جب فلمستان بلاگ کا آغاز کیا تو تمام اردو بلاگر ساتھیوں نے بہت سراہا، اور ان کی حوصلہ افزائی ہی کا نتیجہ تھا کہ یہ بلاگ لکھنے کا حوصلہ ہوا اور اب تک ان کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔
ایک چیز جس پر کچھ قارئین معترض ہوئے ہیں وہ میرے (یعنی صرف میرے) لکھے گئے ریویوز میں فلم کی پوری کہانی بیان کرنا ہے، شاشینک ریڈمپشن میں پوری کہانی پیش کرنے پر قارئین نے مشورہ دیا کہ اس پر کوئی اسپائلر الرٹ وغیرہ لگا دیا جائے تاکہ پوری کہانی معلوم ہونے کے بعد اس فلم کو پہلی مرتبہ دیکھنے والے ناظرین کی فلم میں دلچسپی ختم نہ ہو۔ اس لیے اگلی تحریر کاسٹ اوے میں ایک “انتباہ” لگا دیا کہ جن قارئین نے یہ فلم نہیں دیکھی وہ اپنی ذمہ داری پر پوری کہانی پڑھیں، بعد میں فلم دیکھنے کا مزا خراب ہو تو ہمیں نہ کوسیں
حالانکہ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ کہانی بیان کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ اس سے آپ کا ریویو جامع ہو جاتا ہے اور بلاگ کی امتیازی خصوصیت ہو جاتی ہے اس نے ہر زاویے سے فلم کا جائزہ لیا ہے لیکن میں اپنے اس ذاتی فیصلے پر زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکا۔ کیونکہ ایک ایسی فلم نظر سے گزری جس کے بارے میں میں نے بھی یہی سمجھا کہ اگر اس کی کہانی کا ایک لفظ بھی زیادہ بیان کیا تو اس کو دیکھنے کا مزا ختم ہو جائے گا۔ فلم کا نام ہے دی یوژوئل سسپیکٹس (The Usual Suspects) جس میں کیون اسپیسی (Kevin Spacey) نے راجر “وربل” کنٹ کا اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے لیے ہدایات برائن سنگر (Bryan Singer) نے دی ہیں، جنہوں نے حال ہی میں سپر مین ریٹرنز (Superman Returns) والکیری (Valkyrie) بنائی ہیں۔ جبکہ اسکرپٹ کرسٹوفر میک کوئیری (Christopher McQuarrie) کا لکھا ہوا تھا۔
کہانی
یہ فلم لاس اینجلس بندرگاہ پر لنگر انداز ایک جہاز میں بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل عام کے بارے میں ہے جس میں وربل سمیت صرف دو افراد ہی کی جان بچتی ہے۔ فلم کی پوری کہانی دراصل قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے وربل سے کی جانے والی تفتیش کے گرد گھومتی ہے۔ وربل نے امریکی کسٹمز کے ایک ایجنٹ ڈیوڈ کویان کو اپنی اور دیگر چار ساتھیوں کی کہانی بتائی اور ان عوامل سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے وہ اس بحری جہاز پر گئے۔ اس کہانی کو اس کے بیانات اور مناظر کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ وربل نے کویان کو جرائم کی دنیا کی ایک پراسرار شخصیت “قیصر سوزے” کے بارے میں بتایا۔ اس طرح فلم کا موضوع بنیادی طور پر قیصر سوزے کی پراسراریت بن جاتا ہے۔ اب اگر میں نے اس سے تھوڑی سی بھی زیادہ کہانی بتا دی تو پھر مسئلہ ہو جائے گا۔ اس لیے مزید کہانی جاننے کے لیے فلم دیکھئے۔
اگر آپ مکالموں (ڈائیلاگز) پر بہت زیادہ غور کرتے ہیں اور آپ کو مافیا اسٹائل کی فلمیں پسند ہیں تو یہ فلم ضرور دیکھئے گا۔ یہ آپ کو ایک نئے تجربے سے روشناس کرائے گی۔
اعزازات و تنقید
فلم دو آسکر ایوارڈز : بہترین اوریجنل اسکرین پلے اور بہترین معاون اداکار، کے لیے نامزد ہوئی اور دونوں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ کیون اسپیسی کو بہترین معاون اداکار کا اعزاز ملا جبکہ میک کوئیری نے برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈز میں بھی بہترین اوریجنل اسکرین پلے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ وہ فلم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس فلم کا اختتامیہ ہالی ووڈ کے بہترین اختتامیوں میں سے ایک ہے۔ اختتام پر پوری فلم آپ کی نظروں میں دوڑ جاتی ہے اور یہی بات اسے بالکل مختلف اور بہترین فلم بناتی ہے۔ گو کہ کچھ بڑے ناقدین کو یہ فلم پسند نہیں آئی جیسا کہ شکاگو-سن ٹائمز کے راجر ایبرٹ کو، جنہوں نے اس فلم کو 4 میں سے محض ڈیڑھ اسٹار سے نوازا اور اسے اپنی “ناپسندیدہ ترین فلموں” میں شمار کیا تاہم بحیثیت مجموعی اسے ناقدین اور ناظرین دونوں کی جانب سے خوب پذیرائی ملی۔
مشہور ویب سائٹ روٹن ٹماٹوز پر اس کی ریٹنگ 89 فیصد ہے جبکہ میٹا کریٹک پر اس کا اسکور 77 ہے۔
17 جون 2008ء کو امریکن فلم انسٹیٹیوٹ امریکہ کی دس کلاسیکی طرزوں (genres) میں اپنی “ٹین ٹاپ ٹین” درجہ بندی منظر عام پر لایا جس کے لیے تخلیقی شعبے سے تعلقات رکھنے والے 1500 افراد نے اپنی رائے پیش کی تھیں۔ اس میں یوژوئل سسپیکٹس کو بہترین پراسرار فلموں میں دسواں درجہ ملا۔ جون 2003ء وربل کنٹ کے کردار کو امریکن فلم انسٹیٹیوٹ کی 100 سال ۔۔۔ 100 ہیروز اور ولن کی فہرست میں 48 واں درجہ دیا گیا۔ مشہور فلمی جریدے ایمپائر نے قیصر سوزے کو “100 عظیم ترین فلمی کردار” میں 69 واں درجہ دیا۔
مرکزی کردار
- گیبریئل بائرن (Gabriel Byrne) بطور ڈین کیٹن
- کیون اسپیسی (Kevin Spacey) بطور راجر “وربل” کنٹ
- چیز پالمنٹری (Chazz Palminteri) بطور ڈیوڈ کویان (اسپیشل ایجنٹ یو ایس کسٹمز)
- اسٹیفن بالڈون (Stephen Baldwin) بطور مائیکل میک مینس
- کیون پولاک (Kevin Pollak) بطور ٹوڈ ہوکنی
- بینیکیو ڈیل ٹورو (Benicio del Toro) بطور فریڈ فینسٹر
- پیٹ پوسٹلتھ ویٹ (Pete Postlethwaite) بطور کوبایاشی
- سوزی امیس (Suzy Amis) بطور ایڈی فنرین
ریلیز
6 ملین ڈالرز کی لاگت سے بننے والی یہ فلم پہلی بار 1995ء کے کان فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی اور بعد ازاں اسے بڑے پیمانے پر ریلیز کیا گیا۔ فلم نے امریکہ میں 23 ملین ڈالرز سے زائد کی آمدنی حاصل کی۔
بہترین مکالمے
- وربل: کیٹن ہمیشہ کہتا تھا “میں خدا کو نہیں مانتا لیکن مجھے اس کا خوف رہتا ہے۔” جبکہ میں خدا کو مانتا تو ہوں لیکن واحد شے جو مجھے خوف میں مبتلا کر دیتی ہے وہ قیصر سوزے ہے۔
- وربل: شیطان کی سب سے بڑی چال یہ ہے کہ اس نے دنیا کو قائل کیا کہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
- وربل: ایک شخص سب کو قائل کر سکتا ہے، لیکن خود کو کبھی قائل نہیں کر سکتا۔
- کیٹن: مجھے ایک اچھی دلیل دو کہ مجھے تمہیں کیوں قتل نہیں کرنا چاہیے۔
- انتورو مارکوئیز: وہ یہیں ہے! میں جانتا ہوں وہ یہیں ہے! میں تمہیں بتا رہا ہوں یہی ہے وہ! تم مجھے سن رہے ہو؟ میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ یہ “قیصر سوزے” ہے!
- ڈیوڈ کویان: میں تم سے زیادہ عقلمند ہوں، اور میں تم سے وہ سب اگلوا لوں گا، چاہے تم اگلنا چاہو یا نہ چاہو۔
- وربل: وہ قیصر سوزے تھا، ایجنٹ کویان! میرا مطلب ہے شیطان، بذات خود۔
ریٹنگ
کیونکہ یہ ایک مجرموں کے گروہ کی کہانی ہے اس لیے حقیقت کا روپ بھرنے کے لیے اس میں گالیوں کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ کئی ممالک جیسا کہ
آئرلینڈ، اسپین ، جنوبی کوریا ، چلی، فلپائن اور نیوزی لینڈ میں اسے 18 سال سے کم عمر کے ناظرین کے لیے نامناسب قرار دیا گیا ہے جبکہ آئس لینڈ،ارجنٹائن، برازیل، پرتگال، جرمنی،فن لینڈ،نیدرلینڈز،ڈنمارک اور ہنگری میں اس کی ریٹنگ 16 ہے۔ میری رائے میں یہ 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے موزوں نہیں ہے۔
بہترین مناظر
بلاشبہ فلم کا سب سے شاندار منظر آخر کا منظر ہے۔
ابتداء میں جارج کیٹن کے قتل کا منظر بھی بہت زبرست ہے۔

17 تبصرے کیے گئے۔
قدیر احمد جنجوعہ says:
Jun 2, 2010
بروس ویلیس کی فلم “دی سکستھ سینس” بھی ایسی مووی ہے کہ اگر اس کی پوری کہانی بیان کر دی تو فلم کا مقصد ہی وفات پا جائے گا
jafar says:
Jun 2, 2010
بندے کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے جی یہ فلم دیکھ کے

مزا بولے تو زبردست مزا۔۔
جس کو بھی فلم دیکھنے کا رتی برابر شوق ہے، اسے یہ لازم لازم دیکھنی چاہیے۔۔۔
اور ہاں ریویو کی تعریف تو میں کھا ہی گیا۔۔۔
ابوشامل says:
Jun 2, 2010
ہاہاہا ۔۔۔۔۔ تو ایسا کرتے ہے تجدید ایمان کر لیتے ہیں
یعنی فلم دوبارہ دیکھ لیتے ہیں۔
شہزاد وحید says:
Jun 2, 2010
ابو شامل بھائی آپ نے تبصرہ کرنے کے لئیے اب تک جن جن فلموں کا انتخاب کیا ہے وہ سب کی سب میری پسندیدہ ترین ہیں۔ میری کچھ کلاس فیلوز کو میری پسند پر اعتراز ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بورنگ موویز پسند ہیں۔ اور جب سے انہوں نے میرے مشورے پر The Prestige دیکھنے کے بعد اسے بورنگ کہا ہے میں نے ان سے فلمیں شیئر کرنا بند کر دیا ہے۔
ابوشامل says:
Jun 2, 2010
پسندیدگی کا شکریہ شہزاد۔ جس طرح کھانے میں ہر کسی کا ایک خاص ٹیسٹ ہوتا ہے اس طرح فلموں میں بھی ہوتا ہے، زیادہ تر لوگوں کو ایکشن، سسپنس اور مار دھاڑ والی فلمیں پسند ہوتی ہيں۔
Jafar says:
Jun 3, 2010
پریسٹیج کے ذکر سے میں آپ کا دوست بن گیا ہوں ، جناب شہزاد وحید ۔۔۔
وقاراٰعظم says:
Jun 3, 2010
آپ نے بہت اچھا ریویولکھا ہے۔ اس پڑھتے ہی ٹورنٹ لگا دیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کیسی فلم ہے۔۔۔
ابوشامل says:
Jun 3, 2010
فلمستان پر خوش آمدید وقار! امید ہے یہ فلم آپ کو بہت اچھی لگے گی۔
شہزاد وحید says:
Jun 3, 2010
The Prestige اور Fight Club جیسی فلمیں تو شاہکار ہیں جعفر صاحب۔ ان جیسی فلمیں دیکھنے کے بعد اب تو اچھی خاصی فلم بھی عام سی لگتی ہیں کیوں کہ ان فلموں نے ہمارا فلم بینی کا معیار کہی بہت اوپر سیٹ کر دیا ہے۔
ابوشامل says:
Jun 3, 2010
پریسٹیج تو میں نے نہیں دیکھی اب تک لیکن فائٹ کلب والی دماغ کو ہلا کر رکھ دینے والی فلم ہے۔ میں تو سوچ رہا ہوں کہ اس پر ریویو کیسے لکھوں گا
ایسی فلمیں واقعی کبھی کبھی بنتی ہیں۔
عین لام میم says:
Jun 3, 2010
جناب! ایک دم بہترین فلم ہے۔۔۔ آپ تمام فلمیں بہترین ہی سیلیکٹ کر رہے ہیں تجزیے کیلئے۔۔۔ اور “سٹرینجر دین فکشن” کے علاوہ سب دیکھی ہوئی تھیں۔۔ اب وہ بھی دیکھ لی ہے۔۔
اور ہاں! آپ نے فلمستان میں لکھنے کی اجازت دی، اس کیلئے بہت شکریہ۔۔۔ یہاں ڈائریکٹ لکھا جا سکتا ہے یا پہلے اپنے بلاگ پہ لکھ کر ربط دینا ہو گا؟؟
ابوشامل says:
Jun 3, 2010
بہت شکریہ ع ل م۔ یہاں لکھنے کی محض ایک شرط ہے وہ یہ ہے کہ پہلے تحریر یہاں لکھنی ہوگی پھر چاہیں تو اپنے بلاگ پر بھی پیش کر دیں
۔
شکاری says:
Jun 4, 2010
ٹورنٹ چلا دیا ہے. باقی دیکھ کر بتاؤں گا.
طارق راحیل says:
Jun 4, 2010
دیکھ کر تبصرہ کریں گے
عین لام میم says:
Jun 4, 2010
کیسے۔۔۔؟ میں جو پوچھنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اس بلاگ پر کیسے لکھ سکتا ہوں۔۔۔۔ کوئی رجسٹریشن فارم یا یوزر آئی ڈی ؟؟ کہاں لکھنا ہے؟
ابوشامل says:
Jun 4, 2010
آپ مجھے میل بھی کر سکتے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو میں یہاں پر آپ کی ایک آئی ڈی بنا دوں گا جس کی تفصیلات آپ کو بذریعہ ای میل مل جائیں گی۔ پھر آپ میرے بلاگ پر خود لکھ سکتے ہیں۔ اب آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔
عین لام میم says:
Jun 4, 2010
ای میل: ravian475[at]gmail.com
جیسے آپ مناسب سمجھیں، ویسےآئی ڈی زیادہ بہتر ہوگی میرے خیال میں۔
مجھے ایم میل پہ بتا دیجئے گا۔ شکریہ