شٹر آئی لینڈ (Shutter Island) اس سال جاری ہونے والی مارٹن اسکورسیز (Martin Scorsese) اور لیونارڈو ڈی کیپریو (Leonardo DiCaprio) کی فلم ہے۔ کہانی ڈینس لیہانے (Dennis Lehane) کے اسی نام کے ناول پر مبنی ہے۔

پلاٹ

قصہ کچھ یوں ہے کہ یو ایس مارشل ایڈورڈ عرف ٹیڈی اپنے ساتھی چک کے ساتھ ایش کلف ہسپتال جاتے ہیں جو کہ شٹر آئی لینڈ نامی جزیرے پر واقع، خطرناک پاگل مجرموں کی ایک علاجگاہ ہے۔ انہیں وہاں زیر علاج ایک مریضہ ریچل سولانڈو کی پراسرار گمشدگی کی تحقیقات کرنا ہے۔ پراسرار اس لئے کہ ریچل سولانڈو ایک مقفل کمرے سے اچانک غائب ہوگئی ایسا کمرہ جس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے جو کہ بند تھا۔

گرچہ ایڈی اور اس کے ساتھی کو یہاں تفتیش کے لئے بلایا گیا ہوتا ہے۔ مگر ایڈی کو ایسا لگتا ہے کہ اس سے کچھ چھپایا جارہا ہے۔ مریضوں سے اس کے انٹرویوز سے بھی یہ ثابت ہوجاتا ہے جب ایک مریضہ سب کی نظریں بچا کر ایڈی کو ایک رقعہ تھماتی ہے جس پر اس کے لئے ایک لفظی تنبیہ درج ہوتی ہے “بھاگ جاؤ”۔

کہانی آگے چل کر مزید پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور اس سے زیادہ کچھ بھی لکھنا فلم کا اصل مزہ خراب کردے گا۔

تبصرہ

مارٹن اسکورسیز کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ ٹیکسی ڈرائیور، گڈ فیلاز، ایج آف اینوسینس، کسینو، گینگز آف نیو یارک جیسی شہرہ آفاق فلموں کے خالق ہیں۔ گرچہ شٹر آئی لینڈ ایک مکمل سکورسیز فلم ہے۔ اور لیونارڈو جو اب اسکورسیز کے نئے رابرٹ ڈی نیرو ہیں انہوں نے کمال کی اداکاری کی ہے۔ جزیرے کی منظر کشی، اس کی دشوارگزاری اور پیچیدہ راہداریوں کو صفائی سے استعمال کرتے ہوئے اسکورسیز نے غیر محسوس طریقے سے فلم بین کو مبحوسیت کا زبردست تاثر دیا۔ یہ تاثر، جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے رفتہ رفتہ فلم کے مرکزی کرداروں کے ساتھ فلم بین کو بھی ہیجان میں مبتلا کرتا ہے۔

ٹیڈی کے فلیش بیکس اور مریضوں کی عجب الخلقتگی آپ کو کسی خطرناک جگہ پر قید ہوجانے کا ذائقے سے آگاہ کرتی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ ٹیڈی خیریت کے ساتھ جزیرے سے نکل جائے۔ فلم کا سب سے خاص پہلو اس کی سینماٹوگرافی ہے۔

اس فلم کو اس سال کی اچھی فلموں میں سے ایک کہا جاسکتا ہے لیکن اگر آپ نے اصل ناول پڑھا ہو اور آپ اسکورسیز کی فلموں کے پرانے فین ہوں تو شاید آپ کو یہ فلم کچھ اتنی خاص پسند نہ آئے۔ سب کچھ اچھا ہونے کے باوجود اسکورسیز اسکرین پلے کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ٹیڈی کے فلیش بیکس پر کافی زیادہ وقت ضائع کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے فلم کے دیگر کرداروں پر توجہ نہیں دی گئی خاص طور پر ڈاکٹر جان کاؤلے کے کردار کو مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا۔

ناول کے برعکس فلم میں اسرار اس قدر عامیانہ طریقے سے کھلتا ہے کہ آپ کو کافی مایوسی ہوتی ہے۔ فلم کلائمکس بلڈنگ میں کافی کامیاب جارہی ہوتی ہے مگر عجیب بے تکے انداز میں اس کلائمکس کو فلم بین کے نیچے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔

عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ آپ کلائمکس بلڈ کرتے ہیں اور پھر اسے ایک ہموار عمودی سطح سے نیچے گراتے ہیں۔ کسی رولر کوسٹر رائیڈ کی طرح۔ سپسنس تھرلر فلموں اور ناولوں میں کہانی نگاری کا یہی طریقہ آزمایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسکورسیز کلائمکس کے عین عروج پر مرکزی کردار کو ایک دروازے پر لے جاتے ہیں جسے کے کھلتے ہیں کہانی کا سارا اسرار کھل جاتا ہے۔ جس سے تھوڑی مایوسی ہوتی ہے مگر فلم بین سوچتا ہے اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے اور فلم کا آخر منظر آ جاتا ہے۔ جس میں فلم بین کو یہ نہیں بتایا گیا کہ آگے کیا ہوا۔ آپ کو دو چوائسز دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک فلم کا اختتام ہے۔

ٹریلر

اہم لنکس

آفیشل ویب سائٹ
آئی ایم ڈی بی صفحہ