فلمستان میں یہ میرا پہلا تجزیہ ہے۔ فلم بینی کا شوق کئی سال پرانا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں بہت فلمیں دیکھی ہیں۔ اس سے پہلے وہی فلمیں دیکھی تھیں جو بھائی لایا کرتے تھے۔ اب آتے ہیں کام کی طرف:
نیک، بد اور بدصورت یعنی The Good, The Bad and The Ugly(اطالوی نام: Il buono, il brutto, il cattivo) ایک پرانی کلاسیک اطالوی اور مغربی اسپیگھٹی طرز کی فلم ہے۔ 1966 میں بننے والی فلم کے ہدایت کارSergio Leone اور ستاروں میں کلنٹ ایسٹ ووڈ(Clint Eastwood) ، لی وین کلف (Lee Van Cleef) اور ایلی والچ(Eli Wallach) شامل ہیں۔ یہ فلم تین فلموں پر مبنی “ڈالر سیریز” کی آخری فلم ہے۔ فلم کی کہانی تین بندوقچیوں کے گرد گھومتی ہے، جو چوری کے مال پر مشتمل ایک مدفون خزانے کی تلاش میں ایک دوسرے سے بازی لینے کے چکر میں رہتے ہیں۔
انتباہ: ذ یل میں فلم کی کہانی مختصر انداز میں بیان کی گئی ہے لیکن ہو سکتا ہے دلچسپی ختم ہو جائے، اس لئے مزید پڑھنا آپکی اپنی صوابدید پر منحصر ہے۔
پلاٹ:
فلم امریکی خانہ جنگی کے زمانے میں لے جاتی ہے جہاں ایک اشتہاری چور اور قاتل (The Ugly, ایلی والچ) کو ایک بہترین نشانے باز (The Good, کلنٹ ایسٹ ووڈ) پکڑوا دیتا ہے اور اہلکاروں سے انعام کے 2000 ڈالر لے کر مجرم کی پھانسی کے وقت دور سے رسی پر نشانہ لگا کر اسے بھگا دیتا ہے۔ بعد میں وہ قصبے سے باہر مل کر انعامی رقم تقسیم کر لیتے ہیں اور یوں دونوں منفرد چور جوڑی بنا کر دوسرے قصبوں میں جا کر یہی کرتے ہیں جہاں ٹوکو یعنی مجرم کی انعامی رقم بڑھ چکی ہوتی ہے۔ Blondie یعنی “نیک” ٹوکو کی انعامی رقم کے بٹوارے پر بحث سے تنگ آکر اسے صحرا میں رسیوں میں جکڑا چھوڑ جاتا ہے اور سارا مال خود ہڑپ جاتا ہے۔ ٹوکو وہاں سے کسی طرح بچ نکلتا ہے اور ایک دوسرے قصبے میں بلانڈی کو جا پکڑتا ہے۔ بلانڈی خوش قسمتی سے بھاگ جاتا ہے اور ٹوکو اس کی تلاش میں رہتا ہے۔ ایک جگہ آخر کار ٹوکو بلانڈی کو پکڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اسے اسی طرح صحرا میں مرنے کیلئے لے جاتا ہےْ راستے میں جبکہ بلانڈی ٹوکو کے مظالم کی تاب نہ لا کر پیاس سے نڈھال مرنے کے قریب ہوتا ہے تو انہیں ایک شخص Bill Carson ملتا ہے جو نیم مردہ حالت میں ہوتا ہے اور مرنے سے پہلے ٹوکو کو امریکی خانہ جنگی میں چوری ہونے والے سونے سے بھرے ایک صندوق کا پتا بتاتا ہے۔ قسمت کا کرنا کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جس قبرستان میں وہ خزانہ دفن ہوتا ہے اس کا نام ٹوکو سن لیتا ہے جبکہ جس قبر میں دفن ہوتا ہے اس کی نشانی بلانڈی سن لیتا ہے ٹوکو کی غیر موجودگی میں اور وہ شخص اس کے بعد مر جاتا ہے۔ اس طرح خزانے کی تلاش کیلئے دونوں اشخاص کا زندہ رہنا ضروری ہو جاتا ہے اور یہاں فلم ایک ٹرن لیتی ہے جو کہ خاصا ڈرامائی ہے۔ دونوں چور ایک دوسرے کے ساتھ “باہمی نفرت” کے اٹوٹ تعلق میں بندھ جاتے ہیں۔ تیسرا شخص جو کہ “اینجل آئیز”(The Bad, لی وین کلف) کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک چالاک اور خطرناک شخص ہے۔ اینجل آئی فلم کے شروع سے ہی اس خزانے کے پیچھے ہے اور مختلف لوگوں سے اس بارے میں پوچھتا پھرتا رہتا ہے۔ لہٰذا اب وہ ٹوکو اور بلانڈی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور ان کو پکڑنے کا کوئی موقع یاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ٹؤکو اور بلانڈی کو پتا چلتا ہے کہ اینجل آئی اس سارے معاملے میں شامل ہے اور خزانے کی تلاش میں ہے تو وہ اپنی پرانی پارٹنر شپ بحال کرکے اکٹھے اس کا اور اس کے گینگ کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ آخر میں قبرستان تک پہنچنے کیلئے انہیں ایک جنگ میں بھی حصہ لینا پڑتا ہے۔ فلم کے آخر میں قبرستان میں تینوں کی لڑائی کا سین بڑا دلچسپ ہے اور آخر میں بھی ٹوکو اور بلانڈی ایک دوسرے کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو ہمیشہ کرتے آئے تھے یعنی بلانڈی اسے باندھ کر چھوڑ جاتا ہے۔
فلم کو مغربی، سسپنس، ایڈونچر، جرم اور کسی حد تک جنگی فلموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
ذاتی رائے:
میری ذاتی رائے میں یہ فلم دیکھنے والوں کو پسند آئے گی۔ گو کہ پرانی اور کلاسیکی فلموں کی طرح طویل(2 گھنٹے 40 منٹ تقریباً) اور سست رفتار ہے۔ لیکن مجموعی طور پر مزیدار فلم ہے۔ مار دھاڑ اور خون خرابہ پسند کرنے والوں کیلئے بھی خاطر خواہ انتظام موجود ہے۔ فلم میں مزاح کا پہلو بھی شامل ہے اور پہلے دونوں مرکزی کرداروں کے مابین تعلق نہایت دلچسپ ہے۔ خاص طور پر مجھے اس کا ساؤنڈ ٹریک ،جس کے شروع میں عجیب سی آوازیں ہیں، بڑا مزے کا لگتا ہے۔
فلم دیکھتے ہوئے آپ کو اس میں دیسی دیسی سا ٹچ بھی ملے گا، شاید اس لئے کہ یہ پرانی ہے۔
والدین کیلئے:
تشدد پر مبنی مناظر کی وجہ سے میرے خیال میں 16 سے کم عمر لوگ نہ ہی دیکھیں تو بہتر ہے۔ ویسے آجکل کی کرائم اور جنگی فلموں کے مقابے میں خون خرابہ تھوڑا سا کم ہی ہے۔ (اس حصے کے بارے میں میں بہتر اظہارِ خیال نہیں کر سکتا لہٰذا یہاں پر ضرور دیکھیں)
ریٹنگ اور اعزازات:
IMDb پہ فلم کی ریٹنگ 9/10 ہے۔
روٹن ٹوماٹوز پر98 فیصد “تازہ” ریٹنگ ہے۔
فلم کے مرکزی کردار Clint Eastwood کو بہترین ایکشن پرفارمینس پر 1968 کا Golden Laurel ایوارڈ ملا تھا۔
فلم IMDb کی ٹاپ 250 فلموں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر فلم “Pulp Fiction” سے اوپر ہے۔ مزید ٹاپ فلموں کی فہرستوں میں اس کا مقام نیچے وکیپیڈیا کے ربط میں موجود ہے۔

5 تبصرے کیے گئے۔
ابوشامل says:
Jun 5, 2010
عمیر آپ کی “ترنت” کارروائی دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ فلم ضرور دیکھوں گا اور اس پر تبصرہ تبھی کر پاؤں گا۔ بہت شکریہ
عمیر ملک says:
Jun 6, 2010
شکریہ ابو شامل۔
دراصل میں چاہتا تھا کہ ایک عدد تجزیہ فوری طور پر ضرور کروں۔ اس کے بعد میں ہو سکتا ہے اپنے امتحانات کے بعد ہی حاضری دے پاؤں۔ ویسے تو امتحانات کے دوران مجھے زیادہ “سوچیں” آتی ہیں اور میں بلاگنگ میں زیادہ سرگرم رہتا ہوں۔۔!!
Jafar says:
Jun 6, 2010
بہت عرصہ پہلے دیکھی تھی یہ فلم، یاد نہیں کہ کیسی لگی تھی
لیکن ان فارگیون دیکھنے کے بعد بہت کم ویسٹرن فلمیں پسند آسکتی ہیں۔
طارق راحیل says:
Jul 8, 2010
مجھے ایسی فلمین پسند ہی نہیں
وہاب اعجاز says:
Jul 16, 2011
اوہ ویسٹرین فلموں کی کیا بات ہے۔ اور پھر ایسٹ ووڈ کی شاہکار یہ فلم تو ایک کلاسک کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا میوزک بڑے کمال کا ہے۔ فلم طویل سہی مگر دیکھنے والا ایک بھی لمحے کے لیے بوریت کا شکار نہیں ہوتا۔ بالی وڈ میں اس فلم کے کتنے ہی مکالمے اور مناظر چرائے گئے ہیں۔