-vendetta1-231x300.jpg" alt="" width="231" height="300" /></a></p>
<p>لیکن جس فلم کا تذکرہ میں کرنے جارہا ہوں میرے خیال میں وہ کامک کہانیوں اور گرافک ناولوں پر مبنی تمام فلموں میں زیادہ اثر چھوڑنے والی فلم ہے۔ جی ہاں اگر آپ &#8221;وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو&#8221; مہم میں لوگوں کو ایک مضحکہ خیز ماسک پہنے احتجاج کرتے دیکھا تھا تو یہ فلم وی فور وینڈیٹا کا اثر تھا۔ لندن میں ہونے والے مظاہروں میں جولین اسانج نےاپنے چہرے کو گائے فاکس ماسک کے پیچھے اس لئے چھپایا تھا کیونکہ اس فلم نےاس ماسک کو ایک بین الاقوامی سمبل بنادیا ہے۔</p>
<p>فلم وی فور وینڈیٹا کامک کہانیوں کے برطانوی مصنف ایلن مور اور برطانوی کامک تصاویر نگار ڈیوڈ لائیڈ کے گرافک ناول &#8216;وی فور وینڈیٹا&#8217; سے ماخوذ ہے ۔ پانچ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے لاگت سے تیار کی گئی یہ فلم 17 مارچ 2006ء کو ریلیز ہوئی اور دنیا بھر میں اس نے 13 کروڑ 14 لاکھ 11 ہزار 35 ڈالر کا کاروبار کیا۔ فلم کو برطانیہ اور جرمنی کے اسٹوڈیوز میں فلمایا گیا جبکہ فلم کے آخری حصے کو ویسٹ منسٹر میں برطانوی پارلیمان کے سامنے فلمایا گیا۔</p>
<h3>گائے فاکس کون؟</h3>
<p>فلم کو سمجھنے کئے ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ گائے فاکس کون تھا۔ گو کہ برطانیہ میں گائے فاکس کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں لیکن یہاں شاید بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں کہ گائے فاکس ایک برطانوی رومن کیتھولک عیسائی تھا جس نے 5 نومبر 1605ء میں برطانوی دارالامراء کو بارود سے اڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس واقعے کو &#8216;گن پاؤڈر پلاٹ&#8217; یا &#8216;بارود سازش&#8217; کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ہر سال نومبر کی 5 تاریخ کو برطانوی عوام اس واقعے کی یاد میں &#8216;گائے فاکس ڈے&#8217; اور &#8216;بون فائر نائٹ&#8217; مناتے ہیں۔</p>
<h3>کہانی</h3>
<p>فلم میں مستقبل قریب کے تصوراتی برطانیہ کو دکھایا گیا ہے جہاں لندن پر دہشت گردوں کے کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے بعد مسلمانوں ، ہم جنس پرستوں اور آزاد فنون لطیفہ اور موسیقی سےانتہائی نفرت کرنے والی قدامت پسند سیاسی جماعت نورس فائر کی فاشسٹ حکومت ہائی چانسلر ایڈم سٹلر(جان ہرٹ)کی سربراہی میں قائم ہے، اور برطانیہ ایک پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں آزادئ اظہار رائے اور دیگر سیاسی آزادیاں ناپید ہیں۔ شہروں میں رات کو کرفیو نافذ کردیاجاتا ہے اور خفیہ پولیس اہلکار (فنگرمین) جب چاہیں اور جسے چاہیں غائب کردیتے ہیں۔ چارنومبر کی رات برطانیوی ٹیلی وژن(بی ٹی این) کی ملازم ایوی ہامنڈ(نیٹلی پورٹ مین) اپنے ساتھ کام کرنے والے ٹی وی میزبان گورڈن ڈیٹرک (اسٹیفن فرے) سے ملنے جارہی ہوتی ہے کہ اس کی مڈبھیڑ خفیہ پولیس سے ہوجاتی ہے جو اس کے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھانے کے کوشش کرتے ہیں لیکن ایسے میں ایک ماسک پہنا آدمی (ہوگو ویونگ) وہاں پہنچ جاتا ہے اور ایوی کو فنگرمین سے نجات دلانے کے بعد مضحکہ خیز انداز میں اپنا تعارف بطور &#8221;وی&#8221; کرواتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ موسیقار ہے اور اپنے فن کا مظاہرہ کرنے جارہا ہے، اگر ایوی موسیقی سے دلچسپی رکھتی ہے تو اس کے ساتھ چلے اور وہ بعد میں اسے اس کے گھر چھوڑ دے گا۔ وی ایوی کو لے کر ایک عمارت کی خالی چھت پر چلاجاتا ہے وہاں ایک موسیقار کی طرح اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتا ہے تو روڈ پر لگے اسپیکروں سے موسیقی سنائی دینے لگتی ہے اور ایک قریبی عمارت اولڈبیلی (مرکزی عدالت برائے جرائم) ایک دھماکہ سے تباہ ہوجاتی ہے۔</p>
<p>دوسرے دن &#8216;وی&#8217; بی ٹی این کی عمارت جارڈن ٹاورپر اپنے جسم سے بم باندھ کر قبضہ کرلیتا ہے اور ایمرجنسی چینل کے ذریعے اپنے ایک ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرتا ہے جو پورے لندن میں ہر ٹی وی پر دیکھی جاتی ہے۔ وہ عوام کو بتاتا ہے کہ اس نے اولڈبیلی کو تباہ کیا ہے تاکہ عوام اس دھماکے سے جاگ اٹھیں اور اس حکومت سے نجات حاصل کرنے کے آج سے ایک سال بعد نومبر کی پانچ کو پارلیمان کے سامنے اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔</p>
<p>جارڈن ٹاور سے نکلتے وقت وی کو پولیس آفیسر ڈومینک (روپرٹ گریوز) گھیر لیتا ہے لیکن یہاں ایوی اس کی مدد کرتی ہے اور پولیس کی نظروں میں آجاتی ہے اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی &#8216;وی&#8217; ایوی کو اپنے ساتھ اپنی خفیہ پناہ گاہ (شیڈوڈگیلری) لے جاتا ہے۔ جہاں ایوی اسے اپنے والدین اور بھائی کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس کے والدین سیاسی کارکن تھے جنہیں خفیہ پولیس نے غائب کردیا تھا اور اس کا بھائی دس سال قبل سینٹ میری اسکول پر ہونے والے حیاتیاتی ہتھیار کے حملے (تھری واٹر)میں ہلاک ہوا گیا تھا۔ تب ہی سے وہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے اور وہ اپنے والدین کی طرح بہادر نہیں ہے، اسی لئے وہ وی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی لیکن وی اسے واپس جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیتا ہے۔</p>
<p>پھر کیا ہوتا ہے یہ سب بتادیا تو فلم دیکھنے میں کوئی لطف نہیں رہ جائے گا۔ ہاں اتنا بتادوں کہ وی اپنی زندگی میں ویلیری نامی خاتون سے متاثر ہوتا ہے اور اسی کی پراثر شخصیت کو استعمال کرکے وہ ایوی کا خوف دور کردیتا ہے۔ البتہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں؟ ویلیری، ایوی اور وی کا باہم کیا رشتہ ہے؟ وی کی اپنی کہانی کیا ہے؟ اور نوس فائر نے ایسا کیا جادو چلایا تھا کہ برطانوی عوام نے انتخابات میں انہیں منتخب کیا؟ یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کا جواب تو آپ کوفلم دیکھ کر ہی پتہ چلنا چاہیے۔</p>
<h3>تبصرہ</h3>
<p>وی فور وینڈیٹا ایک بہترین فلم ہے، میں اسے دس میں سے دس نمبر دوں گا۔ نیٹلی پورٹ مین نے اسرائیلی نژاد امریکی ہونے کے باوجود ایک برطانوی خاتون کے کردار اور لہجے کو بڑے عمدگی سے ادا کیا ہے۔ فلم میں کئی جگہ انہوں ثابت کیا کہ وہ ایک بڑی اداکارہ ہیں، ہوگو ویوینگ کا چہرہ اس پوری فلم میں نظر نہیں آتا اور ویسے بھی مجھے ہوگو ویونگ کی اداکاری کچھ عجیب سے لگتی ہے۔ &#8216;میٹرکس&#8217; اور &#8216;لارڈ آف دی رنگ&#8217; میں نجانے کیوں ہوگو ویوینگ کی اداکاری مجھے اوور ایکٹنگ لگی تھی، لیکن اس فلم میں ان کی آواز اور لہجے نے فلم کو چار چاند لگادیے ہیں۔ ویونگ کا کردار &#8216;وی&#8217; دراصل ایک انارکسٹ ہے جو تشدد اور انارکی سے ملک کی صورت حال بدلنا چاہتا ہے۔ ویوینگ نے فنون لطیفہ ، موسیقی اور فلموں کے دلدادہ &#8216;وی&#8217; اور انتقام کی آگ میں جلتے &#8216;وی&#8217; کا کردار بڑے اچھے انداز میں نبھایا۔فلم کی کہانی تھوڑی جنجال ہے اس لئے سرسری طور پردیکھنے سے سمجھ میں شاید نہ آئے لیکن فلم کا اصل حسن اس کے مکالمے ہیں۔ کچھ مشہور مصنفوں، سیاسی کارکنوں کے اقوال حتیٰ کہ آئن اسٹائن کا ایک مشہور مقولہ بھی فلم کے سکرپٹ میں شامل ہے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والی &#8216;وی&#8217; کی تقریر تو کچھ ایسی ہے کہ اگر کوئی سیاسی رہنما ایسی تقریر کرے تو دل اس کی طرف فوراً مائل ہوجائے، اور ویلیری کی آپ بیتی بھی بہت احسن انداز میں لکھا گیا ہے ۔ آخری بات یہ کہ ویسے تو فلم بالکل صاف ستھری ہے لیکن اس کی کہانی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی وکالت کرتی ہے اور فلم کے کچھ مناظر میں اس کا حوالہ موجود ہے۔</p>
<h3>ٹریلر</h3>
<h3 style="text-align: center;"><iframe src="http://www.youtube.com/embed/k_13fFIrhPk?rel=0" frameborder="0" width="560" height="315"></iframe></h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/action/v-for-vendetta/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Prince of Persia</title>
		<link>http://filmistan.info/adventure/prince-of-persia</link>
		<comments>http://filmistan.info/adventure/prince-of-persia#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 06 May 2011 14:02:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمیر ملک</dc:creator>
				<category><![CDATA[ایڈونچر]]></category>
		<category><![CDATA[ایکشن]]></category>
		<category><![CDATA[منتخب تحاریر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://filmistan.info/?p=384</guid>
		<description><![CDATA[پرنس آف پرشیا: دی سینڈز آف ٹائم (Prince of Persia: The Sands of Time)(ترجمہ: فارس کا شہزادہ، وقت کی ریت) والٹ ڈزنی پکچرز کی پیشکردہ فلم ہے جو 2010 میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ جو لوگ کمپیوٹر ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں یا ان کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ یہ فلم اسی نام کی ایک ویڈیو گیم سے ہی ماخوزذہے۔ پرنس آف پرشیا مونٹریال کی ایک کمپنی یوبی سافٹ کی فرنچائز ہے۔ اس ویڈیو گیم کے خالق جارڈن میکنر (Jordan Mechner) ہیں جنہوں نے یہ تھرڈ پرسن ایکشن ایڈونچر کمپیوٹر گیم 2003 میں تخلیق کی تھی، جارڈن میکنر نے اس فلم کیلئے بھی لکھاری کی خدمات سر انجام دی ہیں۔ اس تلوار اور جادو  کے ایکشن پر مبنی فلم کے ہدایتکار ہیں مائک نیویل(Mike Newell) ہیں اور پروڈیوسر ہیں جیری بروک ہائمر(Jerry Bruckheimer) جی ہاں! پائریٹس آف دی کیریبیئن والے، فلم کے لکھاریوں میں جارڈن میکنر کے ساتھ ساتھ بواز یاکن (Boaz Yakin)، ڈگ میرو (Doug Miro) اور کارلو برنارڈ (Carlo Bernard) شامل ہیں۔  فلم کی کہانی کے مرکزی عناصر ویڈیو گیم  والے ہیں لیکن ساتھ ساتھ فرنچائز کی اگلی دو ویڈیو گیموں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔  اور اگر اصل کہانی کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><a href="http://adisney.go.com/disneypictures/princeofpersia/"><strong>پرنس آف پرشیا: دی سینڈز آف ٹائم</strong> (Prince of Persia: The Sands of Time)</a>(ترجمہ: فارس کا شہزادہ، وقت کی ریت) والٹ ڈزنی پکچرز کی پیشکردہ فلم ہے جو 2010 میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ جو لوگ کمپیوٹر ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں یا ان کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ یہ فلم اسی نام کی<a href="http://www.gamespot.com/promos/princeofpersia-game/flash/"> ایک ویڈیو گیم</a> سے ہی ماخوزذہے۔ پرنس آف پرشیا مونٹریال کی ایک کمپنی یوبی سافٹ کی فرنچائز ہے۔ اس ویڈیو گیم کے خالق جارڈن میکنر <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Jordan_Mechner">(Jordan Mechner)</a> ہیں جنہوں نے یہ تھرڈ پرسن ایکشن ایڈونچر کمپیوٹر گیم 2003 میں تخلیق کی تھی، جارڈن میکنر نے اس فلم کیلئے بھی لکھاری کی خدمات سر انجام دی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;"><img class="alignleft" src="http://ia.media-imdb.com/images/M/MV5BMTMwNDg0NzcyMV5BMl5BanBnXkFtZTcwNjg4MjQyMw@@._V1._SY317_CR0,0,214,317_.jpg" alt="" width="214" height="317" /></p>
<p style="text-align: right;">
<p style="text-align: right;">اس تلوار اور جادو  کے ایکشن پر مبنی فلم کے ہدایتکار ہیں مائک نیویل(Mike Newell) ہیں اور پروڈیوسر ہیں جیری بروک ہائمر<a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Jerry_Bruckheimer">(Jerry Bruckheimer)</a> جی ہاں! <a href="http://www.google.com.pk/url?sa=t&amp;source=web&amp;cd=4&amp;sqi=2&amp;ved=0CDwQFjAD&amp;url=http%3A%2F%2Fwww.imdb.com%2Ftitle%2Ftt0325980%2F&amp;rct=j&amp;q=pirates%20of%20the%20caribbean&amp;ei=HvzDTZCaL4-WhQe3i6WIBA&amp;usg=AFQjCNH3ceMbzfZVSzzZLqt8j3JwvY86Ug&amp;cad=rja">پائریٹس آف دی کیریبیئن</a> والے، فلم کے لکھاریوں میں جارڈن میکنر کے ساتھ ساتھ بواز یاکن (Boaz Yakin)، ڈگ میرو (Doug Miro) اور کارلو برنارڈ (Carlo Bernard) شامل ہیں۔  فلم کی کہانی کے مرکزی عناصر ویڈیو گیم  والے ہیں لیکن ساتھ ساتھ فرنچائز کی اگلی دو ویڈیو گیموں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔  اور اگر اصل کہانی کی بات کی جائے تو وہ کئی ایک قدیم فارسی و ایرانی کہانیوں اور روایتوں کا ملغوبہ ہے۔  فلم میں مرکزی کردار جیک جیلنہال(Jake Gyllenhaal) ، گیما آرٹرٹن (Gemma Arterton)، بَین کنگزلے (Ben Kingsley) اور الفرڈ مولینا(Alfred Molina) نے ادا کئے ہیں۔</p>
<h2 style="text-align: right;">کہانی</h2>
<p style="text-align: right;">فلم کی کہانی ایک یتیم لڑکے داستان(جیک جیلنہال) سے شروع ہوتی ہے جسے شاہِ فارس ڈرامائی انداز میں گود لے لیتا ہے اور یوں وہ تیسرا اور سب سے چھوٹا فارس کا شہزادہ بن جاتا ہے۔ اس کے دونوں سوتیلے بھائی طوس (یا طاس) اور گارسیو  اپنے چچا نظام (بَین کنگزلی) کے ایما پر الموت کے شہر پر حملے کی تیاری کرتے ہیں۔ نظام شہر الموت پر دغابازی اور بغاوت کا الزام لگاتا ہے، اس لئے شہزادہ داستان بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ لڑائی میں فارسیوں کو فتح ملتی ہے اور داستان کے ہاتھ ایک پراسرار خنجر  لگتا ہے جس میں جادوئی طاقتیں ہوتی ہیں۔ الموت کی شہزادی تہمینہ (گیما آرٹرٹن) قیدی بنا لی جاتی ہے  اور اس پر  امن کی خاطر شہزادہ طوس سے شادی کیلئے زور دیا جاتا ہے۔ تہمینہ یہ دیکھتے ہوئے کہ خنجر شہزادہ داستان کے پاس ہے شادی پر رضامند ہو جاتی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">شاہِ فارس شارامن الموت پر حملہ کرنے کی وجہ سے طوس سے نالاں ہوتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ تہمینہ کی شادی داستان سے ہو گی۔ جشن کے دوران داستان شاہِ فارس کو نا دانستگی میں ایک زہریلا لباس پہننے کو دے دیتا ہے، جو کہ اسے شہزادہ طوس نے دیا تھا۔ لباس کو پہنتے ہی بادشاہ کی موت ہو جاتی ہے۔ قتل کا الزام داستان پر لگتا ہے جو کہ موقع سے شہزادی تہمینہ کے ساتھ فرار ہو جاتا ہے۔ اب ایک مفرور شہزادہ اور ایک پراسرار شہزادی ایک جادوئی خنجر کے ساتھ دربدر پھرتے ہیں جہاں کبھی وہ ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں اور کبھی ان کا واسطہ پڑتا ہے ایک شترمرغ دوڑ کے شوقین شیخ عمار (الفریڈ مولینا) سے اور کبھی حشاشین سے جو ان کے خون کے پیاسے ہیں، کس لئے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ جاننے کیلئے &#8220;اج ای ویکھو ۔۔۔۔ فارس کا شہزادہ: سمےکی ریت</p>
<p style="text-align: right;">کے طوفان میں &#8220;۔</p>
<p style="text-align: right;">
<h2 style="text-align: right;">اضافی معلومات</h2>
<p style="text-align: right;">پروڈیوسر  بروک ہائمر کو فلم سے بہت توقعات تھیں لیکن یہ فلم ان پر پوری نہ اتر سکی۔ وہ اسے نئی &#8220;پائریٹس آف کیریبیئن&#8221; فرنچائز دیکھ رہے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ تاہم ویڈیو گیمز سے ماخوذ اب تک کی تمام فلموں میں یہ پہلے نمبر پر پہنچ چکی ہے اور  لارا کرافٹ: ٹومب ریڈر اور مارٹل کومبیٹ کو باکس آفس پر کاروبار میں پیچھے چھوڑ گئی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">فلم میں تمام نمایاں عناصر ویڈیو گیم سے لے گئے ہیں جبکہ کہانی نسبتاً مختلف ہے۔ کہانی میں موجودتقریباً  تمام کردار، نام اور جگہیں ایرانی لوک داستانوں اور دیومالائی کہانیوں سے لئے گئے ہیں۔ کرداروں کے نام <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Shahnameh">فردوسی کی شاہنامہ</a> میں موجود ناموں سے ملتے جلتے  ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Malik-Shah_I">ملک شاہ اول</a>، خواجہ <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Nizam_al-Mulk">نظام الملک طوسی</a> اور <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Hassan-i_Sabbah">حسن صباح </a>کی جھلک بھی کرداروں میں ملتی ہے۔ خاص طور پر <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Hashshashin">حشاشین</a> کو Hassansins  کے نام سے لیا گیا ہے ۔ الموت کا شہر بھی قدیم ایرانی شہر ہے جہاں حسن صباح نے فاطمیوں کے زمانے میں اپنا قلعہ  تعمیر کیا تھا۔</p>
<h2 style="text-align: right;">اعزازی ریٹنگ</h2>
<p style="text-align: right;"><a href="http://www.imdb.com/title/tt0473075/">آئی ایم ڈی بی IMDb:  6٫7</a></p>
<p style="text-align: right;">روٹن ٹماٹوز Rotten Tommatos: 36 فیصد</p>
<p style="text-align: right;">Metacritic: 100/50۔</p>
<h2 style="text-align: right;">والدین کیلئے</h2>
<p style="text-align: right;">مار دھاڑ اور ایکشن کی وجہ سے <span style="text-decoration: underline;">آئی ایم ڈی بی</span> کے مطابق 13 سال اور اس سے کم کیلئے والدین کی نگرانی میں دیکھنا بہتر ہے۔</p>
<h2 style="text-align: right;">ذاتی رائے</h2>
<p style="text-align: right;">ویڈیو گیم میں انٹرسٹ کی وجہ سے مجھے اس فلم کا انتظار تھا۔ اس کے علاوہ پائریٹس فرنچائز بھی میری پسندیدہ مین سے ایک ہے۔ فلم کی کاسٹ کا اعلان ہونے پر ہی مجھے جیک جیلنہال کچھ زیادہ موزوں نہیں لگا اس کردار کیلئے (پتا نہیں کیوں!) ۔ لیکن بہرحال فلم اچھی ہے۔ دیکھنے کے قابل ہے اور آرام سے دیکھی جا سکتی ہے۔ جو لوگ فینٹسی وغیرہ پسند نہیں کرتے ، انہیں شاید زیادہ نہ بھائے۔ اس کے علاوہ اس فلم میں تاریخ ڈھونڈنے والے بھی زیادہ محظوظ نہیں ہو سکیں گے۔</p>
<h2 style="text-align: right;">بونس</h2>
<p style="text-align: right;">اردو سب ٹائیٹلز کے شائقین کیلئے ایک بونس ہے۔ اس فلم کے <a href="http://www.opensubtitles.org/en/subtitles/3845357/prince-of-persia-the-sands-of-time-ur">اردو سب ٹائیٹلز</a> موجود ہیں، جو کہ میں نے خود تیار کئے ہیں۔ <a href="http://subscene.com/urdu/Prince-of-Persia-The-Sands-of-Time/subtitle-366470.aspx">اس ربط سے اتارے جا سکتے ہیں</a>۔ میں نے انہیں اسی نام کی فائل کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے، اس لئے دوسری کسی فائل کے ساتھ چلانے کیلئے تھوڑا ایڈجسٹ کرنے کے بعد دیکھے جا سکتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/adventure/prince-of-persia/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>The Next Three Days</title>
		<link>http://filmistan.info/action/the-next-three-days</link>
		<comments>http://filmistan.info/action/the-next-three-days#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 05 May 2011 11:56:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمیر ملک</dc:creator>
				<category><![CDATA[ایکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[action]]></category>
		<category><![CDATA[Russel Crowe]]></category>
		<category><![CDATA[The next three days]]></category>
		<category><![CDATA[thriller]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://filmistan.info/?p=379</guid>
		<description><![CDATA[(The Next Three Days)دی نیکسٹ تھری ڈیز 2010 میں جاری کردہ ایک پر جوش (تھرلر) فلم ہے۔ فلم کے ہدایتکار پال ہیگیس ہیں اور مرکزی کرداروں میں مشہور اداکار رسل کرو اور الیزبتھ بینکس شامل ہیں۔ یہ فلم 2008 کی ایک فرانسیسی فلم  Pour Elleکا &#8216;ری میک&#8217; ہے۔ پلاٹ جان برینن (رسل کرو) کی زندگی میں اس وقت ایک بھونچال آ جاتا ہے جب اس کی بیوی لارہ برینن (الیزبتھ بینکس) اپنی باس کے قتل کے شبے میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اور  موقع واردات سے ملنے والے تمام شواہد لارہ کے خلاف جاتے ہیں۔ اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ جان برینن ایک کمیونٹی کالج میں پروفیسر ہے اور ان کا ایک بیٹا ہے۔ جب لارہ کے چھوٹنے کی کوئی امید نہیں رہتی تو جان اسے جیل سے بھگانے کے بارے میں سوچتا ہے۔  اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جان ایک ایسے شخص ڈیمن پیننگٹن (لایم نیسن) سے جیل کے بارے میں معلومات لیتا ہے جو  سات دفعہ جیل سے بھاگنے میں کامیاب ہو چکا ہوتا ہے۔  ڈیمن مشورہ دیتا ہے کہ جیل کو سمجھو اور اس کا بغور مطالعہ کرو کیونکہ &#8221; ہر جیل کی ایک چابی ہے&#8221;۔ بقول ڈیمن ، جیل سے  وقتی طور پہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><strong> (The Next Three Days)دی نیکسٹ تھری ڈیز</strong> <strong> </strong>2010 میں جاری کردہ ایک پر جوش (تھرلر) فلم ہے۔ فلم کے ہدایتکار پال ہیگیس ہیں اور مرکزی کرداروں میں مشہور اداکار رسل کرو اور الیزبتھ بینکس شامل ہیں۔ یہ فلم 2008 کی ایک فرانسیسی فلم  <a href="http://www.imdb.com/title/tt1217637/">Pour Elle</a>کا &#8216;ری میک&#8217; ہے۔</p>
<p style="text-align: right;"><img class="alignleft" src="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/en/thumb/b/bc/The_Next_Three_Days_Poster.jpg/220px-The_Next_Three_Days_Poster.jpg" alt="" width="220" height="326" /></p>
<h2 style="text-align: right;"><strong>پلاٹ</strong><strong> </strong></h2>
<p style="text-align: right;">جان برینن (رسل کرو) کی زندگی میں اس وقت ایک بھونچال آ جاتا ہے جب اس کی بیوی لارہ برینن (الیزبتھ بینکس) اپنی باس کے قتل کے شبے میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اور  موقع واردات سے ملنے والے تمام شواہد لارہ کے خلاف جاتے ہیں۔ اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ جان برینن ایک کمیونٹی کالج میں پروفیسر ہے اور ان کا ایک بیٹا ہے۔ جب لارہ کے چھوٹنے کی کوئی امید نہیں رہتی تو جان اسے جیل سے بھگانے کے بارے میں سوچتا ہے۔  اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جان ایک ایسے شخص ڈیمن پیننگٹن (لایم نیسن) سے جیل کے بارے میں معلومات لیتا ہے جو  سات دفعہ جیل سے بھاگنے میں کامیاب ہو چکا ہوتا ہے۔  ڈیمن مشورہ دیتا ہے کہ جیل کو سمجھو اور اس کا بغور مطالعہ کرو کیونکہ &#8221; ہر جیل کی ایک چابی ہے&#8221;۔ بقول ڈیمن ، جیل سے  وقتی طور پہ بھاگنا آسان ہے جبکہ دوبارہ پکڑے جانے سے بچنا مشکل ہے۔  جان مکمل پلان تیار کرتا ہے اور اس دوران اسے کئی ایک مشکلات اور  ناگزیر حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ ایک کالج پروفیسر کیلئے نئے ہوتے ہیں۔</p>
<h2 style="text-align: right;"><strong>ریٹنگز<br />
</strong></h2>
<p style="text-align: right;"><a href="http://www.imdb.com/title/tt1458175/">آئی ایم ڈی بی : 7٫4</a></p>
<p style="text-align: right;">روٹن ٹماٹوز : %50</p>
<p style="text-align: right;">والدین کیلئے: آئی ایم ڈی بی کے مطابق 13 سال سے کم کیلئے غیر مناسب</p>
<p style="text-align: right;">
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/action/the-next-three-days/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>RocknRolla</title>
		<link>http://filmistan.info/crime/rocknrolla</link>
		<comments>http://filmistan.info/crime/rocknrolla#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 04 Feb 2011 20:01:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جعفر</dc:creator>
				<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جیرارڈ بٹلر]]></category>
		<category><![CDATA[مارک سٹرونگ]]></category>
		<category><![CDATA[گائے رچی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.filmistan.info/?p=316</guid>
		<description><![CDATA[میری رائے میں تو فلموں کی صرف دو اقسام ہوتی ہیں، اچھی اور بری! باقی صرف تفصیل ہوتی ہے کہ لڑائی مارکٹائی، پیار محبت، سنسنی وغیرہ وغیرہ کس تناسب سے شامل ہیں۔ فلموں کی ایک تیسری اور نادر قسم ہوتی ہے، کراری فلم, جیسے لڈو پیٹھیاں والے، گول گپے، تیز مصالحے والے آلو چھولے، املی وغیرہ، جس سے سوائے چٹخارے کے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہوتی۔ جس فلم بارے، آپ اب پڑھیں گے، وہ اسی نادر قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ گائے رچی کے بارے، پہلے پہل میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اس نے میڈونا سے شادی کرنے کا ”کارنامہ“ انجام دیا ہے۔ اس حرکت سے میرے ذہن میں اس کا کوئی اچھاتاثر نہیں بنا تھا۔ لیکن اتفاق سے ایک دن کسی چینل پر ‘سنیچ’ کے کچھ مناظر دیکھے اور فلم میکنگ کا یہ انداز، مجھے نیا، اچھوتا اور مزے دار لگا۔اس پر میں نے اس کی تازہ ترین (اس وقت کے حساب سے) فلم بارے پڑھا تو مجھے روک این رولا (RocknRolla) کا پتہ چلا۔ فلم کی ہدایتکاری اور مصنفی کی ذمہ داریاں انہی حضرت نے انجام دی ہیں۔ کہانی کا تانا بانا لندن کی رئیل اسٹیٹ مافیا کے گرد بنا گیا ہے اور اپنی سابقہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میری رائے میں تو فلموں کی صرف دو اقسام ہوتی ہیں، اچھی اور بری! باقی صرف تفصیل ہوتی ہے کہ لڑائی مارکٹائی، پیار محبت، سنسنی وغیرہ وغیرہ کس تناسب سے شامل ہیں۔ فلموں کی ایک تیسری اور نادر قسم ہوتی ہے، کراری فلم, جیسے لڈو پیٹھیاں والے، گول گپے، تیز مصالحے والے آلو چھولے، املی وغیرہ، جس سے سوائے چٹخارے کے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہوتی۔ جس فلم بارے، آپ اب پڑھیں گے، وہ اسی نادر قسم سے تعلق رکھتی ہے۔</p>
<p>گائے رچی کے بارے، پہلے پہل میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اس نے میڈونا سے شادی کرنے کا ”کارنامہ“ انجام دیا ہے۔ اس حرکت سے میرے ذہن میں اس کا کوئی اچھاتاثر نہیں بنا تھا۔ لیکن اتفاق سے ایک دن کسی چینل پر ‘سنیچ’ کے کچھ مناظر دیکھے اور فلم میکنگ کا یہ انداز، مجھے نیا، اچھوتا اور مزے دار لگا۔اس پر میں نے اس کی تازہ ترین (اس وقت کے حساب سے) فلم بارے پڑھا تو مجھے روک این رولا (RocknRolla) کا پتہ چلا۔</p>
<p style="text-align: center;"><img class="aligncenter size-full wp-image-319" style="border: 1px solid black;" title="RocknRolla" src="http://dl.dropbox.com/u/23166682/Filmistan/2011/02/RocknRolla.jpg" alt="" width="408" height="605" /></p>
<p>فلم کی ہدایتکاری اور مصنفی کی ذمہ داریاں انہی حضرت نے انجام دی ہیں۔ کہانی کا تانا بانا لندن کی رئیل اسٹیٹ مافیا کے گرد بنا گیا ہے اور اپنی سابقہ فلموں کی طرح اس فلم میں بھی گائے رچی کے تمام کردار، جرم کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مافیا ڈان سے لے کر معمولی اچکوں تک ہر قسم اور نسل کا جرائم پیشہ کردار آپ کو نظر آئے گا۔ فلم کا آغاز پیچیدہ اور ذرا سست ہے۔ لیکن پلاٹ کے مرکزی نکات اور کرداروں کے تعارف کے بعد جب فلم رفتار پکڑتی ہے تو دیکھنے والے کو بہا کے لے جاتی ہے۔</p>
<p>گائے رچی، اس فلم میں آپ کو ایسے کرداروں اور ماحول سے متعارف کرواتے ہیں، جو ہالی ووڈ کی فلموں کے عادی ناظرین کے لیے ایک انوکھا پن لئے ہوئے ہے۔ برطانوی پس منظر کی وجہ فلم میں ایک انفرادیت ہے (یا صرف مجھے محسوس ہوئی)۔ اس فلم کی ایک اور خاص بات یہ کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا کردار بھی بھرتی کا نہیں ہے، بلکہ کہانی کو آگے لے کے جانے والا اور اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ مکالمے مزے دار بلکہ لذیذ ہیں اور سونے پر سہاگہ برطانوی تلفظ۔ میری رائے میں اس فلم کا سکرپٹ ان چند فلم سکرپٹس میں شامل ہے جنہیں مکمل ترین کہا جاسکتا ہے۔</p>
<p>فلم کی بیشتر کاسٹ برطانوی اداکاروں پر مشتمل ہے، جن میں جیرارڈ بٹلر، مارک سٹرونگ، ادریس البا، ٹام ہارڈی، ٹام ولکونسن ، ٹوبی کیبل وغیرہ شامل ہیں۔ اداکاری اعلی معیار کی ہے۔ خاص طور پر مارک سٹرونگ بطور ”آرچی“ اور جیرارڈ بٹلر بطور ”ون ٹو“ کے زبردست ہیں۔ منشیات کے عادی راک سٹار جونی کوئیڈ کے کردار میں ٹوبی کیبل نے بھی زبردست پرفارمنس دی ہے۔</p>
<p>آخری بات یہ کہ یہ جائزہ جتنا پھسپھسا ہے، فلم اتنی ہی مزے دار ہے۔ لہذا آپ کا جب بھی فلم دیکھنے کا پروگرام بنے تو سب سے پہلے اسے ہی بھگتائیے گا، اس جائزے کو پڑھنے کی بوریت دور ہوجائے گی۔</p>
<h2>ٹریلر</h2>
<p><iframe title="YouTube video player" src="http://www.youtube.com/embed/F_n0e3d4ruE" frameborder="0" width="560" height="345"></iframe></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/crime/rocknrolla/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>One Flew Over the Cuckoo&#8217;s Nest</title>
		<link>http://filmistan.info/drama/one-flew-over-the-cuckoos-nest</link>
		<comments>http://filmistan.info/drama/one-flew-over-the-cuckoos-nest#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 02 Feb 2011 20:00:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[جیک نکلسن]]></category>
		<category><![CDATA[لوئس فلیچر]]></category>
		<category><![CDATA[میلوس فورمین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.filmistan.info/?p=294</guid>
		<description><![CDATA[ہالی ووڈ کی تاریخ میں بہت کم فلمیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے پانچوں اعلی ترین آسکر اعزازات اپنے نام کیے ہوں یعنی کہ بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین اداکار، بہترین اداکارہ اور بہترین اسکرین پلے کا اعزاز۔ جن چند فلموں کو یہ منفرد اعزاز حاصل رہا ہے ان میں &#8220;ون فلیو اوور دی کوکوز نیسٹ&#8221; (One Flew Over the Cuckoo&#8217;s Nest) آج فلمستان پر تازہ تحریر کا موضوع ہے۔ 1975ء میں بننے والی اس فلم سے قبل یہ اعزاز محض ایک فلم It Happened One Night نے 1934ء میں حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں یہ تمام اعزازات 1991ء میں The Silence of the Lambs نے بھی حاصل کیے۔ کہانی یہ فلم کین کیسی کے اسی نام سے لکھے گئے ناول سے ماخوذ ہے جو دراصل ایک عادی مجرم رینڈل پیٹرک میک مرفی کی کہانی ہے جسے اس کی مبینہ ذہنی حالت کے باعث پاگل خانے میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔ یہ کردار معروف اداکار جیک نکلسن نے نبھایا ہے اور ان کی یادگار ترین پرفارمنس سمجھا جاتاہے۔ پاگل خانے میں میک مرفی کو امید ہوتی ہے کہ وہ قید خانے کی سختیوں اور قید بامشقت سے بچ جائے گا اور سکون کے دن گزارے گا لیکن پاگل [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہالی ووڈ کی تاریخ میں بہت کم فلمیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے پانچوں اعلی ترین آسکر اعزازات اپنے نام کیے ہوں یعنی کہ بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین اداکار، بہترین اداکارہ اور بہترین اسکرین پلے کا اعزاز۔ جن چند فلموں کو یہ منفرد اعزاز حاصل رہا ہے ان میں &#8220;ون فلیو اوور دی کوکوز نیسٹ&#8221; (One Flew Over the Cuckoo&#8217;s Nest) آج فلمستان پر تازہ تحریر کا موضوع ہے۔ 1975ء میں بننے والی اس فلم سے قبل یہ اعزاز محض ایک فلم It Happened One Night نے 1934ء میں حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں یہ تمام اعزازات 1991ء میں The Silence of the Lambs نے بھی حاصل کیے۔</p>
<p><img class="aligncenter size-full wp-image-324" title="One_Flew_Over_the_Cuckoo's_Nest" src="http://dl.dropbox.com/u/23166682/Filmistan/2011/02/One_Flew_Over_the_Cuckoos_Nest.jpg" alt="" width="275" height="425" /></p>
<h2>کہانی</h2>
<p>یہ فلم کین کیسی کے اسی نام سے لکھے گئے ناول سے ماخوذ ہے جو دراصل ایک عادی مجرم رینڈل پیٹرک میک مرفی کی کہانی ہے جسے اس کی مبینہ ذہنی حالت کے باعث پاگل خانے میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔ یہ کردار معروف اداکار جیک نکلسن نے نبھایا ہے اور ان کی یادگار ترین پرفارمنس سمجھا جاتاہے۔ پاگل خانے میں میک مرفی کو امید ہوتی ہے کہ وہ قید خانے کی سختیوں اور قید بامشقت سے بچ جائے گا اور سکون کے دن گزارے گا لیکن پاگل خانے کی سخت مزاج نرس ملڈریڈ ریچڈ (لوئس فلیچر) کے اہانت آمیز رویے اور مریضوں کے علاج کے ناقص طریقے سے میک مرفی بیزار ہو جاتا ہے۔ کیونکہ حقیقت میں وہ پاگل نہیں ہوتا اس لیے جلد ہی سب کا لیڈر بن جاتا ہے۔</p>
<p>میک مرفی کے جارحانہ رویے اور نرس ریچڈ کی سخت مزاجی کا جلد ہی ٹکراؤ ہو جاتا ہے اور پھر تمام فلم پاگل خانے کے اندر کے اس کشیدہ ماحول کے گرد گھومتی رہتی ہے جس میں میک مرفی اپنے تمام ساتھیوں کو زیاد ہ سے زیادہ سکھ پہنچانے کی کوشش کرتا رہا ہے اور مس ریچڈ اپنے روایتی سخت گیر رویے کے ذریعے پاگل خانے اور میک مرفی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔</p>
<p>فلم میں پاگل خانوں کے ماحول اور وہاں کے عملے کے مریضوں کے ساتھ روا رکھے گئے رویوں کو بہترین انداز میں فلمایا گیا ہے اور ذہنی و جسمانی تشدد کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ جس میں یہ تک دکھایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ سزا کے طور پر میک مرفی اور اس کے ایک ساتھی کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد نرس اور میک مرفی کا تصادم کیا رنگ لاتا ہے اس کے لیے فلم دیکھئے۔</p>
<h2>اعزازات</h2>
<p>فلم کو راجر ایبرٹ سمیت کئی ناقدین سے بہت سراہا۔ مجموعی طور پر فلم سے پانچ آسکر ایوارڈز حاصل کیے جن میں جیک نکلسن کے لیے بہترین اداکار، لوئس فلیچر کے لیے بہترین اداکارہ، میلوس فورمین کے لیے بہترین ہدایت کار، لارنس ہابین اور بو گولڈمین کے لیے بہترین فلم اور بہترین ماخوذ اسکرین پلے کا اعزاز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چار آسکر اعزازات کے لیے نامزد بھی ہوئی تھی جن میں بہترین معاون اداکار، بہترین سینماٹوگرافی، بہترنی فلم ایڈیٹنگ اور بہترین اوریجنل میوزک اسکور شامل ہیں۔</p>
<p>آسکرز کے علاوہ فلم نے 6،6 گولڈن گلوبز اور بافٹا ایوارڈز بھی حاصل کیے جن میں بہترین فلم کے اعزازات بھی شامل ہیں۔ امریکن فلم انسٹیٹیوٹ نے اپنی مختلف فہرستوں میں اس فلم کو جگہ دی ہے جس میں 100 سال ۔۔۔ 100 فلمیں میں اسے 20 واں درجہ اور 100 سال ۔۔۔ 100 ہیرو اور ولن کی فہرست میں میں نرس ریچڈ کو 5 واں درجہ دینا شامل ہیں۔</p>
<p>1993ء میں امریکہ کی لائبریری آف کانگریس نے اس فلم کو &#8220;ثقافتی، تاریخی اور جمالیاتی طور پر اہم&#8221; قرار دیا اور اسے قومی فلم رجسٹری میں محفوظ کرنے کے لیے منتخب کیا۔</p>
<h2>ٹریلر</h2>
<p><iframe title="YouTube video player" src="http://www.youtube.com/embed/NN1cCviBXmY?rel=0" frameborder="0" width="425" height="349"></iframe></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/drama/one-flew-over-the-cuckoos-nest/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Wall-E</title>
		<link>http://filmistan.info/animated/wall-e</link>
		<comments>http://filmistan.info/animated/wall-e#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 25 Jan 2011 11:17:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محب علوی</dc:creator>
				<category><![CDATA[اینی میٹڈ]]></category>
		<category><![CDATA[منتخب تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[پکسار]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.filmistan.info/?p=283</guid>
		<description><![CDATA[وال-ای (WALL-E) نام سے لگتا ہے جیسے کسی نئی الیکٹرونک ڈیوائس یا مائیکروسافٹ کی طرف سے سرفیس ٹیبل کی طرح کوئی کمپیوٹر سے مزین دیوار بھی مارکیٹ میں آ رہی ہے جبکہ درحقیقت یہ نام ہے ایک کیوٹ خواب گر روبوٹ کا جو کہ سنسان و بیابان، میکینیکل کچرے سے بھری زمین پر تنہا کارکن روبوٹ ہے۔ اپنے درخشاں ماضی، جس میں بیشمار سپر ہٹ animated فلمیں شامل ہیں، پکسار کو ایک اور شاہکار پیس کی فراہمی کے ذریعے اپنی تابناک پروفائل کو برقرار رکھنے کے لیے لازم تھا کہ وہ ایک شاہکار بناتے اور یہ حق انہوں نے ویسے ہی نبھایا جیسے کہ حق تھا۔ وال -ای (Waste Allocator Load Lifter Earth Class) ایک روبوٹ کے لیے خاصہ طویل نام ہے جس کا مخفف وال -ای دیکھنے اور سننے میں بھی بھلا محسوس ہوتا ہے خصوصا ایو کی زبانی، صنف نازک ہیروئن روبوٹ ( جی اس فلم میں ایک روبوٹ ہیروئن بھی فلم میں رومانوی جذبات شامل کرنے کے لیے ) ۔ وال ای غالبا پہلا روبوٹ یے جو نہ صرف دل رکھتا ہے بلکہ دلبر بھی ۔۔۔۔۔ایو۔ کہانی کیا خیال ہے فلم شروع کریں، ہیرو اور ہیروئن کے تعارف کے بعد۔ فلم اس سین سے شروع ہوتی ہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>وال-ای (WALL-E) نام سے لگتا ہے جیسے کسی نئی الیکٹرونک ڈیوائس یا مائیکروسافٹ کی طرف سے سرفیس ٹیبل کی طرح کوئی کمپیوٹر سے مزین دیوار بھی مارکیٹ میں آ رہی ہے جبکہ درحقیقت یہ نام ہے ایک کیوٹ خواب گر روبوٹ کا جو کہ سنسان و بیابان، میکینیکل کچرے سے بھری زمین پر تنہا کارکن روبوٹ ہے۔ اپنے درخشاں ماضی، جس میں بیشمار سپر ہٹ animated فلمیں شامل ہیں، پکسار کو ایک اور شاہکار پیس کی فراہمی کے ذریعے اپنی تابناک پروفائل کو برقرار رکھنے کے لیے لازم تھا کہ وہ ایک شاہکار بناتے اور یہ حق انہوں نے ویسے ہی نبھایا جیسے کہ حق تھا۔</p>
<p>وال -ای (Waste Allocator Load Lifter Earth Class) ایک روبوٹ کے لیے خاصہ طویل نام ہے جس کا مخفف وال -ای دیکھنے اور سننے میں بھی بھلا محسوس ہوتا ہے خصوصا ایو کی زبانی، صنف نازک ہیروئن روبوٹ ( جی اس فلم میں ایک روبوٹ ہیروئن بھی فلم میں رومانوی جذبات شامل کرنے کے لیے ) ۔ وال ای غالبا پہلا روبوٹ یے جو نہ صرف دل رکھتا ہے بلکہ دلبر بھی ۔۔۔۔۔ایو۔</p>
<h3>کہانی</h3>
<p>کیا خیال ہے فلم شروع کریں، ہیرو اور ہیروئن کے تعارف کے بعد۔ فلم اس سین سے شروع ہوتی ہے کہ وال-ای کچرا صاف کر رہا ہے اور اکیلا ہی یہ فریضہ انجام دے رہا ہے۔ انسان مدتوں پہلے ناقابل رہائش مضر صحت کرہ ارض چھوڑ چکے ہیں ایک سپیس شپ ایگزیم (AXIOM) پر جسے بائے این لارج نامی ایک بڑی کارپوریشن نے بنایا تھا، وال ای بھی اسی نے بنایا تھا۔ وال-ای ہر صبح Macintosh (پکسار نے اپنے پرانے بانی ایپل کمپوٹر کے اسٹیو جابز کو خراج تحسین پیش کیا اس انداز سے ) کے آرکسٹرا کی دھن پر جاگتا ہے اور اپنے فرائض منصبی انسانی اطوار میں ادا کرتا ہے یعنی کام کے ساتھ تفریح اور مزید مواقع کی جستجو۔ وال ای ہر شے کو کچرا گھر نہیں پھینکتا بلکہ کوئی کام کی چیز لگے تو گھر بھی لے جاتا ہے جس سے اس کا غریب خانہ سج جاتا ہے جیسے کہ ایک پلاسٹک ڈائنو سار، لائٹ بلب، چھوٹا بیج جو پرانے بوٹ میں رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے دن کا اختتام ہیلو ڈولی کی ایک پرانی ویڈیو ٹیپ دیکھ کر کرتا ہے جو فنون لطیفہ سے اس کی دلچسپی کا اظہار کرتا ہے، ایک اور انسانی خصوصیت۔</p>
<p style="text-align: center;"><img class="aligncenter size-full wp-image-298" style="border: 1px solid black;" title="WALL-E" src="http://dl.dropbox.com/u/23166682/Filmistan/2011/01/WALL-E.jpg" alt="" width="236" height="350" /></p>
<p>ہیرو کی زندگی بدلنے کی فلموں میں کیا چیز درکار ہوتی ہے؟ مرد حضرات تو سب یقینا پہنچ گئے ہوں گے البتہ جو خواتین نہیں پہنچ سکیں انہیں انڈین فلموں کا تجزیاتی جائزہ لینے کی ضرورت اور جو مرد نہیں پہنچے انہیں فلمیں دیکھنے ہی نہیں سمجھنے کی بھی ضرورت پر غور کرنا چاہیے۔ جی، فلم میں رونق افروز ہوتی ہیں فلم کی ہیروئن “ ایو “، یہاں ایو سے مراد مائی حوا نہیں ہے بلکہ ایک خوبصورت، مغرور و حسین الٹرا ماڈرن روبوٹ ایو جسے دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اب ہیرو کی زندگی میں رنگ و نور کی برسات شروع ہونے والی ہے ۔ نور تو وال-ای کو ایو کے سفید رنگ میں ہر پل دکھنے لگتا ہے اور رنگوں کی برسات ایو کی طرف سے ہونا شروع ہو جاتی ہے جو وہ ہر شے پر لیزر اسکین لے کر کرتی ہے۔ایو ایگزیم سے زمین پر زندگی کے آثار دیکھنے کے لیے بھیجی گئی ہوتی ہے اس وجہ سے وہ ہر شے کو اسکین کرکے اس کا جائزہ لیتی ہے تاکہ اس کی رپورٹ وہ واپس بھیج سکے۔</p>
<p>وال-ای جو پہلی نظر میں ہی اپنا دل ہار بیٹھا ہوتا ہے ایک مدت تک تو قرون وسطی کے حیا دار عاشقوں کی طرح نظارہ حسن چھپ چھپ کر ہی کرتا ہے مگر ایک دن دونوں کا آمنا سامنا ہو جاتا ہے جس پر ایو ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے (بالکل کسی رومانوی فلم کی طرح ) مگر جس طرح ساری فلموں میں ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ ہیرو اور ہیروئن میں دوستی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگتے ہیں ایسے ہی اس فلم میں بھی ہوتا ہے اور یہی اس فلم کی وہ خوبصورتی ہے جو اسے باقی فلموں میں سے ممتاز کرتی ہے کیونکہ یہاں ڈائیلاگ اور لفظوں کی بجائے فقط بیپ اور میشنی آوازوں سے لگاوٹ اور اظہار الفت کا کام لیا گیا جس کے لیے ساؤنڈ ڈائریکٹر کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ ایو (جس کی دلکشی اور نازک اندامی کو نیویارک ٹائمز نے آئی فون سے تشبیہ دی ہے ) کو متاثر کرنے کے لیے ویسے تو وال-ای کئی اور جتن بھی کرتا ہے مگر جب وہ غریب اپنی متاع عزیز جوتے میں رکھا پودا پیش دربار حسن کرتا ہے تو ایو وہ تحفہ قبول کرکے رکھ تو کر لیتی ہے مگر مارے حیا کے ایو کا دل ہی بند ہو جاتا ہے اور وہ یوں جامد و انجان ہو جاتی ہے جیسے دیوار پر لگی ساکت تصویر۔ وال-ای کے لاکھ جتن پر بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوتی اور روٹھے محبوب کی طرح مان کر نہیں دیتی(حقیقت میں کیا ہوتا ہے یہ آپ فلم دیکھ کر پتہ کریں )۔</p>
<p>کچھ دنوں میں ایک ہوائی مشین آتی ہے اور ایو کو اٹھا کر لے جاتی ہے، وال ای محبوب سے بچھڑنے کے تصور سے ہی کانپ اٹھتا ہے اور مشین سے لٹک کر خلا میں موجود ایگزیم تک پہنچ جاتا ہے جہاں پر موجود انسان جہاز کے خودکار نظام پر انحصار کی وجہ سے انتہائی موٹے اور کاہل ہو چکے ہوتے ہیں۔ جہاز کا انتظام، کیپٹن کم اور آٹو پائلٹ، آٹو (Auto) زیادہ چلاتا ہے۔ کیپٹن کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ اگر ایو زمین سے کوئی پودا لے کر آئی ہے تو وہ واپس زمین پر جا سکتے ہیں کیونکہ اب وہ قابل رہائش جگہ بن چکی ہے مگر جب ایو کو کھولا جاتا ہے تو پودے کا بیج گمشدہ ہوتا ہے جس پر ایو کو مرمت خانے بھیج دیا جاتا ہے۔ وال -ای ایو کی مرمت کو پنجاب پولیس کی تفتیشی مرمت سمجھ لیتا ہے اور اسے بچانے اور چھڑانے کے چکر میں غلطی سے کئی کن ٹٹے روبوٹوں کو آزاد کر دیتا ہے۔ اس پر ایو وال-ای سے ویسے ہی ناراض ہو جاتی ہے جیسے ہیروئن کے بھائی کی غلطی سے مرمت کرنے پر ہیروئن ہیرو سے ہو جاتی ہے۔ غصہ میں ایو وال-ای کو زمین پر واپس بھیجنے کا بندوبست کرتی ہے مگر اسی اثنا میں اسے گمشدہ پودا کا سراغ مل جاتا ہے۔ وال -ای زور عشق سے اس ڈبے سے رہائی پا لیتا ہے جس کے ذریے ایو اسے واپس بھیج رہی ہوتی ہے بلکہ اپنی محبوبہ کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے وہ پودا بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جس کی جھوٹی رپورٹ کے الزام میں اسے معتوب اور ملزم گردانا گیا ہوتا ہے۔ پودا پا کر ایو مارے خوشی کے وال-ای کا منہ چوم لیتی ہے جسے بلاشبہ بہترین الیکٹرونک بوسہ کہا جا سکتا ہے اور پھر دونوں بانہوں میں بانہیں ڈال کر ایگزیم(AXIOM) کے گرد وفور مسرت سے خلا میں جو رقص اور دھمال ڈالتے ہیں وہ بتانے والا نہیں دیکھنے والا کام ہے۔</p>
<p>کیپٹن ایو کے وژیول ریکارڈ دیکھ کر قائل ہو جاتا ہے کہ انسان اب زمین پر دوبارہ واپس جا سکتے ہیں۔ ایو بھی وال-ای کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے خصوصا اپنی ہی ریکارڈ کی ہوئی وہ وڈیوز دیکھ کر جب وہ زمین پر ساکت ہوگئی تھی اور وال-ای نے بہت پیار سے اس کی دیکھ بھال اور موسم کی سختیوں سے اسے بچانے کی کوشش انسانوں جیسے روبوٹانہ جذبات میں بہہ کر کی تھی۔ جیسا کہ ہر فلم خصوصا رومانوی میں کوئی نہ کوئی ولن اور برا کردار ہوتا ہے تو اس فلم میں بھی آٹو موجود ہے جو وال-ای کو بجلی کا شاک دے کر ایو کے ساتھ کچرے گھر میں پھینک دیتا اور کیپٹن سے صاف کہہ دیتا ہے کہ &#8220;یہ شادی نہیں ہو سکتی&#8221;</p>
<p>یعنی وہ کیپٹن کو واپس زمین پر نہیں جانے دے گا ( ہالو ڈیٹیکٹر کی تفصیل فلم دیکھ کر جانیں )۔ ایو بدمعاش اور کن ٹٹے روبوٹوں کی مدد سے آٹو کو ناکام بنا دیتی ہے اور کیپٹن کے ساتھ جہاز کو واپس زمین پر لے آتی ہے اور وال-ای کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر وال-ای ٹھیک ہونے پر سٹار پلس کے ڈراموں کی طرح اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور ایو کے لیے مر مٹنے کی قسمیں اور ساتھ جینے مرنے کے وعدوں پر بھی اس کی یادداشت واپس نہیں آتی۔ مایوس ہو کر ایو اسے ایک الوداعی بوسہ دیتی جس پر کا اثر کسی ٹرک کی ٹکر جیسا ہوتا ہے اور وال-ای کو سب یاد آ جاتا ہے اور یوں وال-ای اور ایو کا روبوٹانہ ملاپ ہو جاتا ہے اور وہ انسان تو تھے نہیں اس لیے یقنینا باقی عمر ہنسی خوشی ہی رہے ہوں گے۔ فلم کے آخر میں آرٹ کی بہت سے نمونے دکھائے گئے ہیں جن میں مصری ہائروگلائفس، یونانی یرنس، ڈا ونچی کے اسکیچ اور ونسنٹ وان گوف کی پینٹنگز ۔</p>
<h3>اعزازات</h3>
<p>فلم نے 81 ویں آسکر ایوارڈز میں بہترین ای میٹڈ فیچر کا اعزاز حاصل کیا جبکہ مجموعی طور پر وہ 6 آسکرز کے لیے نامزد ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ وال-ای نے بہترین اینی میٹڈ فلم کا بافٹا ایوارڈ ، بہترین اینی میٹڈ فلم کا گولڈن گلوب ایوارڈ، کسی فلم یا ٹی وی کے لیے لکھے گئے بہترین گانے اور بہترین انسٹریومنٹل اریجنمنٹ کے گریمی ایوارڈز اور بہترین اینی میٹڈ فیچر کا سیٹلائٹ ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ مجموعی طور پر فلم 82 اعزازات کے لیے نامزد ہوئی جس میں سے 47 اس کے نام رہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں معروف جریدے ٹائم میگزین نے اپنی 2008ء کی بہترین فلموں میں اسے اول نمبر دیا جبکہ 2010ء میں ٹائم میگزین نے وال-ای کو &#8220;دہائی کی بہترین موویز&#8221; کی فہرست میں بھی اول درجے پر رکھا۔ معروف فلمی جریدے امپائر کے کرائے گئے آن لائن پول میں وال-ای روبوٹ 100 عظیم فلمی کردار میں 63 ویں نمبر پر رہا۔</p>
<h3>ٹریلر</h3>
<p><iframe title="YouTube video player" src="http://www.youtube.com/embed/alIq_wG9FNk?rel=0" frameborder="0" width="560" height="345"></iframe></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://filmistan.info/animated/wall-e/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

