کامک کہانیاں اور گرافک ناول مغربی ممالک میں تخیلاتی ادب پیش کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک ہرماہ کئی کامک کہانیاں اور گرافک ناول دکانوں اور پھر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچتےہیں۔ اسپائیڈر مین، گرین لینڑن ،ٹن ٹن،ایکس مین، اسکاٹ پلگرم ورسز دی ورلڈ اور لیگ آف ایکسڑا آرڈنیری جنٹل مین گرافک ناولوں اور کامک کہانیوں سے ماخوذ فلموں کی چندمثالیں ہیں۔ لیکن کسی کامک یاگرافک ناول سے ماخوذ ہونے کا یہ مطلب قطعی طور پر یہ نہیں کہ اس کا ہیرو ہوا میں اڑتا آنکھوں سے لیزر شعائیں پھینکتا کوئی مافوق الفطرت انسان ہی ہو، جو کسی سائنسی تجربے یا حادثے کی بھینٹ چڑھ کر عام انسان سے برتر طاقت بن گیا ہو۔ بیٹ مین فلم کا بروس وین ایسی کسی طاقت کا حامل نہیں ، اور گزشتہ سال کی ایک بہترین فلم کک ایس کا ہیرو تو بروس وین کی طرح جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی نہیں رکھتا ، اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ فلمیں صرف جرم کے خلاف جنگ کے سنجیدہ موضوع پر ہی بنی ہوں مثال کہ طور پر اسکاٹ پلگرم ایک ہلکی پھلکی رومانوی مزاحیہ فلم ہے۔
لیکن جس فلم کا تذکرہ میں کرنے جارہا ہوں میرے خیال میں وہ کامک کہانیوں اور گرافک ناولوں پر مبنی تمام فلموں میں زیادہ اثر چھوڑنے والی فلم ہے۔ جی ہاں اگر آپ ”وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو” مہم میں لوگوں کو ایک مضحکہ خیز ماسک پہنے احتجاج کرتے دیکھا تھا تو یہ فلم وی فور وینڈیٹا کا اثر تھا۔ لندن میں ہونے والے مظاہروں میں جولین اسانج نےاپنے چہرے کو گائے فاکس ماسک کے پیچھے اس لئے چھپایا تھا کیونکہ اس فلم نےاس ماسک کو ایک بین الاقوامی سمبل بنادیا ہے۔
فلم وی فور وینڈیٹا کامک کہانیوں کے برطانوی مصنف ایلن مور اور برطانوی کامک تصاویر نگار ڈیوڈ لائیڈ کے گرافک ناول ‘وی فور وینڈیٹا’ سے ماخوذ ہے ۔ پانچ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے لاگت سے تیار کی گئی یہ فلم 17 مارچ 2006ء کو ریلیز ہوئی اور دنیا بھر میں اس نے 13 کروڑ 14 لاکھ 11 ہزار 35 ڈالر کا کاروبار کیا۔ فلم کو برطانیہ اور جرمنی کے اسٹوڈیوز میں فلمایا گیا جبکہ فلم کے آخری حصے کو ویسٹ منسٹر میں برطانوی پارلیمان کے سامنے فلمایا گیا۔
گائے فاکس کون؟
فلم کو سمجھنے کئے ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ گائے فاکس کون تھا۔ گو کہ برطانیہ میں گائے فاکس کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں لیکن یہاں شاید بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں کہ گائے فاکس ایک برطانوی رومن کیتھولک عیسائی تھا جس نے 5 نومبر 1605ء میں برطانوی دارالامراء کو بارود سے اڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس واقعے کو ‘گن پاؤڈر پلاٹ’ یا ‘بارود سازش’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ہر سال نومبر کی 5 تاریخ کو برطانوی عوام اس واقعے کی یاد میں ‘گائے فاکس ڈے’ اور ‘بون فائر نائٹ’ مناتے ہیں۔
کہانی
فلم میں مستقبل قریب کے تصوراتی برطانیہ کو دکھایا گیا ہے جہاں لندن پر دہشت گردوں کے کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے بعد مسلمانوں ، ہم جنس پرستوں اور آزاد فنون لطیفہ اور موسیقی سےانتہائی نفرت کرنے والی قدامت پسند سیاسی جماعت نورس فائر کی فاشسٹ حکومت ہائی چانسلر ایڈم سٹلر(جان ہرٹ)کی سربراہی میں قائم ہے، اور برطانیہ ایک پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں آزادئ اظہار رائے اور دیگر سیاسی آزادیاں ناپید ہیں۔ شہروں میں رات کو کرفیو نافذ کردیاجاتا ہے اور خفیہ پولیس اہلکار (فنگرمین) جب چاہیں اور جسے چاہیں غائب کردیتے ہیں۔ چارنومبر کی رات برطانیوی ٹیلی وژن(بی ٹی این) کی ملازم ایوی ہامنڈ(نیٹلی پورٹ مین) اپنے ساتھ کام کرنے والے ٹی وی میزبان گورڈن ڈیٹرک (اسٹیفن فرے) سے ملنے جارہی ہوتی ہے کہ اس کی مڈبھیڑ خفیہ پولیس سے ہوجاتی ہے جو اس کے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھانے کے کوشش کرتے ہیں لیکن ایسے میں ایک ماسک پہنا آدمی (ہوگو ویونگ) وہاں پہنچ جاتا ہے اور ایوی کو فنگرمین سے نجات دلانے کے بعد مضحکہ خیز انداز میں اپنا تعارف بطور ”وی” کرواتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ موسیقار ہے اور اپنے فن کا مظاہرہ کرنے جارہا ہے، اگر ایوی موسیقی سے دلچسپی رکھتی ہے تو اس کے ساتھ چلے اور وہ بعد میں اسے اس کے گھر چھوڑ دے گا۔ وی ایوی کو لے کر ایک عمارت کی خالی چھت پر چلاجاتا ہے وہاں ایک موسیقار کی طرح اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتا ہے تو روڈ پر لگے اسپیکروں سے موسیقی سنائی دینے لگتی ہے اور ایک قریبی عمارت اولڈبیلی (مرکزی عدالت برائے جرائم) ایک دھماکہ سے تباہ ہوجاتی ہے۔
دوسرے دن ‘وی’ بی ٹی این کی عمارت جارڈن ٹاورپر اپنے جسم سے بم باندھ کر قبضہ کرلیتا ہے اور ایمرجنسی چینل کے ذریعے اپنے ایک ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرتا ہے جو پورے لندن میں ہر ٹی وی پر دیکھی جاتی ہے۔ وہ عوام کو بتاتا ہے کہ اس نے اولڈبیلی کو تباہ کیا ہے تاکہ عوام اس دھماکے سے جاگ اٹھیں اور اس حکومت سے نجات حاصل کرنے کے آج سے ایک سال بعد نومبر کی پانچ کو پارلیمان کے سامنے اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
جارڈن ٹاور سے نکلتے وقت وی کو پولیس آفیسر ڈومینک (روپرٹ گریوز) گھیر لیتا ہے لیکن یہاں ایوی اس کی مدد کرتی ہے اور پولیس کی نظروں میں آجاتی ہے اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی ‘وی’ ایوی کو اپنے ساتھ اپنی خفیہ پناہ گاہ (شیڈوڈگیلری) لے جاتا ہے۔ جہاں ایوی اسے اپنے والدین اور بھائی کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس کے والدین سیاسی کارکن تھے جنہیں خفیہ پولیس نے غائب کردیا تھا اور اس کا بھائی دس سال قبل سینٹ میری اسکول پر ہونے والے حیاتیاتی ہتھیار کے حملے (تھری واٹر)میں ہلاک ہوا گیا تھا۔ تب ہی سے وہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے اور وہ اپنے والدین کی طرح بہادر نہیں ہے، اسی لئے وہ وی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی لیکن وی اسے واپس جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیتا ہے۔
پھر کیا ہوتا ہے یہ سب بتادیا تو فلم دیکھنے میں کوئی لطف نہیں رہ جائے گا۔ ہاں اتنا بتادوں کہ وی اپنی زندگی میں ویلیری نامی خاتون سے متاثر ہوتا ہے اور اسی کی پراثر شخصیت کو استعمال کرکے وہ ایوی کا خوف دور کردیتا ہے۔ البتہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں؟ ویلیری، ایوی اور وی کا باہم کیا رشتہ ہے؟ وی کی اپنی کہانی کیا ہے؟ اور نوس فائر نے ایسا کیا جادو چلایا تھا کہ برطانوی عوام نے انتخابات میں انہیں منتخب کیا؟ یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کا جواب تو آپ کوفلم دیکھ کر ہی پتہ چلنا چاہیے۔
تبصرہ
وی فور وینڈیٹا ایک بہترین فلم ہے، میں اسے دس میں سے دس نمبر دوں گا۔ نیٹلی پورٹ مین نے اسرائیلی نژاد امریکی ہونے کے باوجود ایک برطانوی خاتون کے کردار اور لہجے کو بڑے عمدگی سے ادا کیا ہے۔ فلم میں کئی جگہ انہوں ثابت کیا کہ وہ ایک بڑی اداکارہ ہیں، ہوگو ویوینگ کا چہرہ اس پوری فلم میں نظر نہیں آتا اور ویسے بھی مجھے ہوگو ویونگ کی اداکاری کچھ عجیب سے لگتی ہے۔ ‘میٹرکس’ اور ‘لارڈ آف دی رنگ’ میں نجانے کیوں ہوگو ویوینگ کی اداکاری مجھے اوور ایکٹنگ لگی تھی، لیکن اس فلم میں ان کی آواز اور لہجے نے فلم کو چار چاند لگادیے ہیں۔ ویونگ کا کردار ‘وی’ دراصل ایک انارکسٹ ہے جو تشدد اور انارکی سے ملک کی صورت حال بدلنا چاہتا ہے۔ ویوینگ نے فنون لطیفہ ، موسیقی اور فلموں کے دلدادہ ‘وی’ اور انتقام کی آگ میں جلتے ‘وی’ کا کردار بڑے اچھے انداز میں نبھایا۔فلم کی کہانی تھوڑی جنجال ہے اس لئے سرسری طور پردیکھنے سے سمجھ میں شاید نہ آئے لیکن فلم کا اصل حسن اس کے مکالمے ہیں۔ کچھ مشہور مصنفوں، سیاسی کارکنوں کے اقوال حتیٰ کہ آئن اسٹائن کا ایک مشہور مقولہ بھی فلم کے سکرپٹ میں شامل ہے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والی ‘وی’ کی تقریر تو کچھ ایسی ہے کہ اگر کوئی سیاسی رہنما ایسی تقریر کرے تو دل اس کی طرف فوراً مائل ہوجائے، اور ویلیری کی آپ بیتی بھی بہت احسن انداز میں لکھا گیا ہے ۔ آخری بات یہ کہ ویسے تو فلم بالکل صاف ستھری ہے لیکن اس کی کہانی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی وکالت کرتی ہے اور فلم کے کچھ مناظر میں اس کا حوالہ موجود ہے۔

7 تبصرے کیے گئے۔
جعفر says:
23, 2012
عمدہ فلم ہے
اور ریویو بھی جامع ہے
جبران رفیق says:
23, 2012
زبردست۔ اب تو یہ فلم دیکھنی پڑے گی۔
ابوشامل says:
23, 2012
بڑی زبردست فلم لگ رہی ہے۔ موقع ملتے ہی ضرور دیکھوں گا۔
بلاامتیاز says:
24, 2012
بہت اعلی ریویو لکھا ۔۔ زبردست
علی says:
24, 2012
جناب والا اچھا ہے اس سلسلے کو جاری رکھیں پر ایک چھوٹی سے رائے میری جاہل عقل کے مطابق یہ تھی کی ذرا سا کہانی کو مختصر کر کے بتائیں۔۔۔
عبدالقدوس says:
25, 2012
میں یہ فلم دو منرتبہ دیکھ چکا ہوں۔ کافی اچھی فلم ہے
عمیر ملک says:
6, 2012
میں یہ فلم کئی بار دیکھ چکا ہوں۔۔ نہایت اعلیٰ فلم ہے۔ بہت عمدہ تجزیہ۔ سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا دیکھ کر اچھا لگا۔ سائٹ کی نئی تھیم بھی اچھی اور سادہ ہے۔