ہاؤ ٹو ٹرین یور ڈریگن (How to train your Dragon) کمپیوٹر اینیمیٹڈ فلم ہے جو آج سے تقریبا دو ماہ قبل 26 مارچ کو ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے جی بھر کے باکس آفس پر راج کیا اور آج دو ماہ گزرجانے کے باوجود نویں نمبر پر موجود ہے دیگر کئی تگڑی موویز کا منہ چڑا رہی ہے۔ اس فلم کی تیاری کا سہرا ڈریم ورکس کے سر ہے اور کہانی کا سہرا کریسیڈا کاویل (Cressida Cowell) کے سر۔ کریسیڈا کاویل نے بچوں کے لیے ایک ہک اپ (Hiccup) سیریز لکھی۔ ہاؤ ٹو ٹرین یور ڈریگن اسی سیریز کا ایک ناول ہے جو دوہزار تین میں شایع ہوا۔
گو کہ ریلیز کے پہلے ہفتے یہ فلم باکس آفس پر اول نمبر پر رہی لیکن پہلے ہفتے اتنا بزنس نہ کرپائی جتنی کہ توقعات تھیں۔ آخر 165 ملین ڈالر کے بجٹ سے تیار کی گئی فلم سے توقعات کیوں نہ ہوتیں۔ دوسرا ہفتہ تو گویا اس مووی کے لیے ڈاؤن فال تھا اور یہ فلم باکس آفس پر پہلی پوزیشن سے کھسک کر اچانک تیسری پوزیشن پر آگئی۔ جتنی دھوم سے یہ فلم آئی تھی اتنے ہی دھڑکے سے اس کا جنازہ نکلنے جارہا تھا کہ چوتھے ہفتے ڈریگن نے حیرت انگیز طور پر اوپر کی جانب پرواز شروع کی۔ اور پانچویں ہفتے تو کمال ہوگیا جب ڈریگن نے کک ایس (Kick-Ass) نامی فلم کو کک رسید کرکے باکس آفس پر دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور شائقین کے دل جیت لیے۔ اس فلم کی مقبولیت کے پیش نظر ڈریم ورکس نے اسے فرنچائز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مستقبل میں اس فلم کے مزید پارٹس بنائے جائیں گے۔
اینیمیٹڈ فلموں کی سب سے مشہور اور کماؤ پوت فرنچائز اس وقت شریک (Shrek) ہے اور یہ بھی ڈریم ورکس کا ہی کارنامہ ہے۔ ڈریم ورکس (Dream Works animation) اور پکسار (Pixar)، دراصل یہ دو اسٹوڈیوز ہی ہیں جنہوں نے اینیمیٹڈ موویز میں سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ اینیمیٹڈ موویز کو مقبول عام بنانے میں اصل کردار پکسار کا ہے جس نے 1995 میں ایک شاہکار اینیمیٹڈ فلم ٹوائے اسٹوری (Toy Story) بناکر مستقبل میں اینیمیٹڈ موویز کا مقام ثابت کردیا تھا۔ اگر پوچھا جائے کہ اینیمیٹڈ موویز کی تاریخ میں سب سے مشہور فلم کونسی گذری ہے تو جواب ہوگا فائنڈنگ نیمو (Finding Nemo)(2003)۔ فائنڈنگ نیمو نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑے تھے اور اس کی دھوم تمام دنیا میں مچی تھی۔ موجودہ دور میں اینیمیشن موویز اپنا لوہا منوا چکی ہیں اور ان کی مقبولیت بچوں اور بڑوں میں یکساں ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو ہاؤ ٹو ٹرین یور ڈریگن ضرور دیکھیں۔ اینیمیشن فلمیں کیونکہ کمپیوٹر گرافکس کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں اسی لیے ان کا بصری تاثر (visual impact) بہت اہم ہے اور ان کو دیکھنے کا اصل مزہ اسی وقت آتا ہے جب آپ اسکا اچھا پرنٹ دیکھیں۔
کہانی
فلم کیونکہ نئی ہے اور ابھی بہت سے لوگ اسے دیکھنا چاہیں گے اس لیے کہانی کا بالکل ابتدائی حصہ بیان کرنا کافی ہوگا تاکہ تجسس برقرار رہے۔
ہک اپ Hiccup نامی ایک بچہ جو وائیکنگز Vikings کی ایک بستی کے سردار کا بیٹا ہے، اس فلم کا مرکزی کردار ہے۔ وائیکنگز کی یہ بستی عام طور پر ڈریگنز کے حملوں کی زد میں رہتی ہے اور اس بستی کے رہنے والوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ڈریگنز ہیں۔ بستی کے رہنے والے ڈریگنز کا مقابلہ بہادری سے کرتے ہیں اور یہی ان کے لیے فخر کی بات ہے۔ بستی کا سردار یعنی ہک اپ کا باپ گرانڈیل جسامت کا مالک ایک جنگجو ہے اور ڈریگنز سے مقابلہ کرنا خوب جانتا ہے. اس کے برعکس اس کا بیٹا یعنی ہک اپ مہین سا ایک لڑکا ہے جو کہ دیکھنے میں اپنے باپ سے بالکل مختلف لگتا ہے۔ ہک اپ ایک ذہین بچہ ہے جوکہ تیکنیکی ذہن کا مالک ہے اور ایڈونچر پسند بھی اور اس کی خواہش ہے کہ وہ بھی ڈریگنز کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا کرے۔ لیکن ہک اپ کے باپ کا خیال ہے کہ وہ لڑائی میں حصہ لینے کے قابل نہیں۔ ہک اپ کو یہ بات ناگوار ہے اور ایک دفعہ وہ اپنے باپ کی اجازت کے بغیر لڑائی میں نکل پڑتا ہے۔ ہک اپ کے پاس اپنا ہی ایجاد کردہ ایک دور مار ہتھیار ہے۔ یہ ہتھیار ایسا ہے جو شکار کے اعضاء کو رسیوں میں جکڑ لیتا ہے۔ ہک اپ اس ہتھیار سے ایک بہت ہی پراسرار اور خطرناک ڈریگن پر نشانہ پھینکتا ہے۔ ڈریگن رسیوں میں جکڑ جاتا ہے اور بستی کے قریب ایک جنگل میں جا گرتا ہے۔ جب ہک اپ بستی کے دیگر لوگوں کو بتاتا ہے کہ اس نے ایک ڈریگن شکار کیا ہے تو کسی کو اس کی بات کا یقین نہیں آتا بلکہ سب الٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اگلے روز ہک اپ شکار کیے گئے ڈریگن کو تلاش کرنے نکلتا ہے اور ایک جگہ اسے بے بس حالت میں پالیتا ہے۔ ہک اپ کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اس سفاک ڈریگن کو قتل کرکے بستی کا ہیرو بن جائے۔ ہک اپ کوشش تو کرتا ہے لیکن اس کا دل اس بے بس ڈریگن کو قتل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور بالآخر وہ دل کی مان لیتا ہے اور ڈریگن کو قتل کرنے کے بجائے اسے رسیوں سے آزاد کردیتا ہے۔ بس یہیں سے ڈریگن اور ہک اپ کی دوستی کا آغاز ہوتا ہے اور اصل کہانی کا آغاز بھی۔
جذبات اور ایکشن سے بھرپور یہ فلم اتنی شاندار ہے کہ بس۔۔۔!! اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہماری بیگم جو اینیمیٹڈ فلموں کو کارٹون کہہ کر انکی بے عزتی کرنے سے نہیں چوکتیں وہ بھی اس فلم کی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکیں۔ یقینا اب آپ کا بھی یہ فلم دیکھنے کو دل چاہ رہا ہوگا۔ اگر ہاں تو پھر کچھ انتظار کریں یہ فلم ابھی ڈی وی ڈی پر ریلیز نہیں ہوئی۔ اک ذرا صبر کہ۔۔۔
اگر آپ کو یہ فلم پسند آئے تو پھر کنگ فو پانڈا Kung Fu Panda – 2008 اور اپ Up 2009 دیکھنا مت بھولیے گا۔
ٹریلر
ساؤنڈ ٹریکس
مندرجہ ذیل ساؤنڈ ٹریکس میں یہ میرا پسندیدہ ہے
دیگر ساؤنڈ ٹریکس یہ ہیں:
- This is Berk
- Dragon Battle
- The Downed Dragon
- Dragon Training
- Wounded
- The Dragon Book
- Focus, Hiccup!
- Forbidden Friendship
- New Tail
- See You Tomorrow
- Test Drive
- Not so Fireproof
- This Time for Sure
- Astrid Goes for a Spin
- Romantic Flight
- Dragon’s Den
- The Cove
- The Kill Ring
- Ready the Ships
- Battling the Green Death
- Counter Attack
- Where’s Hiccup?
- Coming Back Around
- The Vikings Have Their Tea

14 تبصرے کیے گئے۔
عین لام میم says:
May 29, 2010
السلام علیکم
سب سے پہلے تو “فلمستان” کیلئے خصوصی مبارکباد۔ فلموں پر تبصرے اور تجزئے تو کبھی کبھار دوسرے بلاگوں پر بھی مل ہی جاتے ہیں لیکن ایک منفرد موضوعاتی بلاگ کا اپنا مزا ہے۔
جہاں تک فلم کی بات ہے تو یہ ایک بہترین اینیمیٹڈ فلم ہے۔ کہانی بہت عمدہ ہے اور اینیمیٹڈ فلموں میں ڈریگنز زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ یہ فلم میری اینیمیٹڈ فلموں کی لسٹ میں کافی اوپر جا رہی ہے فی الحال۔۔۔ جن لوگوں کو یہ پسند آئے وہ سندباد، کنگفو پانڈہ، وال۔ای، بولٹ بھی دیکھیں۔
ایک بات پوچھنی تھی اگر میں فلمستان کیلئے لکھنا چاہوں تو کیا آپ مجھے بھی اس میں شامل کرنا پسند کریں گے۔۔۔۔؟ یا کوئی اور مفید مشورہ؟
ابوشامل says:
May 31, 2010
ع ل م ! بہت خیر مبارک، میری خواہش ہے کہ اردو میں اسے ایک منفرد بلاگ بناؤں اور خوشی بھی ہے کہ اس سلسلے میں مجھے ديکر احباب کا تعاون بھی حاصل ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوگی اگر آپ بھی اس میں حصہ لیں۔
محمداسد says:
May 29, 2010
یہ فلم پچھلے دو ماہ سے مجھے تنگ کررہی ہے۔ جہاں جاتا ہوں اس کی کافی تعریف ملتی ہے
اب آپ نے بھی اتنا جاندار تجزیہ کیا کہ بس دیکھنے پر سمجھیے مجبور کر ہی دیا۔
لیکن چونکہ بچپن میں کارٹون دیکھنے کی زیادتی کے باعث مجھے اینیمیٹڈ فلمیں اب بھی کارٹون ہی لگتی ہیں، اس لیے مجھے یہ پسند ہی نہیں آتیں۔ اس میں کوئی سائنس فکشن نامی چیز بھی ساتھ ہوتی تو ضرور دیکھتا۔
ابوشامل says:
May 31, 2010
ارے آپ اینی میٹڈ سے گھبرا رہے ہيں؟ میرا نہیں خیال کہ آجکل جو اینی میٹڈ فلمیں بن رہی ہیں وہ صرف روایتی معنوں میں کارٹون ہیں یا صرف بچوں کے لیے ہيں۔ ان میں سے بہت سارے ایسے پیغامات ہیں جن کا ہدف بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ہوتے ہیں۔ میری تو پسندیدہ موویز میں بڑی تعداد اینی میٹڈ کی ہے۔
خورشیدآزاد says:
May 31, 2010
فہد ہمیشہ کی طرح انتہائی خوبصورت انداز میں تجزیہ لکھا ہے ، خاص طور پر آپ نے تجزیے میں انیمیٹڈ فلمی صعنت کا مختصر سا تعارف بھی شال کرکے اپنی ذہانت کا ثبوت دیا ہے جس کے لیے مبارک باد۔ فہد آئندہ کوشش کیا کریں کہ تجزیے کو زیادہ نہیں تو تھوڑا سا تنقیدہ تڑکہ بھی دے دیا کریں جیسے کہانی میں کوئی جھول، پردہ نگاری کی کوئی خامی یا آپ کا فلم کے بارے میں ذات تنقیدی ی مشائدہ وغیرہ وغیرہ۔
اسکے علاوہ پوسٹ کا عنوان انگریزی میں لازمی ہے۔
ابوشامل says:
May 31, 2010
برادر خورشید، سب سے پہلے تو بتا دوں کہ یہ مجھ اکیلے کا بلاگ نہیں ہے، بلکہ یہاں اور بھی لکھنے والے ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا تحریر برادر خاور بلال کی ہے جبکہ اسٹرینجر دین فکشن پر لکھا گیا مضمون جعفر نے تحریر کیا ہے۔
لیکن اک ذرا صبر ۔۔۔۔۔۔ !
تنقیدی “تڑکے” کا انتظار کیجیے، اس کا میں نے خاصا اہتمام کر رکھا ہے
خورشیدآزاد says:
May 31, 2010
ایک اور بات کہ واقعی فائنڈنگ نیمو (Finding Nemo)(2003) ایک ایسی شاہکار فلم ہے جو اب تک میں نے تقریبا دس بار دیکھ لیا ہے لیکن ہر بار مزہ دوبالا ہوجاتا ہے اورخاص بات یہ کہ دوبارہ دیکھتے ہوئے آپ بورنہیں ہوں گے۔
خورشیدآزاد says:
May 31, 2010
خاوربلال صاحب معذرت، آپ کا کریڈٹ فہد کو دے دیا، وہ میں مصنف کا نام دیکھنا بھول گیا۔۔۔۔بہرحال بہت اچھا لکھا ہے۔
جی فہد مجھے معلوم ہے کہ یہاں اور لکھاری بھی ہیں اور انشاء اللہ کوشش کروں گا میں بھی اس کام میں اپنا حصہ ڈال سکوں۔
Jafar says:
May 31, 2010
میرا مسئلہ بھی یہی ہے کہ مجھے کارٹون بچپن میں بھی پسند نہیں تھے تو اب کیسے ہوں گے؟
جعلی جعلی لگتی ہیں جی مجھے اینیمیٹڈ فلمیں۔۔
خاور بلال صاحب کی کاوش بہرحال بہت عمدہ ہے، فلم سے زیادہ یہ تجزیہ پڑھ کے لطف لے لیا میں نے
ابوشامل says:
Jun 2, 2010
آجکل کی اینی میٹڈ موویز کی “کارٹون” کہہ کر تذلیل نہ کریں، اب یہ فلمیں محض کارٹون نہیں رہیں۔ 2005ء سے لے کر اب تک آنے والی تمام آسکر نومینی اینی میٹڈ موویز دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔
طارق راحیل says:
Jun 4, 2010
دیکھ کر تبصرہ کریں گے…
محمد نعمان says:
Dec 22, 2010
فہد بھائی آج پہلی مرتبہ فلمستان آنا ہوا میرا۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے بھی بالکل نیا بلاگ لکھنا شروع کیا ہے اور اس پر میں نے بھی فلموں کی ایک فہرست مرتب کی ہے جو میں آہستہ آہستہ اپڈیٹ کر رہا ہوں کیونکہ ابھی تو آغاز ہی کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ فلمستان بہت اچھی کاوش ہے مبارکباد کے مستحق ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں تک اینیمیٹڈ فلموں کا تعلق ہے تو یہ انہی لوگوں کو زیادہ پسند آتی ہیں جو امیجینیشن کو پسند کرتے ہیں۔۔۔۔اکثر لوگ اینیمیٹڈ فلموں کو گھٹیا یا کم معیار فلم سمجھتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فلمیں جتنا انسان کو اونچا لے جاتی ہیں اور خاص طور پر ان فلموں میں مزاح کا جو معیار ہوتا ہے وہ ریگولر فلموں سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔۔
یہ میری ذاتی رائے ہے۔۔۔۔۔
ابوشامل says:
Dec 23, 2010
نعمان! فلمستان پر خوش آمدید۔
آپ کی ذاتی رائے کم از کم میری رائے سے تو ملتی ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ عام قارئین اور نو آموز بلاگرز بھی اس بلاگ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
اینی میٹڈ فلموں کے حوالے سے آپ کی بات سولہ آنے درست ہے۔ فلمستان کے چند ساتھی لکھاریوں سے میری اسی موضوع پر گفتگو ہوئی ہے جس میں میں نے اینی میٹڈ فلموں کی وکالت کی اور حقیقت یہ ہے کہ میں اینی میٹڈ فلمیں پہلے دیکھتا ہوں
امید ہے آتے جاتے رہیں گے
Zubairree says:
Mar 26, 2011
i had this movies since so many days in mylaptop but I didnt watched it……..but now I will……..thanks for itro