فلم: ناک آؤٹ (Knock Out)
سال: ۲۰۱۰ء
کہانی نویس/ہدایت کار: مانی شنکر
ستارے: سنجے دت، عرفان خان، کنگنارت، گلشن گروور
موسیقی: گورو داس گپتا
آئی ایم ڈی بی صفحہ
ویب سائٹ
پچھلی تحریر میں انگریزی فلم ’’فون بوتھ‘‘ پر تجزیہ لکھتے ہوئے میں نے اُس کے ہندی چربے کا ذکر کیا تھا۔ فلم ’’ناک آؤٹ‘‘ ہی وہ چربہ ہے جس کی کہانی کا نہ صرف پلاٹ بل کہ بہت سے مناظر بھی ’’فون بوتھ‘‘ سے متاثر ہوکر فلمائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ بمبئی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ہالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم کی کاپی کرنے پر فلم ’’ناک آؤٹ‘‘ کے پروڈیوسر کو پندرہ ملین روپے بہ طور ہرجانہ 20th Century Fox کو ادا کرنے ہوں گے۔
خاکہ:
فلم کی کہانی ہندوستانی سیاست دانوں کے آلہ کار ٹونی کھوسلا (عرفان خان) اور انٹیلی جینس بیورو کے چیف ویر وجے سنگھ (سنجے دت) کے گرد گھومتی ہے۔ ٹونی کھوسلہ کو فون بوتھ میں ایک نامعلوم شخص کی فون کال موصول ہوتی ہے جو اُسے دھمکی دیتا ہے کہ اگر اُس نے فون رکھنے کی کوشش کی تو وہ اُسے گولی مار دے گا۔ وہ شخص ٹونی کے بہت سے راز اُسے بتاکر یقین دلاتا ہے کہ وہ اُس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے اور اگر اُس نے ویسا نہیں کیا جیسا وہ چاہتا ہے تو اُسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔
کہانی:
ٹونی کھوسلا چند ایسے سیاست دانوں کا کارندہ ہے جو ملکی خزانہ لوٹ کر اپنے خفیہ سوئس اکاؤنٹس میں منتقل کرتے ہیں (اگر آپ کا ذہن اپنے سربراہِ مملکت کی طرف جارہا ہے تو یہ کہانی نویس کا قصور نہیں)۔ فون پر بات کرنے کے دوران ایک شخص نے ٹونی کی بات چیت میں خلل ڈالا ہے تو اُس نے اُسے وہاں سے چلے جانے کو کہا؛ لیکن اُس کے نہ جانے پر ٹونی اُس سے لڑپڑا اور دھکے دے کر فون بوتھ سے نکال دیا۔ فون پر بات مکمل کرنے کے بعد ٹونی جب فون بوتھ سے نکلنے لگا تو ایک نامعلوم نمبر سے کال آنے لگی۔ اُس نے فون اُٹھایا تو دوسری طرف نامعلوم شخص (سنجے دت) نے ٹونی کھوسلا کو باتوں میں اُلجھا دیا اور اُس کی زندگی کی ایسی باتیں بتائیں جو صرف ٹونی ہی کو معلوم تھیں۔ ٹونی نے اپنی طرف سے کئی اندازے لگائے کہ دوسری طرف کون شخص ہے لیکن اُس کا ہر اندازہ غلط تھا۔ نامعلوم شخص نے ٹونی کو اُس کے سیاہ کرتوت یاد دلائے۔ اسی گفت گو میں ایک شخص فون بوتھ میں آکر ٹونی سے بھڑگیا اور ٹونی کو بچانے کے لیے فون پر موجود شخص نے، جو قریب ہی ایک عمارت میں موجود تھا، کمرے کی کھڑکی سے اُس شخص کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔ تھوڑی دیر میں لوگوں کا ہجوم، میڈیا کے نمائندے اور پولیس والے پہنچ گئے۔ وہاں موجود تمام لوگوں کا یہی خیال تھا کہ مردہ شخص کی ہلاکت ٹونی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔
انتباہ: مکمل کہانی پڑھنے کی صورت میں آپ فلم میں دل چسپی کھوسکتے ہیں۔
نامعلوم شخص نے ٹونی کو مجبور کیا کہ وہ اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرے تاکہ ملک کے سیاست دانوں کے مکروہ چہرے سے نقاب اُٹھ جائے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹونی کو ایسا کرنا پڑا۔ اُس کا اعترافِ جرم جب ٹی وی چینلوں پر نشر ہوا تو سیاست دانوں میں ہل چل مچ گئی۔ اُنھوں نے جائے وقوع پر موجود پولیس افسر کو حکم دیا کہ ٹونی کو ہلاک کردیا جائے؛ لیکن، اُس افسر نے حکامِ اعلا کے حکم سے بغاوت کرتے ہوئے فرض شناسی کا ثبوت دینا چاہا۔ نتیجتاً اُس کی جگہ دوسرا افسر بھیجا گیا جس نے ٹونی اور موقع پر موجود تمام لوگوں پر گولیاں برسانا شروع کردیں تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔ مگر، ٹونی نے اپنے لیپ ٹاپ کی مدد سے ہندوستانی خزانے میں 32 ہزار کروڑ روپے منتقل کردیے اور سیاست دانوں کے منہ پر خاک مل دی۔ ایک فون کال نے صرف ٹونی کی زندگی ہی ن%
