گر میرے پاس کسی کو ایک فلم ریفر کرنے کا آپشن ہو تو “کاسٹ اوے” ان چند فلموں سے ایک ہوگی۔ ایک انوکھی و دلچسپ کہانی، زندگی بچانے کی جدوجہد، عزم مصمم، جذبات و محبت کی ایک دل موہ لینے والی داستان، جس میں مرکزی کردار ٹام ہینکس نے ادا کیا ہے اور ان کی اداکاری اس فلم میں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ دیگر بہت ساری اچھی فلموں کی طرح یہ فلم بھی کوئی آسکر ایوارڈ نہ جیت پائی اور کیونکہ بدقسمتی سے یہ اسی سال ریلیز ہوئی جس سال ہدایت کار رڈلے اسکاٹ کی عظیم شاہکار تاریخی فلم “گلیڈی ایٹر” منظر عام پر آئی تھی۔
“بیک ٹو دی فیوچر” اور “فورسٹ گمپ” جیسی شاہکار فلمیں بنانے والے ہدایت کار رابرٹ زیمیکس نے 2000ء میں ایڈونچر سے بھرپور اور چند لوگوں کی نظر میں سست رفتار کہانی کی حامل یہ فلم بنائی۔ فلم کا مرکزی کردار چک نولینڈ (ٹام ہینکس) معروف کوریئر سروس فیڈایکس کا ایک ملازم ہوتا ہے، جس کا ہوائی جہاز جنوبی بحر الکاہل پر پرواز کے دوران سمندر میں گر کر تباہ ہو جاتا ہے اور وہ ایک غیر آباد جزیرے پر اکیلا رہ جاتا ہے، اور جہاز کے باقی ماندہ سامان کے ساتھ جزیرے پر اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد کرتا ہے۔
کہانی
چک نولینڈ (ٹام ہینکس) معروف کوریئر کمپنی فیڈایکس کا ایک سسٹم اینالسٹ ہے جو دنیا بھر میں فیڈایکس کے دفاتر کا دورہ کر کے وہاں وقت کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ کیلی فریئرز (ہیلن ہنٹ) کے ساتھ عرصہ دراز سے میمفس، ٹینیسی میں رہتا ہے۔ گو کہ جوڑا کافی عرصے سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن چک کی مصروفیات ہمیشہ آڑے آ جاتی ہیں۔
ایک مرتبہ چک کرسمس کے موقع پر اہل خانہ وہ رشتہ داروں کے ساتھ تقریب میں شریک ہوتا ہے کہ اسے اچانک دفتر طلب کر لیا جاتا ہے۔ وہ ہوائی اڈے پہنچتا ہے جہاں چک اور کیلی کے درمیان تحفوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ یہاں کیلی چک کو اپنے دادا کی جیبی گھڑی تحفے میں دیتی ہے جس میں اس کی تصویر لگی ہوتی ہے جبکہ چک اسے ایک ڈبیہ دیتا ہے جس کے بارے میں وہ ہدایت کرتا ہے کہ اسے سال نو پر اس کی واپسی کے بعد کھولا جائے۔
چک کا جہاز جنوبی بحر الکاہل پر ایک طوفان میں پھنس جاتا ہے اور سمندر میں گر کر تباہ ہو جاتا ہے اور پورے عملے میں سے محض چک ہی ایک لائف بوٹ کے ذریعے اپنی زندگی بچانے میں کامیاب ہوپاتا ہے لیکن اس دوران وہ لائف بوٹ سے منسلک ایمرجنسی لوکیٹر ٹرانس میٹر کھو بیٹھتا ہے۔ تمام رات طوفان میں بچنے کی جدوجہد کے بعد وہ صبح ایک جزیرے کے ساحل بے ہوشی کی حالت میں پڑا دکھایا جاتا ہے۔
ہوش میں آنے کے بعد وہ جزیرے کی خاک چھانتا ہے اور جلد اس پر یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ جزیرہ غیر آباد ہے۔ پریشانی کے اس عالم میں اسے تباہ شدہ جہاز کے ملبے سے بہہ کر آنے والے فیڈ ایکس کے چند ڈبے اور جہاز کے ایک پائلٹ کی لاش ملتی ہے۔ وہ لاش کو دفنا دیتا ہے۔
ابتداء میں چک مدد کے لیے مختلف اشارے دینے کی کوشش کرتا ہے اور لائف بوٹ کے ذریعے جزیرے سے فرار کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن ایک طاقتور لہر اس کی کشتی کو تباہ کر دیتی ہے اور اس کی ٹانگ پر ایک گہرا زخم بھی آ جاتا ہے۔ یہ ظاہر ہونے کے بعد کہ یہاں سے فرار کی کوشش بہت خطرناک ہے اور بچنے کے امکانات بہت کم ہیں، چک غذا، پانی اور سر ڈھانکنے کے لیے انتظامات شروع کرتا ہے اور جان بچانے کی خاطر وہ فیڈایکس کے مختلف ڈبے کھولتا ہے۔ ان ڈبوں سے بظاہر کوئی کارآمد شے نہیں ملتی لیکن وہ ان سے بھی کئی کام نکال لیتا ہے۔ تاہم وہ ایک مخصوص نشان کا حامل ڈبہ نہیں کھولتا۔
آگ جلانے کی پہلی کوشش کے دوران اس کے ہاتھ پر گہرا زخم آ جاتا ہے۔ غصے میں وہ اپنے ساز و سامان کو پھینکتا ہے جس میں ایک والی بال بھی شامل ہوتی ہے۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد وہ بال پر اپنے خون کے نشانات سے ایک شکل بناتا ہے اور گیند کا نام “ولسن” رکھتا ہے اور یوں چک اور ولسن کی “دوستی” کا آغاز ہوتا ہے۔ تنہائی اور مایوسی کے اثرات چک کے ذہن پر غالب ہو جاتے ہیں اور وہ ولسن سے باتیں کر کے اپنی اس تنہائی کا غم غلط کرتا ہے۔ آگ جلانے میں کامیابی کے بعد وہ شکار کی گئی مچھلیاں پکاتا ہے۔ اس دوران اس کی ایک داڑھ میں شدید تکلیف ہوتی ہے جسے وہ سامان میں سے نکلنے والی آئس اسکیٹ سے نکال دیتا ہے۔
پھر چار سال بعد کا منظر دکھایا جاتا ہے جس میں چک بہت زیادہ کمزور اور لمبی داڑھی والا آدمی دکھائی دیتا ہے جبکہ اس کے جسم پر بھی محض ایک کپڑا ہے جس سے اس نے ستر ڈھانکا ہوا ہے۔ وہ مچھلیاں پکڑنے اور آگ جلانے کا ماہر بن چکا ہوتا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران چک کا ولسن کے ساتھ انتہائی جذباتی تعلق قائم ہو چکا ہوتا ہے، جس سے وہ مختلف موضوعات پر گفتگو اور کبھی کبھار بحث بھی کرتا ہے۔
—— انتباہ ——
مکمل کہانی پڑھنے کی صورت میں آپ فلم میں دلچسپی کھو سکتے ہیں
پھر ایک روز ایک پورٹ ایبل ٹوائلٹ کا بڑا سا پلاسٹک کا حصہ ساحل پر آ لگتا ہے، چک اسے بطور بادبان استعمال کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اور ایک کشتی کی تیاری کا آغاز کرتا ہے۔ چک جانتا ہے کہ اس فرار کی کوشش میں سب سے اہم کردار موسم اور ہوا کے رخ کا ہوگا، اس لیے مناسب موسم کا انتظار کرتا ہے اور اس دوران کشتی کی تیاری اور غذاء جمع کرنے، ماہی گیری کا سامان بنانے میں کچھ وقت گزارتا ہے اور جب موسمی صورتحال مناسب لگتی ہے وہ کشتی کو سمندر میں ڈالتا ہے اور اپنی ترکیب کے ذریعے کامیابی سے آخری بڑی لہر کو بھی عبور کر کے گہرے سمندر میں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں اسے زبردست طوفان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جس میں اس کی کشتی تقریبا تباہ ہو جاتی ہے اور بالآخر وہ ولسن کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔
بھوکا، ننگا، تھکا ہارا، دھوپ کی شدت سے جھلسے ہوئے بدن کے ساتھ اور ولسن کی جدائی سے دل شکستہ چک خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے اور بعد ازاں ایک بحری جہاز اسے موت سے بچا لیتا ہے۔
جب وہ واپس آتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے مردہ تسلیم کیا جا چکا تھا اور اس کے اہل خانہ اور دوستوں نے اس کی آخری رسومات بھی ادا کر دی تھیں۔ کیلی نے اس کے دندان ساز سے شادی کر لی اور اس سےاس کی ایک بیٹی بھی ہے۔ کیلی سے ملاقات کے بعد میں ایک دوسرے کے لیے دل میں چھپی محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے الگ راہیں اپنا لیتے ہیں کہ مستقبل میں دونوں کا ساتھ رہنا نا ممکن ہے۔ کیلی چک کو اس گاڑی کی چابیاں دیتی ہے جو کبھی ان کے یکساں استعمال میں تھی۔ دل شکستہ چک نولینڈ اس امید کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے کہ ہو سکتا ہے اسے خوشیوں کا ایک نیا موقع ملے۔
اختتامی لمحات میں چک اس فیڈایکس پیکیج کو اس کی منزل تک پہنچاتا ہے جو اس نے جزیرے پر نہیں کھولا تھا۔ جب وہ گھر پہنچتا ہے تو وہ خالی ہوتا ہے اس لیے وہ پیکیج کو دروازے پر چھوڑ دیتا ہے، اور ساتھ میں ایک کاغذ کے پرزے پرلکھ دیتا ہے کہ اس پیکیج نے اس کی زندگی بچائی۔ جب وہ جانے لگتا ہے تو چوراہے پر اسے ایک ٹرک ڈرائیور عورت ملتی ہے جو اسے بتاتی ہے کہ یہ چاروں راستے کس طرف جاتے ہیں۔ جب وہ عورت جانے لگتی ہے تو چک دیکھتا ہے کہ اس کے ٹرک کے پیچھے وہی نشان بنا ہوا ہے جو ڈبے پر تھا۔ پھر چک چاروں راستوں کی طرف دیکھتا ہے اور فیصلہ کرنے لگتا ہے کہ اسے کس طرف جانا چاہیے اور پھر وہ ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس راستے کا انتخاب کرتا ہے جس طرف عورت کا گھر ہوتا ہے۔
اداکار
- ٹام ہینکس بطور چک نولینڈ
- ہیلن ہنٹ بطور کیلی فریئرز
- ولسن والی بال بطور ولسن
- جینیفر لویس بطور بیکا ٹویگ
- نکی سیئرسی بطور اسٹین
- کرس نوتھ بطور جیری لوویٹ
- لاری وائٹ بطور بیٹینا پیٹرسن
- نوس مارٹن بطور البرٹ ملر
پروڈکشن
فلم کی کہانی کے پیش نظر اسے مستقل نہیں فلمایا گیا بلکہ پروڈکشن سے قبل ہینکس نے خود کو ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ظاہر کرنے کے لیے 50 پاؤنڈ وزن بڑھایا۔ جب بیشتر فلم کی عکاسی ہو گئی تو پروڈکشن کو ایک سال کے لیے روک دیا گیا تاکہ ٹام ہینکس اپنا وزن کم کر سکیں اور بالوں اور داڑھی کو بڑھا سکیں تاکہ فلم میں حقیقت کا روپ آ سکے۔ اس ایک سال کے عرصے میں زیمیکس نے اسی کاسٹ کو استعمال کرتے ہوئے ایک اور فلم “واٹ لائز بنیتھ” بنائی۔
کاسٹ اوے فجی کے قریب مامانوکا جزائر کے ایک جزیرے مونوریکی پر فلمائی گئی۔ فلم کے اجراء کے بعد دنیا بھر کے سیاحوں نے اس جزیرے کا رخ کیا اور یہ ان کے لیے ایک پرکشش مقام بن گیا۔
فلم شائقین میں بہت عرصے تک یہ بحث رہی ہے کہ جس ڈبے کو چک نے آخر تک نہیں کھولا، اس میں آخر کیا تھا؟ ایک مرتبہ ایک مذاکرے کے دوران ہدایت کار رابرٹ زیمیکس نے ازراہ مذاق کہا کہ جس ڈبے کو نہیں کھولا گیا تھا اس میں ایک واٹر پروف اور شمسی توانائی سے چلنے والا سیٹلائٹ فون تھا۔
تاثرات
کاسٹ اوے کو ناقدین نے بہت زیادہ سراہا خصوصا ٹام ہینکس کی اداکاری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ روٹن ٹماٹوز پر اس فلم کا اسکور 89فیصد ہے۔ باکس آفس پر بھی یہ بہت کامیاب فلم بنی اور ٹکٹوں کے ذریعے اس نے 429،632،142 ڈالرز سے زائد کی آمدنی حاصل کی۔
بہترین مناظر
- ہوائی جہاز کی تباہی اور سمندر میں چک نولینڈ کی زندگی بچانے کی جدوجہد کے مناظر بہت خوبصورتی سے فلمائے گئے ہیں۔
- جب جزیرے پر چک نولینڈ آگ جلانے میں پہلی مرتبہ کامیاب ہوتا ہے۔
- جزیرے سے فرار کی کوشش کے دوران ولسن کے کھو جانے کے بعد چک خود کو حالات کے رحم و کرم پرچھوڑ دیتا ہے، اس دوران ایک جہاز اسے بچا لیتا ہے۔
- جزیرے سے واپسی کے بعد کیلی سے ملاقات کے مناظر
بہترین مکالمے
- چک نولینڈ: دیکھو میں نے کیا بنایا ہے، میں نے آگ تخلیق کی ہے۔
- چک نولینڈ: اور جب یہ احساس مجھ پر ایک گرم لحاف کی طرح طاری ہو جاتا تو پھر میں سوچتا کہ میں نے کسی نہ کسی طرح زندہ رہنا ہے۔ مجھے سانس لیتے رہنا ہے۔ اس صورتحال میں بھی جب امید کی کوئی کرن موجود نہیں۔ اور میری عقل کہتی کہ میں اس مقام کو کبھی نہیں دیکھوں گا۔ یہ کام تھا جو میں نے کیا۔ میں زندہ رہا۔ میں سانس لیتا رہا اور پھر ایک روز میری تمام منطق غلط ثابت ہوئی جب ایک بڑی سے لہر نے مجھے اٹھایا اور گہرے سمندر میں ڈال دیا۔ اور اب، میں یہاں ہوں۔ میں واپس آ گیا ہوں، میمفس میں، تمہارے ساتھ بات کر رہا ہوں۔ میرے گلاس میں برف ہے ۔۔۔ اور میں ایک مرتبہ پھر سب کچھ کھو چکا ہوں۔ مجھے بہت دکھ ہے کہ کیلی اب میری نہيں رہی۔ لیکن مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ جزیرے پر میرے ساتھ تھی۔ اور مجھے معلوم ہے کہ میں نے اب کیا کرنا ہے۔ مجھے سانس لیتے رہنا ہے۔ کیونکہ جب کل کا سورج طلوع ہوگا تو کسے خبر کہ اس سے کیا برآمد ہوگا؟
- کیلی فریئرز: مجھے معلوم تھا کہ تم زندہ ہو، میں جانتی تھی۔ ہر کوئی کہتا تھا کہ اسے بھول جاؤ۔ چک! مجھے تم سے محبت ہے۔ تم میری ہمیشہ کی محبت ہو۔
چک نولینڈ: مجھے بھی تم سے محبت ہے۔ تمہارے اندازوں سے بھی زیادہ۔
- چک نولینڈ: دنیا کی سب سے خوبصورت چیز، بلاشبہ، خود دنیا ہے۔
- چک نولینڈ: میں ہمیشہ اس گھڑی کو میمفس کے وقت کے مطابق رکھتا۔ یعنی کیلی کے وقت کے مطابق۔
- اسٹین: ہم نے تمہیں دفنایا۔ کفن بھی تھا، قبر بھی ۔۔۔ سب کچھ۔
چک نولینڈ: کفن؟۔۔۔۔۔ ویسے اس کے اندر کیا تھا؟
ساؤنڈ ٹریکس
- “Cast Away”
- “Wilson, I’m Sorry”
- “Drive to Kelly’s”
- “Love of My Life”
- “What the Tide Could Bring”
- “Crossroads”
- “End Credits”

17 تبصرے کیے گئے۔
طالوت says:
May 24, 2010
عمدہ تجزئیے ہیں ابو شامل ۔ لیکن اب کی بار “انتباہ“ بھی خوب ہے ۔ ٹام ہینکس کی چار چھ فلمیں جو میں نے دیکھ رکھی ہیں ، عمدہ فلمیں ہیں ۔
وسلام
ابوشامل says:
May 26, 2010
تشریف آوری کا شکریہ طالوت! ٹام ہینکس کی ایک دو اور فلموں پر بھی تبصرہ کرنا ہے لیکن آہستہ آہستہ
محب علوی says:
May 25, 2010
عمدہ فلم ہے مگر بہت موڈ بنا کر اور کلاسیکل فلم دیکھنے کا جس میں بڑی باریک بینی کی بھی ضرورت ہو تب مزہ دیتی ہے ورنہ عام حالات میں ناقدین ہی کی فلم بن کر رہ جاتی ہے۔
ابوشامل says:
May 26, 2010
صحیح کہہ رہے ہیں محب، فلم دیکھنے جیسا کام ہی کرنا ہے تو کوئی ایسی دیکھیں جس سے کچھ سیکھنے کو ملے۔
Jafar says:
May 25, 2010
کچھ طوالت نہیں آگئی۔۔
اتنی دیر میں تو فلم دیکھی جائے گی
D:
ابوشامل says:
May 26, 2010
اس مرتبہ تو میں نے پچھلی مرتبہ سے مختصر ہی لکھا ہے
Jafar says:
May 25, 2010
فلم کے بارے میں لکھنا تو بھول ہی گیا
زبردست۔۔۔ میری طرف سے بھی ریکمنڈڈ
خورشیدآزاد says:
May 25, 2010
بلاشبہ یہ فلم ایک شاہکار ہے۔ خاص طور پر ٹام ہنکس کی فنکاری لاجواب ہے۔ فہد آپ نے اس تجزیہ کو انتہائی محنت اور لگن سے لکھا ہے جو اس فلم کے شایان و شان ہے جس کے لیے آپ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
اس سلسلےکو جاری وساری رکھیں۔ ایک مشورہ ہے کہ SEO کے لیے فلم، اداکاروں، پیشکاروں و ہدایت کاروںوغیرہ وغیرہ کے نام اور اس کے علاوہ اہم الفاظ (Keywords) انگریزی میں ضرور لکھیں جس سے آپ کا یہ بلاگ گوگل درجہ بندی میں اوپر آئے گا۔ اور مستقبل
میں اگر اسی طرح محنت اور لگن سے اچھی اچھی تحریروں کا عمل جاری رہا تو یہ بلاگ آپ کے لیے ذریعہ آمدنی بھی بن سکتا ہے۔
مثلا
گر میرے پاس کسی کو ایک فلم (Hollywood Movie) ریفر کرنے کا آپشن ہو تو “کاسٹ اوے” (Cast Away) ان چند فلموں سے ایک ہوگی۔ ایک انوکھی و دلچسپ کہانی، زندگی بچانے کی جدوجہد، عزم مصمم، جذبات و محبت کی ایک دل موہ لینے والی داستان، جس میں مرکزی کردار ٹام ہینکس (Tom Hanks) نے ادا کیا ہے اور ان کی اداکاری اس فلم میں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ دیگر بہت ساری اچھی فلموں کی طرح یہ فلم بھی کوئی آسکر ایوارڈ(Oscar Award 2000) نہ جیت پائی اور کیونکہ بدقسمتی سے یہ اسی سال ریلیز ہوئی جس سال ہدایت کار رڈلے اسکاٹ (Director Ridley Scott) اورہالی ووڈ سپرسٹار رسل کرو(Russell Crowe) کی عظیم شاہکار تاریخی فلم “گلیڈی ایٹر”( 2000 Gladiator) منظر عام پر آئی تھی۔
“بیک ٹو دی فیوچر”(Back to the Future) اور “فورسٹ گمپ” (Forst Gump) جیسی شاہکار فلمیں بنانے والے ہدایت کار رابرٹ زیمیکس (Director Robert Zemeckis) نے 2000ء میں ایڈونچر سے بھرپور اور چند لوگوں کی نظر میں سست رفتار کہانی کی حامل یہ فلم بنائی۔ فلم کا مرکزی کردار چک نولینڈ (ٹام ہینکس) معروف کوریئر سروس فیڈایکس کا ایک ملازم ہوتا ہے، جس کا ہوائی جہاز جنوبی بحر الکاہل پر پرواز کے دوران سمندر میں گر کر تباہ ہو جاتا ہے اور وہ ایک غیر آباد جزیرے پر اکیلا رہ جاتا ہے، اور جہاز کے باقی ماندہ سامان کے ساتھ جزیرے پر اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد کرتا ہے۔
ابوشامل says:
May 26, 2010
ارے اس حقیر کی کیا تعریف؟ یقین جانیں میں اب تک کیے جانے والے دونوں تجزیوں سے مطمئن نہیں ہوں، شاید ایک ڈیڑھ سال تک اس بلاگ پر اوٹ پٹانگ تحاریر لکھنے کے بعد کسی فلم کا کوئی ڈھنگ کا ریویو لکھ سکوں۔ بس تب تک آپ کی برداشت کا امتحان لیتا رہوں گا
آپ نے اچھی توجہ دلائی ہے لیکن یہ کام میں ٹیگ سے کر رہا ہوں، مجھے ایس ای او کے بارے میں زیادہ نہیں معلوم، اگر آپ جیسا کوئی ماہر اس بارے میں میری رہنمائی فرمائے تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔ تکنیکی طور پر میں ہر وقت اور ہر قسم کی مدد لینے کو تیار ہوں
فیصل says:
May 25, 2010
زبردست۔ آپکا تجزیہ بھی خوب ہے اور اس فلم کے تو کیا ہی کہنے۔ لگتا ہے آپ رفتہ رفتہ میری ہی پسندیدہ فلموں پر تبصرے لکحتے رہیں گے۔ چلیں اچھی بات ہے۔ ویسے یہ بلاگ ان میں سے ہے جن پر اگلی تحریر کا انتظار رہتا ہے۔ کچھ وجہ معیار ہے اور کچھ سسپنس۔
ابوشامل says:
May 26, 2010
بہت شکریہ فیصل بھائی، میں نے پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں بہتر لکھنے کی کوشش تو کی ہے لیکن مجھے لگتا ہے میں اب بھی ناکام رہا ہوں۔ آپ جیسے دوستوں کی رہنمائی کی ضرورت رہے گی۔
میری کوشش ہوگی کہ صرف آپ کی پسندیدہ فلموں پر ہی تبصرے نہ کروں بلکہ ایسی فلموں پر بھی کروں جو آپ نے نہ دیکھی ہوں اور یہاں پڑھنے کے بعد وہ آپ کی پسندیدہ فلم بن جائیں
بہت شکریہ
ساجداقبال says:
May 27, 2010
آپکے ریویو کے بعد یہ فلم دیکھنی ہی پڑیگی۔ آپکے ٹریلر ویڈیو سے معلوم پڑا کہ یوٹیوب کھل گئی ہے۔ ویسے پاکستان میں کسی چیزکے بحران کے بعد دوبارہ دستیابی بشرط شناختی کارڈ ہوتی ہے، یوٹیوب کا کیامعاملہ ہے۔
ابوشامل says:
May 29, 2010
ساجد بھائی! مجھے یقین نہیں آ رہا کہ آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی۔ ویسے آپ نے شناختی کارڈ دکھایا تھا یو ٹیوب کو؟
خاور بلال says:
May 29, 2010
تجزیہ بہت عمدہ اور فلم کے تو کیا کہنے۔ یہ تجزیہ پڑھنے کے بعد ہماری بیگم نے ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں یہ فلم ضرور دکھائی جائے۔
ابوشامل says:
May 29, 2010
حکم کی تعمیل ہوووو !
طارق راحیل says:
Jun 4, 2010
دیکھ کر تبصرہ کریں گے
دو اور دو۔پانچ says:
Mar 17, 2012
پہلی بار یہ فلم آج سے 3 سال پہلے ٹی وی پر جرمن زبان میں دیکھی تھی۔اور اب تک 2 بار یہ فلم دیکھ چکا ہوں۔اس فلم کی ایک بات جو میں آج تک نہیں بھولا وہ یہ کی چک نو لینڈ نےسارے ڈبے اور پیکٹ تو کھولے لیکن ایک وہ مخصوص پروں کے نشان والا ڈبہ کیوں نہیں کھولا۔
آگ جلانے والے منظر میں چک کی بے کسی دیکھ کر سخت دکھ ہوا۔
ہالی ووڈ کے فلم ساز عموماًاپنی فلموں میں کسی مارکہ،کمپنی لوگو یا کسی پروڈکٹ کو بلا ضرورت نمایاں کرنے سے اجتناب کرتے ہیں،لیکن اس فلم میں جگہہ جگہہ فیڈ ایکس کے لوگو کو نمایاں کیاگیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس فلم کوفیڈ ایکس کی طرف سے تشہیر کی مد میں بھی کثیر رقم ملی ہو گی ! ۔