عزم مصمم اور جہد مسلسل انسان کو مایوسی کے اندھیرے گڑھوں سے نکال لاتی ہے۔ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ غربت کے باوجود اپنی خود داری، عزم، ہمت اور حوصلے کی وجہ سے بڑا نام کماتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نام امریکی سیاہ فام کرس گارڈنر کا ہے جو اپنی ذاتی ومعاشی مسائل کے باوجود مسلسل جدوجہد کرتے ہیں اور بالآخر ایک معروف اسٹاک بروکر بن جاتے ہیں۔
‘پرسوٹ آف ہیپی نیس’ کرس گارڈنر کی اسی جدوجہد کی داستان ہے جو انہوں نے اپنی سوانح حیات میں بیان کی ہے۔
2006ء میں بننے والی اس فلم کے لیے ہدایات دی ہیں گیبریل مچینو نے جبکہ کرس گارڈنر کا کردار ول اسمتھ نے ادا کیا ہے ۔
فلم 15 اکتوبر 2006ء کو کولمبیا پکچرز نے ریلیز کی۔

کہانی
1981ء میں کرس گارڈنر (ول اسمتھ) اپنی تمام بچت اوسٹیو نیشنل بون ڈینسٹی اسکینرز میں سرمایہ کاری پر لگا دیتا ہے، جو ایک پورٹ ایبل امیجنگ آلہ ہے جو مہنگا ضرور تھا لیکن روایتی ایکس رے کے مقابلے میں زیادہ ریزولیوشن کا حامل تھا۔ یہ سرمایہ کاری خاندان کےلیے ایک سفید ہاتھی بن جاتی ہے اور بالآخر مالی مسائل سے تنگ کرس کی ہلیہ لنڈا (تھانڈی نیوٹن) اسے چھوڑجاتی ہے اور بیٹا کرسٹوفر (جیڈن اسمتھ) بھی اپنے شوہر کے حوالے کر جاتی ہے۔
معاشی تنگی سے نکلنے کے تگ و دو کے دوران کرس کی ملاقات ایک ادارے کے مینیجرڈین وٹر سے ہوتی ہے جو اس کی ریوبکس کیوب (Rubiks Cube) حل کرنے کی صلاحیت سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ ڈین سے بننے والا تعلق اسے اسٹاک بروکر کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن بعد ازاں اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کام کے لیے اسے کوئی تنخواہ نہیں دی جائے گی بلکہ کام سیکھنے کے بعد 20 میں سے صرف ایک شخص کا انتخاب ہوگا جسے ادارے میں ملازمت فراہم کی جائے گی۔ مرتا کیا نہ کرتا، مشینوں کی فروخت سے کوئی آمدنی متوقع نہیں تھی، اس لیے اس سے ادارے میں شمولیت اختیار کر لی۔
اس کے بعد حالات خراب سے خراب تر ہوتے جاتے ہیں۔ مالک مکان کا کرایہ ادا نہ کر پانے کی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑتا ہے، تھوڑی بہت آمدنی حکومت محصولات کی مد میں کاٹ لیتی ہے۔ اس صورتحال میں بچے کو اسکول سے لانے اور لے جانے، پھر اسٹاک بروکر میں بغیر تنخواہ کے کام کرنا، درمیانی وقفے میں اپنی
ایکسرے مشین بیچنا، پھر شام کو بچے کو واپس لینے جانا اور خیراتی ادارے میں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر قطار میں لگ کر رات گزارنے کے لیے جگہ حاصل کرنے کی کوششوں میں جتا کرس گارڈنر اس کے باوجود حوصلہ نہیں ہارتا۔ ایک موقع ایسا بھی آتا ہے کہ اسے ریلوے اسٹیشن کے غسل خانے میں اپنے بیٹے کے ساتھ رات گزارنی پڑتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں کہ جب اسٹاک بروکر کمپنی میں اس کے 19 مقابل ملازمین جو ایک ملازمت کے حصول کے لیے کام کر رہے تھے، کرس کو ان سے بھی سخت مسابقت کا سامنا تھا۔ اور اپنے کام کو منظم کرنے کے لیے کرس سے کئی حکمت عملیاں مرتب کیں۔
بالآخر کرس ان تمام مصیبتوں سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اسٹاک بروکر کمپنی میں اسے ملازمت مل جاتی ہے۔ آخر میں بتایا جاتا ہے کہ کرس نے بعد ازاں اپنی بروکریج فرم قائم کی۔
اداکار
ول اسمتھ بطور کرس گارڈنر
جیڈن اسمتھ بطور کرسٹوفر گارڈنر جونیئر
تھینڈی نیوٹن بطور لنڈا گارڈنر
برائن ہوو بطور جے ٹوئسٹل
اعزازات
فلم ناقدین نے اس فلم کو بہت سراہا خصوصا ول اسمتھ کی شاندار اداکاری پر آسکر ایوارڈ برائے بہترین اداکار کےلیے بھی نامزد کیا گیا تاہم وہ یہ اعزاز حاصل نہ کر سکے۔ بہترین اداکار کے گولڈن گلوب ایوارڈ کے لیے بھی ول اسمتھ کو نامزد کیا گیا۔
فلم آغاز ہی سے باکس آفس پر کامیاب رہی اور پہلے ہی اختتام ہفتہ پر 27 ملین ڈالرز کی آمدنی کے ساتھ اول نمبر پر آئی۔ فلم نے 30 کروڑ 42 لاکھ امریکی ڈالرز سے زائد کی کل آمدنی حاصل کی۔
12 تبصرے کیے گئے۔
طالوت says:
Jan 16, 2011
ڈاؤنلوڈ کر کے دیکھتے ہیں کہ عام لوگوں کا خون چوسے بغیر بھی امیر بنا جا سکتا ہے یا نہیں۔
وسلام
خاور بلال says:
Jan 19, 2011
بہت شاندار فلم ہے۔ ول اسمتھ کی لاجواب اداکاری نے فلم میں گویا جان ڈال دی۔ معاش کی تنگی انسان کی زندگی کو کس قدر تلخ بناسکتی ہے اور اس تلخ زندگی کو جھیلنے اور اس سے جنگ کرنے کے لیے کتنا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ سچی کہانی ہے اور ایسی کتنی ہی سچی کہانیاں ہمارے معاشرے میں جابجا بکھری پڑی ہیں۔
وقاراعظم says:
Jan 23, 2011
میں اس سے پہلے ول اسمتھ کو ایک بہترین ایکشن فلم کے اداکار کے طور پر جانتا تھا لیکن دی پرسوٹ آف ہیپینیس میں اسے ایک مختلف کردار میں دیکھا اور حقیقت یہی ہے کہ جیسے ول اس فلم میں اپنی اداکاری کی معراج پر تھا شاید اس کی زندگی کی بہترین اداکاری۔ بغیر کسی ماردھاڑ اور سنسنی خیزی کے جو اس کی اکثر فلموں کا خاصہ ہوتی ہیں، مشکل حالات سے نبردآزما ایک سیلز مین کی جدوجہد کی کہانی ہے جسے دیکھنے کے دوران فلم بین کو کئی جگہوں پراپنے آنسوئوں پر قابو پانے میں شاید کچھ مشکل ہو۔
فلم میں ول اسمتھ کے پانچ سالہ بیٹے کرسٹوفر اسمتھ کی اداکاری بھی کمال کی ہے۔ ویسے مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ کرس گارڈنر ڈے کیر سینٹر سے اپنے بیٹے کو لینے کے دوران مرکز کی نگراں سے ہیپینس کی اسپیلنگ میں وائی کے بجائے آئی پر کیوں اصرار کرتا ہے؟
ابوشامل says:
Jan 23, 2011
واقعی ول اسمتھ نے اپنے کیریئر کی سب سے شاندار اداکاری اسی فلم میں کی ہے اور اس سے اتنی سنجیدہ اور شاندار اداکاری کی توقع وہ فرد تو بالکل نہیں کر سکتا جو اسے محض ایکشن فلموں میں دیکھتا ہے۔
ویسے وہ ہیپی نیس کی اسپیلنگ میں آئی استعمال کرنے پر زور اسی لیے دیتا ہے کیونکہ درست اسپیلنگ آئی کے ساتھ ہیں، ہیپی نیس وائی کے ساتھ لکھنا غلط ہے۔
جعفر says:
Jan 25, 2011
تبصرہ نگاران کی رائے سے متفق ہوں
سوائے ایک چیز کے
ول سمتھ کی زندگی کی سب سے بہترین پرفارمنس سیون پاونڈز میں ہے
اس فلم کی پرفارمنس دوسرے نمبر پر گنی جاسکتی ہے
بلاامتیاز says:
Jan 26, 2011
اچھی فلم ہے
حقیقی کہانیوں پر بننے والی فلمیں ہمیشہ مڈل کلاس طبقے کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں
Faisal says:
Jan 30, 2011
دیکھنی پڑے گی
عین لام میم says:
Feb 3, 2011
زبردست فلم اور بہت زبردست پرفارمنس….. جعفر کی بات سے اتفاق ہے کہ سمتھ کی بہترین اداکاری سیون پاؤنڈز میں ہے. لیکن مجھے ذاتی طور پہ یہ فلم زیادہ پسند ہے. شاندار کہانی تھی. واہ!
فیصل says:
Feb 5, 2011
جی جناب دیکھ لی ہے اور بہت ہی بہترین فلم ہے۔ میرے خیال میں میں اسکی جگہ ہوتا تو کئی مرتبہ خود کشی کر لیتا۔ شاید اولاد کی محبت انسان کو بیک وقت بہادر اور بزدل بنا دیتی ہے۔ فلم میں کئی جگہ آنسو ضبط کرنے پڑے۔ بچے کی اداکاری بھی شاندار ہے۔ اس فلم کو دیکھ کر کچھ شرم سی بھی آ رہی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل پر اتنا شور مچاتے ہیں ہم جبکہ کئی لوگوں کی زندگی اس فلم سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہے لیکن وہ ہمت نہیں ہارتے۔
ابو شامل بھائی گرامر کا خیال نہیں رکھا آپ نے۔ تبصرہ کہیں ماضی تو کہیں حال میں ہے۔
ابوشامل says:
Feb 5, 2011
فیصل بھائی، جب اس طرح کی تحریر دیکھیں تو سمجھ لیں کہ میں نے جلدی مین لکھی ہے۔ تکلیف کے لیے معذرت
تحریم says:
Feb 22, 2011
مزاحیہ فلموں پر تبصرہ کیجئے
شان علی says:
Feb 28, 2012
بہت زبردست فلم یے، ول اسمتھ نے لا جواب اداکاری کی ہے۔۔۔
فلم دیکھنے کے بعد بہت سوچ میں مثنت تبدیلی آئ ہے۔