سینس اینڈ سینسی بلیٹی برطانیہ میں ریلیز ہوئی ایک ڈرامہ فلم ہے جس کی کہانی اسی نام کے مشہور زمانہ ناول سے اخذ کی گئی ہے۔1811ء میں شائع ہوئے اس ناول کو انگریزی ادب کی معروف ناول نگار جین آسٹن نے لکھا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر لنڈسے ڈورن آسٹن کی تحریروں کے شیدائی تھے۔ انہوں نے اس فلم کا اسکرپٹ تحریر کرنے کیلئے ایما تھامسن کو منتخب کیا جنہوں نے فلم میں ایلانور ڈیش ووڈ کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ ایما تھامسن کی چھوٹی بہن کا کردار کیٹ ونسلیٹ نے نبھایا ہے۔ دراصل اسی فلم نے کیٹ ونسلیٹ کے کامیاب کیریئر کی بنیاد رکھی۔ جس کے بعد انہوں نے شہر آفاق فلم “ٹائی ٹینک” میں اداکاری کے جوہر دکھا کر ہالی ووڈ میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ فلم کی نمائش کے بعد انگریزی ادب کیلئے جین آسٹن کے بیش بہا خدمات کو مزید سراہا گیا اور ان کے اس ناول کی کہانی کئی دوسری فلموں اور ٹیلی وژن ڈراموں میں منتقل کی گئی۔

مایہ ناز ناقدین تو اس فلم کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں۔ لیکن کیونکہ میں ذاتی طور پر ناول پر مبنی ڈرامہ اور فلمیں دیکھنا پسند کرتا ہوں اس لیے اگر آپ اس فلم کو دیکھنا چاہتے ہیں اور اصل ناول نہیں پڑھا تو میرا مشورہ ہوگا کہ پہلے آپ ناول پڑھ لیں۔ فلم دیکھنے کے بعد اس کہانی پرمبنی ناول کو پڑھنا بے مزہ ہو جاتا ہے۔ لیکن ناول پڑھنے کے بعد اس پر بنی ہوئی فلم دیکھنے کا لطف الگ ہی ہوتا ہے۔

یہ فلم رومانوی ضرور ہے لیکن اس میں شکستہ دل پر گزرنے والی کیفیات کا بھر پوراحاطہ کیا گیا ہے۔ اس فلم میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم جسے پسند کرتے ہیں ضروری نہیں کہ ہماری زندگی کی خوشیاں اسی سے وابستہ ہو جائیں بلکہ عین ممکن ہے کہ یہی پسند ہمارے لئے تاحیات غم کا سامان بن جائے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں کئی ایسی شخصیات سے انسان کا سابقہ پیش آتا ہے جو بظاہر تو بے حد دیدہ زیب اور پر کشش ہوتے ہیں لیکن ان کی سیرت پر ایسے سیاہ دھبے بھی ہوتے ہیں جنہیں انکی صورت ظاہری پوشیدہ کئے ہوتی ہے۔ ان سیاہ دھبوں کی غلاظت و کسافت اکثر حادثاتی یا اتفاقی طور پر عیاں ہوتی ہے۔یہ فلم دراصل اسی پر فریب عشق کی داستان بیان کرتی ہے جس میں مبتلا ہو کر ایک انسان کسی فریبی کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اسی کو اپنی تمام خوشیوں کا محور و مرکز اور غم و الم کا مداوا سمجھ بیٹھتا ہے۔لیکن حقیقت اس کے عین برعکس ہوتی ہے۔ یہ اصول دائمی ہے کہ انسان کی تمام خوشیاں کسی فرد واحد کے ساتھ وابستہ ہو ہی نہیں سکتیں۔ اگر ایسا ہو تو دنیا میں رہنے والا کوئی شخص خوشگوار زندگی بسر کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ کسی فریبی کا فریب بجائے خود اس امر کا گواہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی کو خوش رکھنے کے قابل ہی نہ تھا۔ فریب کھانے والے پر جوں ہی یہ حقیقت آشکار ہو تی ہے اس کے شکستہ دل کو خود بخود حوصلہ اور طاقت ملنا شروع ہو جا تی ہے۔

فلم کی کہانی کی اصل شروعات مسٹر ڈیش ووڈ(ٹام ولکن سن) کی تین بیٹیوں کے تعارف کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایلانور (ایما تھامسن) سنجیدہ اور باشعور خاتون ہیں جو اپنی شادی کی عمر کے اختتامی مراحل میں ہیں، ماریان (کیٹ ونسلیٹ) ان کی شوخ اور جزباتی منجھلی بہن ہیں۔ اور11سالہ مارگریٹ (ایملی فرینکوئس) سب سے چھوٹی بہن جو ماریان کے نقش قدم پر چلنا پسند کرتی ہے۔ یہ تینوں مسٹر ڈیش ووڈ کے انتقال کے بعد اپنی سوتیلی والدہ(ہاریٹ والٹر ) اور سوتیلے بھائی جان(جیمس فلیٹ) کے ذریعہ جائداد سے بے دخل کر دی جاتی ہیں اور ایک چھوٹے سے شہر ڈیون شائر میں اپنی والدہ مسز ڈیش ووڈ(جیما جونز) کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ دریں اثنا اتفاقی طور پر ان تینوں بہنوں کی زندگی میں تین مختلف المزاج مرد آتے ہیں۔ ایڈورڈ فیرس (ہیو گرانٹ) جو ایک بااخلاق لیکن کم سخن مرد ہیں پہلی ملاقات کے بعد ہی ایلانور کے دل پر اپنا قبضہ جما لیتے ہیں۔ کرنل برانڈن (ایلن رک مین) ایک بہادر ، خوبرو مگر قدر ےشرمیلے ہیں، ماریان پر فریفتہ ہوتے ہیں جبکہ ماریان حادثاتی طور پر ایک پر کشش اور خوبصورت نوجوان جان ویلوبی (گریگ وائس) کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی ہیں۔ فلم کی کہانی ان کے مہذب معاشقے کے درمیان دلچسپ انداز میں گردش کرتی ہے۔جس میں کامیاب اور ناکام،حقیقی اور پر فریب محبت کے احساسات اور اس کے انجام کو دلکش انداز میں دکھایا گیا ہے۔اگر آپ ایکشن ، ایڈونچر اور مار دھاڑ سے بھرپور فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں تو اس فلم پر محض آپ کا وقت ضائع ہوگا۔ ایما تھامسن کی اداکاری تمام کرداروں پر حاوی ہے۔ انہوں نے اپنی ہی تیار کی ہوئی اسکرپٹ پر زبردست کام کیا ہے۔ ایلن رک مین کا سنجیدہ اور پرسکون کردار دیکھنے لائق ہے۔

تنقید و اعزازات

فلم کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ نیو یار ک ٹائمز کی مشہور ناقد جینٹ ماسلن نے فلم کو تفریح سے بھرپوراور دور حاضر کی مہذب ترین فلم بتایا۔ یہ فلم سات اکیڈمی اور 11 برٹش اکیڈمی یعنی بافٹا ایوارڈز کے علاوہ کئی اعزازات کے لئے نامزد کی گئی۔ جن میں اسے بہترین ماخوذ اسکرین پلے(Best Adapted Screen Play) کیلئے آسکر ایوارڈ اور بہترین فلم ، بہترین اداکاری( ایما تھامسن)، بہترین معاون اداکاری(کیٹ ونسلیٹ) کیلئے بافٹا ایوارڈ کا اعزاز حاصل ہوا۔

اضافی معلومات

ایملی فرینکوئس نے اس فلم میں مسٹر ڈیش ووڈ کی سب سے چھوٹی بیٹی مارگریٹ ڈیش ووڈ کا کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے اس فلم کے بعد 1997ء میں پاز (Paws)اور 2001ء میں نیو یارکس ڈے (New York’s day)میں کام کیا۔ 2003ء میں اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر وہ مسلمان ہو گئیں۔اب ان کا نام مریم ہے ۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور برطانیہ میں اسلام پر ہونے والے ٹی وی مباحثوں میں شرکت کرتی ہیں ۔ فری لانس صحافی کی حیثیت سے ان کے مضامین اکثر برطانیہ اور امریکہ کے انگریزی اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ حالات حاضرہ پر ان کے مضامین ان کے ذاتی بلاگ http://myriamfrancoiscerrah.wordpress.com/ پر بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔

ٹریلر