وال-ای (WALL-E) نام سے لگتا ہے جیسے کسی نئی الیکٹرونک ڈیوائس یا مائیکروسافٹ کی طرف سے سرفیس ٹیبل کی طرح کوئی کمپیوٹر سے مزین دیوار بھی مارکیٹ میں آ رہی ہے جبکہ درحقیقت یہ نام ہے ایک کیوٹ خواب گر روبوٹ کا جو کہ سنسان و بیابان، میکینیکل کچرے سے بھری زمین پر تنہا کارکن روبوٹ ہے۔ اپنے درخشاں ماضی، جس میں بیشمار سپر ہٹ animated فلمیں شامل ہیں، پکسار کو ایک اور شاہکار پیس کی فراہمی کے ذریعے اپنی تابناک پروفائل کو برقرار رکھنے کے لیے لازم تھا کہ وہ ایک شاہکار بناتے اور یہ حق انہوں نے ویسے ہی نبھایا جیسے کہ حق تھا۔
وال -ای (Waste Allocator Load Lifter Earth Class) ایک روبوٹ کے لیے خاصہ طویل نام ہے جس کا مخفف وال -ای دیکھنے اور سننے میں بھی بھلا محسوس ہوتا ہے خصوصا ایو کی زبانی، صنف نازک ہیروئن روبوٹ ( جی اس فلم میں ایک روبوٹ ہیروئن بھی فلم میں رومانوی جذبات شامل کرنے کے لیے ) ۔ وال ای غالبا پہلا روبوٹ یے جو نہ صرف دل رکھتا ہے بلکہ دلبر بھی ۔۔۔۔۔ایو۔
کہانی
کیا خیال ہے فلم شروع کریں، ہیرو اور ہیروئن کے تعارف کے بعد۔ فلم اس سین سے شروع ہوتی ہے کہ وال-ای کچرا صاف کر رہا ہے اور اکیلا ہی یہ فریضہ انجام دے رہا ہے۔ انسان مدتوں پہلے ناقابل رہائش مضر صحت کرہ ارض چھوڑ چکے ہیں ایک سپیس شپ ایگزیم (AXIOM) پر جسے بائے این لارج نامی ایک بڑی کارپوریشن نے بنایا تھا، وال ای بھی اسی نے بنایا تھا۔ وال-ای ہر صبح Macintosh (پکسار نے اپنے پرانے بانی ایپل کمپوٹر کے اسٹیو جابز کو خراج تحسین پیش کیا اس انداز سے ) کے آرکسٹرا کی دھن پر جاگتا ہے اور اپنے فرائض منصبی انسانی اطوار میں ادا کرتا ہے یعنی کام کے ساتھ تفریح اور مزید مواقع کی جستجو۔ وال ای ہر شے کو کچرا گھر نہیں پھینکتا بلکہ کوئی کام کی چیز لگے تو گھر بھی لے جاتا ہے جس سے اس کا غریب خانہ سج جاتا ہے جیسے کہ ایک پلاسٹک ڈائنو سار، لائٹ بلب، چھوٹا بیج جو پرانے بوٹ میں رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے دن کا اختتام ہیلو ڈولی کی ایک پرانی ویڈیو ٹیپ دیکھ کر کرتا ہے جو فنون لطیفہ سے اس کی دلچسپی کا اظہار کرتا ہے، ایک اور انسانی خصوصیت۔

ہیرو کی زندگی بدلنے کی فلموں میں کیا چیز درکار ہوتی ہے؟ مرد حضرات تو سب یقینا پہنچ گئے ہوں گے البتہ جو خواتین نہیں پہنچ سکیں انہیں انڈین فلموں کا تجزیاتی جائزہ لینے کی ضرورت اور جو مرد نہیں پہنچے انہیں فلمیں دیکھنے ہی نہیں سمجھنے کی بھی ضرورت پر غور کرنا چاہیے۔ جی، فلم میں رونق افروز ہوتی ہیں فلم کی ہیروئن “ ایو “، یہاں ایو سے مراد مائی حوا نہیں ہے بلکہ ایک خوبصورت، مغرور و حسین الٹرا ماڈرن روبوٹ ایو جسے دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اب ہیرو کی زندگی میں رنگ و نور کی برسات شروع ہونے والی ہے ۔ نور تو وال-ای کو ایو کے سفید رنگ میں ہر پل دکھنے لگتا ہے اور رنگوں کی برسات ایو کی طرف سے ہونا شروع ہو جاتی ہے جو وہ ہر شے پر لیزر اسکین لے کر کرتی ہے۔ایو ایگزیم سے زمین پر زندگی کے آثار دیکھنے کے لیے بھیجی گئی ہوتی ہے اس وجہ سے وہ ہر شے کو اسکین کرکے اس کا جائزہ لیتی ہے تاکہ اس کی رپورٹ وہ واپس بھیج سکے۔
وال-ای جو پہلی نظر میں ہی اپنا دل ہار بیٹھا ہوتا ہے ایک مدت تک تو قرون وسطی کے حیا دار عاشقوں کی طرح نظارہ حسن چھپ چھپ کر ہی کرتا ہے مگر ایک دن دونوں کا آمنا سامنا ہو جاتا ہے جس پر ایو ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے (بالکل کسی رومانوی فلم کی طرح ) مگر جس طرح ساری فلموں میں ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ ہیرو اور ہیروئن میں دوستی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگتے ہیں ایسے ہی اس فلم میں بھی ہوتا ہے اور یہی اس فلم کی وہ خوبصورتی ہے جو اسے باقی فلموں میں سے ممتاز کرتی ہے کیونکہ یہاں ڈائیلاگ اور لفظوں کی بجائے فقط بیپ اور میشنی آوازوں سے لگاوٹ اور اظہار الفت کا کام لیا گیا جس کے لیے ساؤنڈ ڈائریکٹر کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ ایو (جس کی دلکشی اور نازک اندامی کو نیویارک ٹائمز نے آئی فون سے تشبیہ دی ہے ) کو متاثر کرنے کے لیے ویسے تو وال-ای کئی اور جتن بھی کرتا ہے مگر جب وہ غریب اپنی متاع عزیز جوتے میں رکھا پودا پیش دربار حسن کرتا ہے تو ایو وہ تحفہ قبول کرکے رکھ تو کر لیتی ہے مگر مارے حیا کے ایو کا دل ہی بند ہو جاتا ہے اور وہ یوں جامد و انجان ہو جاتی ہے جیسے دیوار پر لگی ساکت تصویر۔ وال-ای کے لاکھ جتن پر بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوتی اور روٹھے محبوب کی طرح مان کر نہیں دیتی(حقیقت میں کیا ہوتا ہے یہ آپ فلم دیکھ کر پتہ کریں )۔
کچھ دنوں میں ایک ہوائی مشین آتی ہے اور ایو کو اٹھا کر لے جاتی ہے، وال ای محبوب سے بچھڑنے کے تصور سے ہی کانپ اٹھتا ہے اور مشین سے لٹک کر خلا میں موجود ایگزیم تک پہنچ جاتا ہے جہاں پر موجود انسان جہاز کے خودکار نظام پر انحصار کی وجہ سے انتہائی موٹے اور کاہل ہو چکے ہوتے ہیں۔ جہاز کا انتظام، کیپٹن کم اور آٹو پائلٹ، آٹو (Auto) زیادہ چلاتا ہے۔ کیپٹن کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ اگر ایو زمین سے کوئی پودا لے کر آئی ہے تو وہ واپس زمین پر جا سکتے ہیں کیونکہ اب وہ قابل رہائش جگہ بن چکی ہے مگر جب ایو کو کھولا جاتا ہے تو پودے کا بیج گمشدہ ہوتا ہے جس پر ایو کو مرمت خانے بھیج دیا جاتا ہے۔ وال -ای ایو کی مرمت کو پنجاب پولیس کی تفتیشی مرمت سمجھ لیتا ہے اور اسے بچانے اور چھڑانے کے چکر میں غلطی سے کئی کن ٹٹے روبوٹوں کو آزاد کر دیتا ہے۔ اس پر ایو وال-ای سے ویسے ہی ناراض ہو جاتی ہے جیسے ہیروئن کے بھائی کی غلطی سے مرمت کرنے پر ہیروئن ہیرو سے ہو جاتی ہے۔ غصہ میں ایو وال-ای کو زمین پر واپس بھیجنے کا بندوبست کرتی ہے مگر اسی اثنا میں اسے گمشدہ پودا کا سراغ مل جاتا ہے۔ وال -ای زور عشق سے اس ڈبے سے رہائی پا لیتا ہے جس کے ذریے ایو اسے واپس بھیج رہی ہوتی ہے بلکہ اپنی محبوبہ کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے وہ پودا بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جس کی جھوٹی رپورٹ کے الزام میں اسے معتوب اور ملزم گردانا گیا ہوتا ہے۔ پودا پا کر ایو مارے خوشی کے وال-ای کا منہ چوم لیتی ہے جسے بلاشبہ بہترین الیکٹرونک بوسہ کہا جا سکتا ہے اور پھر دونوں بانہوں میں بانہیں ڈال کر ایگزیم(AXIOM) کے گرد وفور مسرت سے خلا میں جو رقص اور دھمال ڈالتے ہیں وہ بتانے والا نہیں دیکھنے والا کام ہے۔
کیپٹن ایو کے وژیول ریکارڈ دیکھ کر قائل ہو جاتا ہے کہ انسان اب زمین پر دوبارہ واپس جا سکتے ہیں۔ ایو بھی وال-ای کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے خصوصا اپنی ہی ریکارڈ کی ہوئی وہ وڈیوز دیکھ کر جب وہ زمین پر ساکت ہوگئی تھی اور وال-ای نے بہت پیار سے اس کی دیکھ بھال اور موسم کی سختیوں سے اسے بچانے کی کوشش انسانوں جیسے روبوٹانہ جذبات میں بہہ کر کی تھی۔ جیسا کہ ہر فلم خصوصا رومانوی میں کوئی نہ کوئی ولن اور برا کردار ہوتا ہے تو اس فلم میں بھی آٹو موجود ہے جو وال-ای کو بجلی کا شاک دے کر ایو کے ساتھ کچرے گھر میں پھینک دیتا اور کیپٹن سے صاف کہہ دیتا ہے کہ “یہ شادی نہیں ہو سکتی”
یعنی وہ کیپٹن کو واپس زمین پر نہیں جانے دے گا ( ہالو ڈیٹیکٹر کی تفصیل فلم دیکھ کر جانیں )۔ ایو بدمعاش اور کن ٹٹے روبوٹوں کی مدد سے آٹو کو ناکام بنا دیتی ہے اور کیپٹن کے ساتھ جہاز کو واپس زمین پر لے آتی ہے اور وال-ای کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر وال-ای ٹھیک ہونے پر سٹار پلس کے ڈراموں کی طرح اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور ایو کے لیے مر مٹنے کی قسمیں اور ساتھ جینے مرنے کے وعدوں پر بھی اس کی یادداشت واپس نہیں آتی۔ مایوس ہو کر ایو اسے ایک الوداعی بوسہ دیتی جس پر کا اثر کسی ٹرک کی ٹکر جیسا ہوتا ہے اور وال-ای کو سب یاد آ جاتا ہے اور یوں وال-ای اور ایو کا روبوٹانہ ملاپ ہو جاتا ہے اور وہ انسان تو تھے نہیں اس لیے یقنینا باقی عمر ہنسی خوشی ہی رہے ہوں گے۔ فلم کے آخر میں آرٹ کی بہت سے نمونے دکھائے گئے ہیں جن میں مصری ہائروگلائفس، یونانی یرنس، ڈا ونچی کے اسکیچ اور ونسنٹ وان گوف کی پینٹنگز ۔
اعزازات
فلم نے 81 ویں آسکر ایوارڈز میں بہترین ای میٹڈ فیچر کا اعزاز حاصل کیا جبکہ مجموعی طور پر وہ 6 آسکرز کے لیے نامزد ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ وال-ای نے بہترین اینی میٹڈ فلم کا بافٹا ایوارڈ ، بہترین اینی میٹڈ فلم کا گولڈن گلوب ایوارڈ، کسی فلم یا ٹی وی کے لیے لکھے گئے بہترین گانے اور بہترین انسٹریومنٹل اریجنمنٹ کے گریمی ایوارڈز اور بہترین اینی میٹڈ فیچر کا سیٹلائٹ ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ مجموعی طور پر فلم 82 اعزازات کے لیے نامزد ہوئی جس میں سے 47 اس کے نام رہے۔
علاوہ ازیں معروف جریدے ٹائم میگزین نے اپنی 2008ء کی بہترین فلموں میں اسے اول نمبر دیا جبکہ 2010ء میں ٹائم میگزین نے وال-ای کو “دہائی کی بہترین موویز” کی فہرست میں بھی اول درجے پر رکھا۔ معروف فلمی جریدے امپائر کے کرائے گئے آن لائن پول میں وال-ای روبوٹ 100 عظیم فلمی کردار میں 63 ویں نمبر پر رہا۔
28 تبصرے کیے گئے۔
خاور بلال says:
Jan 25, 2011
محب صاحب فلمستان پر آپ کا پہلا ریویو اور وہ بھی اس قدر لذیذ۔ جتنا مزہ فلم دیکھ کر آیا اتنا ہی اس ریویو کو پڑھ کر آیا۔
عامر شہزاد says:
Jan 25, 2011
بہت مزے کی فلم ہے۔
کچھ عرصے پہلے میں نے بھی اپنے بلاگ پر کچھ کہانی لکھی تھے۔
دوست says:
Jan 25, 2011
ایک ہور فلم مل گئی. پورا ری ویو پڑھا ہی نئیں اس لیے رائے کوئی نہیں. فلم ویکھ کے رائے دیتے ہیں.
محب علوی says:
Jan 26, 2011
بہت شکریہ خاور اور اب تک واحد آپ کا ہی تبصرہ ریویو کے متعلق ہے اور دل بڑا کرنے والا اور تعریف کا حق ادا کر دیا آپ نے
محب علوی says:
Jan 26, 2011
واقعی فلم بہت مزے کی ہے اور عامر ریویو کے بارے میں بھی کچھ عرض کرتے جاتے
عامر شہزاد says:
Jan 28, 2011
سر جی، آپ نے ایسے خوب صورت انداز سے لکھا کہ پتہ نہیں چلا کہ فلمستان پر کسی نئے بندے نے لکھا ہے (:
محب علوی says:
Jan 26, 2011
دوست ،
یار ریویو تو پورا پڑھ لیتے کم از کم اور تمہارے رائے ہی جان لیتے پر لگتا ہے بہت جلدی میں تھے
عمار ابنِ ضیا says:
Jan 26, 2011
میں نے یہ فلم پچھلے دنوں دیکھنا شروع کی تھی لیکن شروع کے پہلے دو مناظر دیکھنے کے بعد کسی کام میں مصروف ہوکر بند کردی تھی، لیکن آپ کے اس جان دار اور دل چسپ تبصرے کے بعد سوچ رہا ہوں کہ یہ فلم دیکھ ہی لوں۔۔۔ بہت زبردست تبصرہ لکھا ہے۔
ابوشامل says:
Jan 26, 2011
محب بھائی بہت دنوں پر تحریری فارم میں نظر آئے ہیں، مزا آ گیا تبصرہ پڑھ کر۔ بھرپور دیسی ٹچ دیا ہے آپ نے فلم کو۔ خصوصا یہ جملہ “یہ شادی نہیں ہو سکتی”
آپ سے اسی طرح کی مزید تحاریر کی امید ہے۔
فاتح says:
Jan 26, 2011
اس قدر طویل تبصرہ. اس سے کم وقت میں تو فلم دیکھی جا سکتی ہے لیکن بہرحال حکم حاکم مرگ مفاجات اسے تو پڑھ کر ہی دم لینا ہو گا.
ابوشامل says:
Jan 26, 2011
اوہو فاتح صاحب آئے ہیں۔ خوش آمدید خوش آمدید
بھائی، اس تحریر میں تو ہم بھی تماش بین ہیں، اب آپ جانیں اور “حاکم”
جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ says:
Jan 26, 2011
ہم نے فلم تو نہیں دیکھی لیکن آپ کی ڈسکریپشن سے لگا کہ کرسچیئینیٹی اور ہندو ازم کے مکس کی بات کی گئی ہے ۔ نارمل بیہیوئیر یعنی یونیفارمیٹی کو ڈسکریج کرنا اور ریٹرن ٹو ارتھ تو نظر آ ہی رہا ہے ۔ جنت سے دوری اور معجزے کا ٹچ بھی ۔ کین اور شادی نہ ہونے والی بات بھی ۔ گندم کا بیج بھی ہے جی ۔ فیسینیٹنگ اینڈ کلاسک ۔
سائینس اور مائیتھالوجی کا حسین امتزاج ہے یہ فلم جی ۔
محب علوی says:
Jan 27, 2011
فاتح ،
پڑھ کر دم لے لیا ہو تو تبصرہ بھی کر دینا
محب علوی says:
Jan 27, 2011
بہت شکریہ عمار ،
سچی بات یہ ہے کہ تمہارے تبصرے سے کافی تقویت ملی ہے کیونکہ تم نے بہت عمدہ اور تقابلی جائزے لیے ہیں فلموں کے لیے اس سائٹ پر اور امید ہے کہ ابو شامل کے شروع کیے ہوئے اس خوبصورت سلسلے کو ہم سب مل کر جاری رکھیں گے۔
عدنان مسعود says:
Jan 27, 2011
محب علوئ صاحب، اس تجزئے کا شکریہ، آپ نے اسپوائلر الرٹ کا خوب التزام رکھا کہ تشنگی باقی رہے
وال-ائی ایک اچھوتے موضوع پر بنائی گئی ایک نہایت خوبصورت اور تکنیکی لحاظ سے بہت ہی خصوصی اینیمیٹڈ فلم ہے ۔ آی ایم ڈی بی پر دو لاکھ ووٹوں کے ساتھ آٹھ اعشاریہ پانچ ریٹنگ رکنے والی اس فلم کو ناقدین کے مطابق بہترین فلم کے زمرے میں نامزد کیا جانا چاہئے تھا لیکن آسکر کے کرتا دھرتا ابھی اس بات کے لئے تیار نہیں کہ ایک اینیمیٹد فلم کو ‘حقیقی’ فلموں کے مقابلے کھڑا کیا جائے لحاظہ اسے اینیمیٹد فلم کی کیٹیگری ہی میں آسکر ملا۔
اس میں ترقی یافتہ دنیا کے بہت سے مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا ہے مثلا وسائل کا بے دریغ استعمال، قدرتی عوامل ‘آرگینگ’ چیزوں سے دوری، تن آسانی ، کنسیومرزم وغیرہ شامل ہیں۔ اس اینیمیٹڈ فلم کی خاص بات جو مجھے پسند آئی ہے وہ یہ ہے کہ اسے بچے اور بڑے دونوں لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور مختلف سبق حاصل کرسکتے ہیں جس میں صفائی ستھرائی، ری سایکلنگ کی اہمیت اور اپنے ماحول کی حفاظت وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن یہ ڈزنی پکسار کا ہی کمال ہے کہ ایسے خشک اور پیچیدہ موضوعات کو اتنے دلچسپ طریقے سے فلمبند کیا ہے کہ آپ اش اش کرتے رہ جائیں۔ اس فیچر کو الفاظ میں بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسے لوو عجائب گھر کی نثری مضمون میںتصویر کشی کرنا۔ آپ خود دیکھیں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ یہاں ریزولیشن اور ڈسپلے کا سائز مصداق گڑ حظ سے راست متناسب ہے۔
جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ says:
Jan 27, 2011
سوری محب صاحب، ہم آپ کا شکریہ تو ادا کرنا ہی بھول گئے ۔ آپ نے سنائی ہی اتنے دلکش سی تھی جی ۔ ساڑ رکھنے والے اسے گریٹسٹ سٹوری ایور سولڈ بھی کہتے ہیں ۔
ابوشامل says:
Jan 27, 2011
فلم کے جس پہلو نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا وہ کنزیومر ازم اور انسانوں کا مشینوں پر حد سے زیادہ انحصار ہیں۔ جن کی طرف برادر عدنان مسعود نے نشاندہی بھی کی ہے۔
وہ افراد جو اینی میٹڈ فلموں کو محض کارٹون یا بچوں کے دیکھنے کی چیز سمجھتے ہیں وہ پکسار کی گزشتہ چند سالوں میں پیش کردہ اینی میٹڈ موویز دیکھیں، انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ فلموں کی یہ صنف اب ترقی کی کن منازل پر پہنچ چکی ہے۔
محمدصابر says:
Jan 27, 2011
ایسی شاندار فلم کے لئے کسی ایسے ہی شاندار جائزے کی ضرورت تھی۔
امید says:
Jan 27, 2011
بہت مکمل اور جامع تبصرہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔
محب علوی says:
Jan 28, 2011
عدنان آپ کے جاندار تبصرے اور تجزیے کا شکریہ اور مجھے لگتا ہے جلد ہی کسی فلم پر آپ کا بھرپور تجزیہ آنے والا ہے۔
محب علوی says:
Jan 28, 2011
سنکی ، آپ کے تبصرے اور تعریف دونوں کے لیے شکریہ اور امید ہے آپ بھی حصہ ڈالیں گے اس سائٹ پر کسی فلم کے حوالے سے۔
صابر آپ کا بھی شکریہ ۔
شکریہ امید
دانیال دانش says:
Jan 28, 2011
اتنے بہترین ریویو کے بعد تو یہ فلم دیکھنا ہم پر فرض ہو گیا ہے .
فیصل says:
Jan 30, 2011
فلم میں نے دیکھ رہکھی ہے اور نہایت شاندار فلم ہے. ماحولیاتی اور سماجی مسائل کی اچھی نشاندہی کی گئی ہے.
تبصرے پر تبصرہ اسلیے نہیں کرتا کہ آج تک خود میں نے کسی فلم کا تبصرہ نہیں لکھا. کچھ تنقیدی باتیں البتہ اوپر دوست احباب پہلے ہی کہہ چکے ہیں.
عین لام میم says:
Feb 3, 2011
وال-ای کا تجزیہ پڑھ کے بہت اچھا لگا کہ یہ فلم میری بہت ہی پسندیدہ فلموں میں ایک ہے. محب علوی کا تجزیہ بہت بہترین اور موزوں ہے. دیسی انداز میں موازنہ کر کے اور بھی دلچسپ بنا دیا ہے…. امید ہے محب صاحب کی مزید تحاریر بھی پڑھنے کو ملیں گی فلمستان پہ.
ماوراء says:
Feb 5, 2011
زبردست ریویو پیش کیا ہے محب. یہ فلم میں دیکھنا چاہ رہی تھی لیکن فرصت نہیں مل رہی. ریویو پڑھ کر تو لگ رہا ہے کہ اب دیکھنی ہی پڑے گی.
وقاراعظم says:
Feb 7, 2011
فلم میں نے دیکھی ہے. بہت اچھی فلم ہے لیکن اس سے زبردست تو فلم پر آپ کا تبصرہ ہے…
تحریم says:
Feb 22, 2011
واقعی فلم اچھی ہے
شہزاد وحید says:
Feb 24, 2011
میں نے جب یہ فلم پہلی بار دیکھنی شروع کی تو تھوڑی سی دیکھ کر بند کر دی مجھے کیچ نہیں کیا اس فلم نے۔ لیکن پھر جب دوبارہ پوری دیکھی تو میں اس فلم کا فین ہو گیا۔ بہترین فلم ہے یہ۔