پرنس آف پرشیا: دی سینڈز آف ٹائم (Prince of Persia: The Sands of Time)(ترجمہ: فارس کا شہزادہ، وقت کی ریت) والٹ ڈزنی پکچرز کی پیشکردہ فلم ہے جو 2010 میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ جو لوگ کمپیوٹر ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں یا ان کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ یہ فلم اسی نام کی ایک ویڈیو گیم سے ہی ماخوزذہے۔ پرنس آف پرشیا مونٹریال کی ایک کمپنی یوبی سافٹ کی فرنچائز ہے۔ اس ویڈیو گیم کے خالق جارڈن میکنر (Jordan Mechner) ہیں جنہوں نے یہ تھرڈ پرسن ایکشن ایڈونچر کمپیوٹر گیم 2003 میں تخلیق کی تھی، جارڈن میکنر نے اس فلم کیلئے بھی لکھاری کی خدمات سر انجام دی ہیں۔

اس تلوار اور جادو  کے ایکشن پر مبنی فلم کے ہدایتکار ہیں مائک نیویل(Mike Newell) ہیں اور پروڈیوسر ہیں جیری بروک ہائمر(Jerry Bruckheimer) جی ہاں! پائریٹس آف دی کیریبیئن والے، فلم کے لکھاریوں میں جارڈن میکنر کے ساتھ ساتھ بواز یاکن (Boaz Yakin)، ڈگ میرو (Doug Miro) اور کارلو برنارڈ (Carlo Bernard) شامل ہیں۔  فلم کی کہانی کے مرکزی عناصر ویڈیو گیم  والے ہیں لیکن ساتھ ساتھ فرنچائز کی اگلی دو ویڈیو گیموں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔  اور اگر اصل کہانی کی بات کی جائے تو وہ کئی ایک قدیم فارسی و ایرانی کہانیوں اور روایتوں کا ملغوبہ ہے۔  فلم میں مرکزی کردار جیک جیلنہال(Jake Gyllenhaal) ، گیما آرٹرٹن (Gemma Arterton)، بَین کنگزلے (Ben Kingsley) اور الفرڈ مولینا(Alfred Molina) نے ادا کئے ہیں۔

کہانی

فلم کی کہانی ایک یتیم لڑکے داستان(جیک جیلنہال) سے شروع ہوتی ہے جسے شاہِ فارس ڈرامائی انداز میں گود لے لیتا ہے اور یوں وہ تیسرا اور سب سے چھوٹا فارس کا شہزادہ بن جاتا ہے۔ اس کے دونوں سوتیلے بھائی طوس (یا طاس) اور گارسیو  اپنے چچا نظام (بَین کنگزلی) کے ایما پر الموت کے شہر پر حملے کی تیاری کرتے ہیں۔ نظام شہر الموت پر دغابازی اور بغاوت کا الزام لگاتا ہے، اس لئے شہزادہ داستان بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ لڑائی میں فارسیوں کو فتح ملتی ہے اور داستان کے ہاتھ ایک پراسرار خنجر  لگتا ہے جس میں جادوئی طاقتیں ہوتی ہیں۔ الموت کی شہزادی تہمینہ (گیما آرٹرٹن) قیدی بنا لی جاتی ہے  اور اس پر  امن کی خاطر شہزادہ طوس سے شادی کیلئے زور دیا جاتا ہے۔ تہمینہ یہ دیکھتے ہوئے کہ خنجر شہزادہ داستان کے پاس ہے شادی پر رضامند ہو جاتی ہے۔

شاہِ فارس شارامن الموت پر حملہ کرنے کی وجہ سے طوس سے نالاں ہوتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ تہمینہ کی شادی داستان سے ہو گی۔ جشن کے دوران داستان شاہِ فارس کو نا دانستگی میں ایک زہریلا لباس پہننے کو دے دیتا ہے، جو کہ اسے شہزادہ طوس نے دیا تھا۔ لباس کو پہنتے ہی بادشاہ کی موت ہو جاتی ہے۔ قتل کا الزام داستان پر لگتا ہے جو کہ موقع سے شہزادی تہمینہ کے ساتھ فرار ہو جاتا ہے۔ اب ایک مفرور شہزادہ اور ایک پراسرار شہزادی ایک جادوئی خنجر کے ساتھ دربدر پھرتے ہیں جہاں کبھی وہ ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں اور کبھی ان کا واسطہ پڑتا ہے ایک شترمرغ دوڑ کے شوقین شیخ عمار (الفریڈ مولینا) سے اور کبھی حشاشین سے جو ان کے خون کے پیاسے ہیں، کس لئے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ جاننے کیلئے “اج ای ویکھو ۔۔۔۔ فارس کا شہزادہ: سمےکی ریت

کے طوفان میں “۔

اضافی معلومات

پروڈیوسر  بروک ہائمر کو فلم سے بہت توقعات تھیں لیکن یہ فلم ان پر پوری نہ اتر سکی۔ وہ اسے نئی “پائریٹس آف کیریبیئن” فرنچائز دیکھ رہے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ تاہم ویڈیو گیمز سے ماخوذ اب تک کی تمام فلموں میں یہ پہلے نمبر پر پہنچ چکی ہے اور  لارا کرافٹ: ٹومب ریڈر اور مارٹل کومبیٹ کو باکس آفس پر کاروبار میں پیچھے چھوڑ گئی ہے۔

فلم میں تمام نمایاں عناصر ویڈیو گیم سے لے گئے ہیں جبکہ کہانی نسبتاً مختلف ہے۔ کہانی میں موجودتقریباً  تمام کردار، نام اور جگہیں ایرانی لوک داستانوں اور دیومالائی کہانیوں سے لئے گئے ہیں۔ کرداروں کے نام فردوسی کی شاہنامہ میں موجود ناموں سے ملتے جلتے  ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک شاہ اول، خواجہ نظام الملک طوسی اور حسن صباح کی جھلک بھی کرداروں میں ملتی ہے۔ خاص طور پر حشاشین کو Hassansins  کے نام سے لیا گیا ہے ۔ الموت کا شہر بھی قدیم ایرانی شہر ہے جہاں حسن صباح نے فاطمیوں کے زمانے میں اپنا قلعہ  تعمیر کیا تھا۔

اعزازی ریٹنگ

آئی ایم ڈی بی IMDb:  6٫7

روٹن ٹماٹوز Rotten Tommatos: 36 فیصد

Metacritic: 100/50۔

والدین کیلئے

مار دھاڑ اور ایکشن کی وجہ سے آئی ایم ڈی بی کے مطابق 13 سال اور اس سے کم کیلئے والدین کی نگرانی میں دیکھنا بہتر ہے۔

ذاتی رائے

ویڈیو گیم میں انٹرسٹ کی وجہ سے مجھے اس فلم کا انتظار تھا۔ اس کے علاوہ پائریٹس فرنچائز بھی میری پسندیدہ مین سے ایک ہے۔ فلم کی کاسٹ کا اعلان ہونے پر ہی مجھے جیک جیلنہال کچھ زیادہ موزوں نہیں لگا اس کردار کیلئے (پتا نہیں کیوں!) ۔ لیکن بہرحال فلم اچھی ہے۔ دیکھنے کے قابل ہے اور آرام سے دیکھی جا سکتی ہے۔ جو لوگ فینٹسی وغیرہ پسند نہیں کرتے ، انہیں شاید زیادہ نہ بھائے۔ اس کے علاوہ اس فلم میں تاریخ ڈھونڈنے والے بھی زیادہ محظوظ نہیں ہو سکیں گے۔

بونس

اردو سب ٹائیٹلز کے شائقین کیلئے ایک بونس ہے۔ اس فلم کے اردو سب ٹائیٹلز موجود ہیں، جو کہ میں نے خود تیار کئے ہیں۔ اس ربط سے اتارے جا سکتے ہیں۔ میں نے انہیں اسی نام کی فائل کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے، اس لئے دوسری کسی فائل کے ساتھ چلانے کیلئے تھوڑا ایڈجسٹ کرنے کے بعد دیکھے جا سکتے ہیں۔