اینی میٹڈ فلموں میں پکسار (Pixar) کو جو مقام حاصل ہے وہ شاید کسی اسٹوڈیو کو حاصل نہیں۔ ٹوائے اسٹوری سے لے کر اپ (UP) تک اس کی تمام فلمیں شاہکار رہی ہیں جنہوں نے ریکارڈ توڑ آمدنی تو حاصل کی لیکن ناقدین کی نظروں میں بھی انتہائی قدر و منزلت پائی۔

پکسار کے کئی شاہکاروں میں سے ایک کا نام ہے ریٹاٹوئی(Ratatouille)۔ جو کہانی ہے ریمی نامی اک چوہے کی جو باورچی بننے کا خواب دیکھتا ہے گو کہ اس میں بہت بڑی رکاوٹ خود اس کا چوہا ہونا ہوتا ہے، پھر اس کے گھر والے بھی اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ لیکن ایک حادثے کے بعد پیرس کے اس عظیم باورچی کے ریستوراں پہنچ جاتا ہے جسے دنیا آگستے گوستیو کے نام سے جانتی تھی ۔ جب ریمی ریستوراں میں پہلی بار داخل ہوتا ہے تو گوستیو کا ریستوراں اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے مشکلات سے دو چار ہوتا ہے ۔ یہاں فلم کی اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے جس میں چوہا اور ریستوراں کا خاکروب (سویپر) لنگوئنی مرکزی کردار ہیں۔ ریمی لنگوئنی کو استعمال کر کے مختلف کھانے پکاتا ہے اور گوستیو کے ریستوراں کی ماضی کی عظمتیں بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کہانی مزاح بھی ہے، جذبات بھی اور سنسنی بھی اور ساتھ ساتھ فلم کی شاندار اینی میشن بھی۔ پیرس کے خوبصورت نظارے، کھانوں کی خوبصورتی اور کرداروں کی جزئیات و تفصیلات اس اینی میشن کو چار چاند لگاتی ہیں۔
ریٹاٹوئی 2007ء میں پکسار اور والٹ ڈزنی پکچرز نے مشترکہ طور پر ریلیز کی جو پکسار کی اینی میٹڈ پکچرز کے سلسلے کی آٹھویں فلم تھیں۔ اس کے لیے ہدایات بریڈ برڈ نے دیں۔
فلم نے بہترین اینی میٹڈ فیچر کا آسکر ایوارڈ بھی جیتا جو ہدایت کار بریڈ برڈ کا دوسرا آسکر اعزاز تھا۔ ویسے فلم پانچ آسکرز کے لیے نامزد ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کوئی اینی میٹڈ پکچر اتنے آسکرز کے لیے نامزد نہیں ہوئی تھی۔ معروف فلمی نقاد راجر ایبرٹ، جو شکاگو سن ٹائمز کے لیے لکھتے ہیں، نے کہا کہ انہیں یہ فلم بہت زیادہ پسند آئی اور وہ توقع رکھتے ہیں اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا جائے گا اور ہم ریٹاٹوئی 2 بھی دیکھیں گے۔
آسکر کے علاوہ فلم کو بہترین اینی میٹڈ کیٹگری میں بافٹا اور گولڈن گلوب ایوارڈز بھی ملے۔
اگر آپ اینی میٹڈ فلمیں نہیں دیکھتے تو یہ فلم ضرور دیکھیے، یہ آپ کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ ہوگی۔ خاص طور پر یہ فلم ان بچیوں کو ضرور دکھانی چاہیے جو باورچی خانے میں جانے سے کتراتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اگر انہوں نے ایک مرتبہ اس فلم کو دیکھ لیا تو اگلے روز وہ باورچی خانے میں نظر آئیں گی۔
13 تبصرے کیے گئے۔
محمداسد says:
Jan 23, 2011
اینیمیٹڈ فلموں میں پکسار کا تو بس نامہ ہی کافی ہے۔ اور مذکورہ فلم کی خاص بات تو والٹ ڈزنی پکچرز کا پکسار سے اشتراک بھی ہے۔ فلم پر تبصرہ پڑھ کر تو ہمارا بھی دل للچانے لگا ہے تاہم یہ خطرہ بھی لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں فلم دیکھنے کے بعد ہم گھر والوں کو باورچی خانے میں نہ نظر آنے لگیں۔ پھر بھی پکسار کی اینیمیٹڈ فلم دیکھنے کے لیے یہ رسک لینا مہنگا سودا نہیں۔
ابوشامل says:
Jan 23, 2011
ہاہاہا ۔۔۔۔ واقعی ایسا ہی ہوتا ہے، اگر آپ نے فلم کو زیادہ سنجیدہ لے لیا تو واقعی اگلے روز باورچی خانے میں نظر آئیں گے۔
پکسار کی تمام فلمیں دیکھنے کے قابل ہیں خصوصا وال-ای جس پر تبصرہ ادھار رہا۔
خاور بلال says:
Jan 24, 2011
بہت عمدہ فلم ہے اور کئی مرتبہ دیکھنے کے بعد بھی ایک بار پھر دیکھنے کا حوصلہ باقی ہے
عمار ابنِ ضیا says:
Jan 26, 2011
یہ فلم مجھے اب تک کہیں نظر نہیں آئی، پہلی بار اس کا ذکر سن رہا ہوں (پڑھ رہا ہوں)۔۔۔ دیکھنی ہی پڑے گی بل کہ گھر میں بھی دکھانی پڑے گی
ابوشامل says:
Jan 26, 2011
شاید آپ روایتی فلم بینوں کی طرح اینی میٹڈ موویز کے شائق نہیں ہیں، اس لیے آپ کی نظروں سے نہیں گزری ہوگی۔ دیکھیے گا اور پھر بتائیے گا کیسی لگی۔
ساجداقبال says:
Jan 29, 2011
بہترین فلم ہے. کھانوں کے ناقد کا کردار کافی دلچسپ ہے.
فیصل says:
Jan 30, 2011
عمدہ فلم ہے.
یہاں مختلف چینلز پر کھانا پکانے کے کئی پروگرام اور مقابلے چلتے رہتے ہیں. اس فلم میں چوہے صاحب نے بالکل پروفیشنل شیف جیسا ہی کردار ادا کیا ہے. انیمیٹڈ فلموں کی یہی بات مجھے اچھی لگتی ہے کہ ایک مخصوص لحاظ سے حقیقت سے قریب ترین ہوتے ہیں، یعنی نقل بڑی اچھی طرح کی جاتی ہے.
ابوشامل says:
Feb 2, 2011
فیصل بھائی، وقت نکال کر تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔
عین لام میم says:
Feb 3, 2011
مین آج ہی تمام تحاریر پڑھ رہا ہوں کہ ابھی امتحانات سے فارغ ہوا ہوں…. رٹاٹوئی ایک بہترین اینی میٹڈ فلم ہے. مجھے بہت ہی پسند آئی تھی جب میں نے پہلی بار دیکھی تھی. جس خوبصورت انداز میں ہر چیز کو پیش کیا گیا اور چوہا ہوتے ہوئے بھی اس کی “انسانی” حرکات کو عمدہ انداز میں دکھایا گیا. لنگوئنی اور دوسری باورچن لڑکی کا کردار بھی مزے کا تھا.
ابوشامل says:
Feb 4, 2011
خوش آمدید عمیر! آپ کا بڑے عرصے تک انتظار رہا اور آج آپ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔
تحریم says:
Feb 22, 2011
مجھے اینیمیٹد موؤیز ہی پسندہیں زیادہ
آئس ایج پر کوئی تبصرہ نہیں کیا 2012 میں نئے پارٹ کو اتظار ہے مجھے
شہزاد وحید says:
Feb 24, 2011
اینی میٹڈ فلموں کا تو میں شیدائی ہوں۔ ڈزنی تو ۱۹۳۷ میں والی پہلی فلم سے لیکر اب تک میں تمام فلمیں دیکھ چکا ہوں۔ اور باقی بھی جتنی فلمیں ہیں ان میں سے کوئی نہیں چھوڑی۔ اور جاپانی ہدایت کار Hayao Miyazaki کی جتنی بھی اینیمیٹد فلمیں ہیں وہ تو انمول ہیں۔
یہ بھی عمدہ فلم ہے۔
Zubairree says:
Mar 26, 2011
great movie……..