گزشتہ ماہ والٹ ڈزنی پکچرز اور پکسار اسٹوڈیوز کی نئی پیشکش “ٹوائے سٹوری 3“(Toy Story 3) نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ ابھی تک باکس آفس پر شاندار کامیابی کی حامل یہ فلم 1995ء میں جاری کردہ “ٹوائے سٹوری”(Toy Story) کا تیسرا پارٹ ہے۔ اس سیکوئل کی تینوں فلموں نے اپنے اپنے وقت میں خوب دھوم مچائی اور باکس آفس پر بہترین کمائی کرنے والی اینیمیشن فلموں میں گنی جاتی ہیں۔ فلم کے ہدایت کار لِی اونکرچ (Lee Unkrich) ہیں جو پہلی اور دوسری فلم میں ایڈیٹنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ تینوں فلموں میں مرکزی کردار ’ووڈی‘ کی آواز ٹام ہینکس نے ادا کی ہے۔ اور دیگر مستقل آوازوں میں ٹِم ایلن(بَز لائٹ ایئر)، ڈان رکلز(مسٹر پوٹیٹو ھیڈ)، جم وارنی(سِلنکی ڈاگ)، والیس شان(ریکس) اور جان مورس(اینڈی) شامل ہیں۔
جب ٹوائے سٹوری 3 ریلیز ہوئی اور اس کی متوقع کامیابی کا چرچا عام ہوا تو میں نے تجسس میں اس کے پہلے دونوں پارٹ دیکھے۔ ایک تو یہ اینیمیشن فلم ہے جسے عام طور پر “کارٹون” فلم ہی سمجھا جاتا ہے اور دوسرے اس میں کردار بھی کھلونے تھے سو میرا خیال تھا کہ زیادہ بچوں کے دیکھنے والی ہی ہوگی۔ پہلا پارٹ 1995ء میں آیا تھا اور ڈزنی اور پکسار کی پہلی مشترکہ فلم تھی۔ اس کے علاوہ اینیمیشن فلموں کی تاریخ میں پہلی فلم تھی جو مکمل کمپیوٹر جنریٹڈ امیجری (Computer-generated Imagery – CGI) کے ذریعے بنائی گئی تھی۔ اس فلم نے پہلے ہی ہفتے میں شاندار کامیابی کے ریکارڈ توڑے۔ جس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں فلم سے متعلقہ کھلونوں اور دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ویڈیو گیمز اور تھیم پارکس کا رجحان بھی بڑھ گیا۔ اس فرنچائز کی یہ کامیابی 1999ء میں آنے والی ٹوائے سٹوری 2 کے ساتھ بھی رہی اور دوسرے پارٹ نے پہلے سے بڑھ کر ہلہ گلہ مچایا۔ دونوں فلموں کی کہانی اور پلاٹ کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر گرافکس بھی جدید اور کمال کے تھے۔ کہانی میں ایڈونچر اور ایکشن کے ساتھ ساتھ جذبات بہت بہترین انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ ان فلموں کی کہانی اینڈی نامی بچے کے کھلونوں کے گرد گھومتی ہیں جو اس وقت “زندہ” ہو جاتے ہیں جب کوئی انسان انہیں نہ دیکھ رہا ہو۔ یوں ان جیتے جاگتے کھلونوں کی کہانیاں دوستی، حسد، کھلونوں کی ترجیحات، عمر کے ساتھ بڑھنے اور زندگی کے مقصد کی زبردست عکاسی کرتی ہیں۔ بچوں کا کھلونوں کے ساتھ کھیلنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور کھلونوں کی اپنے مالکان کے لئے محبت اور تمام دکھ سکھ میں ان کیلئے موجود رہنے کی لگن ہی کہانی کا مرکزی خیال ہے لیکن ان جذبات کو انسانی زندگی اور جذبات کے کسی بھی منظر میں بخوبی فٹ کیا جا سکتا ہے۔
یہ تو تھا فلم کے پہلے دو حصوں یا اس فرینچائز کا مختصر تعارف، اب آتے ہیں ’اصل‘ فلم کی جانب یعنی ٹوائے سٹوری 3۔ ٹوائے سٹوری 3 ایڈونچر، ایکشن اور ایموشن یعنی جذبات کی انتہا کو چھوتی ہوئی ایک شاندار فیملی فلم ہے۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا کہ اس فلم کے ہدایتکار لِی اونکرچ ہیں جو ٹوائے سٹوری 1 اور 2 کی ٹیم میں بھی موجود تھے جبکہ جان لاسیٹر(John Lasseter) جو پہلے ہدایت کار تھے، اس دفعہ سکرپٹ کے لکھاریوں میں شامل ہیں۔ پہلے پارٹ کے تقریباً تمام پرانے صداکاروں نے ہی اپنے اپنے کردار ادا کئے ہیں۔اس فلم میں نئے کرداروں میں مشہورِ زنانہ “باربی ڈول” اور اس کا بوائے فرینڈ “کَین” بھی شامل ہیں۔
یہ فلم 17 جون 2010 کو نمائش کیلئے جاری کی گئی ہے۔ اس فلم نے “شریک دی ٹھرڈ” (Shrek The Third) کا پہلے ہی دن زیادہ سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم ہونے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
کہانی/پلاٹ:
فلم کی کہانی اینڈی کے کھلونوں کے گرد گھومتی ہے جو پچھلے کئی سالوں سے اینڈی کے ساتھ ہیں اور اب چونکہ اینڈی کے کالج میں داخلے کا وقت آن پہنچا ہے اور وہ کالج ہاسٹل جانے کی تیاریاں کر رہا ہے، اس لئے تمام کھلونوں کو مختلف خدشات لاحق ہیں۔ اینڈی نے ان تمام سالوں میں اپنے کھلونوں کا بہت خیال رکھا ہے اور کبھی ان کو الگ نہیں کیا۔ گو کہ اب وہ ان سے اس طرح نہیں کھیل سکتا جیسے کہ وہ بچپن میں کھیلتا تھا لیکن اس نے کھلونوں کو اپنے کمرے میں ہی ایک صندوق میں رکھے رکھا، جہاں وہ بولتے چالتے، ہنستے کھیلتے “زندگی” گزار رہے تھے۔ اینڈی کے پاس دو آپشن ہیں؛ یا تو یہ کھلونے کسی اور کو عطیہ کر دے، یا پھر یہ سب کوڑے میں جائیں گے۔ کیونکہ وہ انہیں اپنے ساتھ کالج نہیں لے جا سکتا۔ آخر اینڈی فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے سب سے پسندیدہ اور تمام کھلونوں کے “سردار” ووڈی جو کہ ایک پرانی طرز کا ایک نادر ’کاؤ بوائے‘ کھلونا ہے، کو اپنے ساتھ رکھے گا اور باقی سب کھلونوں کو نہ تو کسی اور کو دے گا اور نہ ہی پھینکے گا بلکہ وہ انہیں ایک تھیلے میں بند کر کے Attic یا ’نیم چھتّی‘ میں رکھ دے گا۔ لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہی اس کی امی غلطی سے کھلونوں والا تھیلا کوڑے میں رکھ دیتی ہیں۔ ووڈی اینڈی سے نظر بچا کر اپنے ساتھیوں کی مدد کرنے جاتا ہے جو کہ اینڈی کی طرف سے شدید مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ بز لائٹ ایئر(ٹم ایلن)، جو کہ ایک خلا باز کھلونا ہے(اور پچھلی دونوں فلموں میں ایڈونچر کا مرکز رہا ہے)، سب کھلونوں کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت تھیلے سے بھاگ نکلتا ہے اور وہ سب عطیہ کیے جانے والے سامان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ووڈی ان کو ایسا کرنے سے روکتا ہے اور اینڈی کے گھر رہنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن اس کے لئے بہت دیر ہو چکی ہے کیونکہ وہ سب سمیت ووڈی کے ایک ’ڈے کیئر سینٹر‘ میں پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں ایک نئی دنیا ان کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈے کیئر سینٹر میں سیکنڈ ہینڈ، متروکہ یا عطیہ کئے گئے کھلونوں کی ایک الگ ہی دنیا ہوتی ہے جہاں مختلف بچے روز ان سے کھیلتے ہیں اور کوئی کسی کا مالک نہیں ہوتا یعنی بقول ’لاٹسو‘ بھالو(Ned Beatty) کے اب انہیں کوئی اور رد کرکے دکھ نہیں دے گا۔ تمام کھلونے بھالو کی جھوٹی شفقت اوراس نئی جگہ کی کہانیاں سن کر خوش ہو جاتے ہیں۔ ووڈی چونکہ اینڈی کے ساتھ کالج جانا چاہتاتھا سو وہ باقی تمام کھلونوں کے بر عکس ڈے کیئر سینٹر سے بھاگنے کا مشورہ دیتا ہے۔ جس سے بز لائٹ ایئر اور اس کے ’راؤنڈ اَپ گینگ‘ کی کاؤ گرل جَیسی(Joan Cusack,’Jessie’) سمیت سب انکار کر دیتے ہیں۔ ناچار ووڈی کو اکیلے ہی جانا پڑتا ہے۔ ووڈی کے جانے کے بعد ڈے کیئر سینٹر میں پرانے کھلونوں کی بھیانک اجارہ داری کا پول کھلتا ہے جو نئے کھلونوں کو جان بوجھ کر اتنے چھوٹے بچوں کے کمرے میں رکھتے ہیں جنہیں ابھی کھلونوں سے کھیلنا بھی نہیں آتا۔ چھوٹے بچے ان پر ایسے ٹوٹ کے پڑتے ہیں جیسے عوام ولیمے میں کھانے پر! ایک ہی دن میں ان کھلونوں کا وہ حشر کرتے ہیں کہ انہیں نانی یاد آ جاتی ہے بلکہ اینڈی یاد آ جاتا ہے۔ اب ان پہ لاٹسو بھالو اور اس کے ساتھیوں کی حقیقت کھلتی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بہت دیر ہو چکی ہے کیوںکہ لاٹسو بھالو اس پورے ڈے کیئر کے ’کھلونائی دنیا‘ کا بے تاج بادشاہ ہے اور ایک آمر حکمران کی طرح یہاں بھی کسی کو نہ کچھ کہنے کی اجازت ہے اور نہ ہی یہاں سے باہر جانے کی۔۔۔۔ باقی آپ خود دیکھیں تو ہی بہتر ہے، ورنہ میں تو بتانے کیلیے بالکل تیار ہوں!!
فلم میں مزاح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، مسٹر اینڈ مسز پوٹیٹو ہیڈ اور ریکس کے کردار بہت مزاحیہ ہیں۔ باقی بھی کھلونوں کی بہترین کردار بندی(َ؟) کی گئی ہے۔
ذاتی رائے:
ذاتی رائے کا اندازہ تو آپ کو ہو ہی گیا ہو گا۔ تینوں پارٹ بہترین ہیں۔ مکمل لطف اندوز ہونے کیلئے آپ کو پہلے دونوں پارٹ دیکھنے ہوں گے، جنہوں نے دیکھے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ کہانی اور کرداروں کو جاننے کیلئے اور تیسرے پارٹ کا صحیح معنوں میں لطف بھی تبھی آئے گا۔ ویسے پچھلے حصوں سے کہانی کا تعلق زیادہ نہیں ہے لیکن کرداروں کا ضرور ہے۔ اگر نہیں بھی دیکھے پھر بھی آپ یہ فلم دیکھ سکتے ہیں اور لطف بھی آئے گا۔ بچوں کیلئے ایک بہترین فلم ہے اور اس میں وہ سب کچھ ہے جو انہیں دیکھنا پسند ہے۔ اینیمیٹڈ فلموں کے شوقین بڑوں کو تو یہ مس کرنی ہی نہیں چاہیئے، میرے خیال میں۔ موسم گرما کی بہترین فیمیلی فلم ہے۔
والدین کیلئے:
والدین کیلئے ایک ہی گزارش کہ ایسی فلمیں ضرور دکھایا کریں بچوں کو!
اعزازات اور ریٹنگز:
ٹوائے سٹوری (پارٹ 1) اور ٹوائے سٹوری 2 نے آسکر میں اپنی جگہ بنائی اور اس کے علاوہ کئی اعزاز حاصل کئے۔ رینڈی نیومین Randy Newman) جنہوں نے فلم کا ساؤنڈ ٹریک “You Got a Friend in Me” نے گایا ہے، دونوں دفعہ آسکر کیلئے نامزد ہوئے۔ 1996ء میں جان لیسیٹر نے اکیڈمی کا سپیشل ایچیومنٹ ایوارڈ حاصل کیا۔
IMDb پر ریٹنگ 8٫2
روٹن ٹوماٹوز پر 100فیصد مثبت تجزیے۔
IMDb پر 8٫0 ریٹنگ
ٹوائے سٹوری 3 کی ابتدائی کامیابیاں اس وقت عروج پر ہیں۔ یہ فلم پہلے دو ہفتے امریکہ میں پہلے نمبر پر رہی ہے جبکہ اس کے مقابل Grown Ups اور ٹام کروز کی Knight and Day دوسرے اور تیسرے پر تھیں۔ اس فلم کی ابھی تک کی کمائی جاننے کیلئے وکیپیڈیا کا صفحہ دیکھیں۔
IMDb پر ابھی تک کی ریٹنگ کے مطابق 9٫1
روٹن ٹوماٹوز پر ابھی تک 99 فیصد مثبت پوائنٹس ہیں۔

7 تبصرے کیے گئے۔
طارق راحیل says:
Jul 8, 2010
اچھی فلم ہے میں نے بس پارٹ 2 ہی دیکھا ہے
ابوشامل says:
Jul 8, 2010
ٹوائے اسٹوری تو شاہکار ہے جی ۔۔۔۔ اس کے دونوں پارٹس تو بچوں کے ذہنوں پر سوار ہو گئے تھے۔ لڑکپن میں پہلا پارٹ دیکھا تھا اور پھر ۔۔۔۔ اسے نجانے کتنی مرتبہ دیکھا
جیسے ہی دستیاب ہوتا ہے، ضرور دیکھوں گا۔ پوسٹ کا بہت شکریہ عمیر!
خاور بلال says:
Jul 13, 2010
عمیر بھائی ریویو بہت اچھا لکھا ہے۔ البتہ کہانی پڑھنے سے میں نے اجتناب کیا، کیونکہ ابھی یہ فلم دیکھنی ہے۔ جب تک ٹوائے اسٹوری دیکھی نہیں تھی تب تک اس کے بارے میرا تاثر یہی تھا کہ ‘ایویں’ ہی ہوگی۔ لیکن اس کا پہلا پارٹ دیکھا تو دوسرا پارٹ دیکھے بغیر رہا نہیں گیا۔
عین لام میم says:
Jul 13, 2010
تجزیہ پسند کرنے کا شکریہ.
دوست says:
Jul 17, 2010
میں نے تینوں پارٹ دیکھے ہیں لیکن پہلے دس پندرہ منٹ بس. ذرا ایڈنچر سی مووی ہوتی تو کیا تھا. جیسے How to Train Your Dragon ہے۔
عامر شہزاد says:
Jul 20, 2010
مفید معلومات کا شکریہ۔ کیا آپ نے وال-ای اینی میٹڈ فلم دیکھی ہے؟ میری بلات پر کچھ معلومات یہ ہیں۔
فلم اس طرح شروع ہوتی ہے کہ ایک ربوٹ جس کا نام وال-ای ہے جو کہ زمین کی صفائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کو ایک اور ربوٹ ایو سے پیار ہو جاتا ہے۔ حیراں مت ہوں، آج کل کے دور میں پروگرامنگ سے ربوٹ میں کچھ انسانی جذبات کی طرح کی چیزیں ڈالی جا سکتی ہیں۔ وال۔ای ایو کے پیچھے پیچھے دور خلا میں چلا جاتا ہے اور اس کا سامنا ضالم سماج سے ہوتا ہے جو کہ پورا کمپیوٹر سسٹم ہے۔ جو کہ نہ صرف اس کا بلکہ پوری انسانیت اور دنیا کا دشمن ہے بلکہ وہ ان کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر رہا ہے۔
طارق راحیل says:
Dec 25, 2010
لیجئے پارٹ 3 ریلیز ہونے کے 6 ماہ سے زائد عرصہ کے بعد کل رات یہ فلم دیکھنے میں کامیاب ہوچکا ہوں
1اور 2 کی طرح یہ پارٹ بھی کافی دلچسپ رہا
اور مجھے فلم کا آخر بھی کافی اچھا رہا ہیپی اینڈنگ ہمیشہ ہی اچھی لگتی ہے اور مجھے لگتا ہے یہ اس فلم کا آخری ہی پارٹ رہے گا
مگر مجھے جانے کیوں مزید کا انتظار ہے