میری رائے میں تو فلموں کی صرف دو اقسام ہوتی ہیں، اچھی اور بری! باقی صرف تفصیل ہوتی ہے کہ لڑائی مارکٹائی، پیار محبت، سنسنی وغیرہ وغیرہ کس تناسب سے شامل ہیں۔ فلموں کی ایک تیسری اور نادر قسم ہوتی ہے، کراری فلم, جیسے لڈو پیٹھیاں والے، گول گپے، تیز مصالحے والے آلو چھولے، املی وغیرہ، جس سے سوائے چٹخارے کے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہوتی۔ جس فلم بارے، آپ اب پڑھیں گے، وہ اسی نادر قسم سے تعلق رکھتی ہے۔
گائے رچی کے بارے، پہلے پہل میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اس نے میڈونا سے شادی کرنے کا ”کارنامہ“ انجام دیا ہے۔ اس حرکت سے میرے ذہن میں اس کا کوئی اچھاتاثر نہیں بنا تھا۔ لیکن اتفاق سے ایک دن کسی چینل پر ‘سنیچ’ کے کچھ مناظر دیکھے اور فلم میکنگ کا یہ انداز، مجھے نیا، اچھوتا اور مزے دار لگا۔اس پر میں نے اس کی تازہ ترین (اس وقت کے حساب سے) فلم بارے پڑھا تو مجھے روک این رولا (RocknRolla) کا پتہ چلا۔

فلم کی ہدایتکاری اور مصنفی کی ذمہ داریاں انہی حضرت نے انجام دی ہیں۔ کہانی کا تانا بانا لندن کی رئیل اسٹیٹ مافیا کے گرد بنا گیا ہے اور اپنی سابقہ فلموں کی طرح اس فلم میں بھی گائے رچی کے تمام کردار، جرم کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مافیا ڈان سے لے کر معمولی اچکوں تک ہر قسم اور نسل کا جرائم پیشہ کردار آپ کو نظر آئے گا۔ فلم کا آغاز پیچیدہ اور ذرا سست ہے۔ لیکن پلاٹ کے مرکزی نکات اور کرداروں کے تعارف کے بعد جب فلم رفتار پکڑتی ہے تو دیکھنے والے کو بہا کے لے جاتی ہے۔
گائے رچی، اس فلم میں آپ کو ایسے کرداروں اور ماحول سے متعارف کرواتے ہیں، جو ہالی ووڈ کی فلموں کے عادی ناظرین کے لیے ایک انوکھا پن لئے ہوئے ہے۔ برطانوی پس منظر کی وجہ فلم میں ایک انفرادیت ہے (یا صرف مجھے محسوس ہوئی)۔ اس فلم کی ایک اور خاص بات یہ کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا کردار بھی بھرتی کا نہیں ہے، بلکہ کہانی کو آگے لے کے جانے والا اور اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ مکالمے مزے دار بلکہ لذیذ ہیں اور سونے پر سہاگہ برطانوی تلفظ۔ میری رائے میں اس فلم کا سکرپٹ ان چند فلم سکرپٹس میں شامل ہے جنہیں مکمل ترین کہا جاسکتا ہے۔
فلم کی بیشتر کاسٹ برطانوی اداکاروں پر مشتمل ہے، جن میں جیرارڈ بٹلر، مارک سٹرونگ، ادریس البا، ٹام ہارڈی، ٹام ولکونسن ، ٹوبی کیبل وغیرہ شامل ہیں۔ اداکاری اعلی معیار کی ہے۔ خاص طور پر مارک سٹرونگ بطور ”آرچی“ اور جیرارڈ بٹلر بطور ”ون ٹو“ کے زبردست ہیں۔ منشیات کے عادی راک سٹار جونی کوئیڈ کے کردار میں ٹوبی کیبل نے بھی زبردست پرفارمنس دی ہے۔
آخری بات یہ کہ یہ جائزہ جتنا پھسپھسا ہے، فلم اتنی ہی مزے دار ہے۔ لہذا آپ کا جب بھی فلم دیکھنے کا پروگرام بنے تو سب سے پہلے اسے ہی بھگتائیے گا، اس جائزے کو پڑھنے کی بوریت دور ہوجائے گی۔
8 تبصرے کیے گئے۔
عثمان says:
5, 2011
ٹریلر سے تو واقعی رولا رولا سا معلوم ہورہی ہے۔
جائزے کی بوریت فلم دیکھنے سے دور ہوگی۔ اور فلم کی بوریت کیسے دور ہوگی؟
دوست says:
5, 2011
لو جی میں نے تو ڈاؤنلوڈ پر لگا دی. اسی وجہ سے مجھے فلمستان اچھا لگتا ہے، بندے کی پتر فلمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں.
عین لام میم says:
8, 2011
یہ جو آغاز کے سست اور پیچیدہ ہونے کی بات کہی آپ نے۔۔۔ شاید اسی وجہ سے میں یہ فلم دیکھنے سے ابھی تک باز رہا تھا۔۔۔۔۔ اب تو شاید میں ڈیلیٹ بھی چکا ہون۔۔خیر فیر ڈاؤنلوڈتے ہیں اک واری۔ اب اگر یہ کراری نہ ہوئی تو آپ کی دکان/چھابڑی کی خیر نئیں۔۔۔
ساجداقبال says:
15, 2011
میں نے آدھے تک دیکھی تھی، بوریت سے مرنے کو آگیا تو شفٹ ڈیلیٹ کر دی. اب تذبذب کا شکار ہوں کہ اس ‘جھوٹی’ فلم کو دیکھوں کہ نہیں؟
تحریم says:
22, 2011
مجھے ایسی فلمیںپسند نہیں
شہزاد وحید says:
24, 2011
میں دیکھ چکا ہوں یہ فلم۔ مجھے اس فلم نے کوئی اتنا خاص مزہ نہیں دیا شاید اس موضوع پر میں اس سے بہتر فلمیں دیکھ چکا ہوں اس لیئے۔
محب علوی says:
29, 2011
جعفر نے تبصرہ کرارا لکھا ہے فلم چاہے کراری نکلے نہ نکلے
ہانی السعید says:
10, 2011
کوئی بھی اردو/ہندی فلموں کے بارے میں لکھنا تو بڑی خوشی ہوگی۔ بلکہ اردو/ ہندی فلموں کی کوئی بھی سکرپٹ لگا کے اس کی تنقید کریں تو عام ناظرین ضرور مستفید ہونگے۔