یہ ذرائع ابلاغ کا دور ہے اور انسان کی بنیادی ضروریات میں روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ اب معلومات یعنی انفارمیشن بھی شامل ہو چکی ہے۔ ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ نے ابلاغ کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے اور اب دنیا جہاں کی معلومات محض انگلی کے چند اشاروں کی محتاج ہے۔ لیکن روایتی طریقوں کے علاوہ ابلاغ کے کچھ اور موثر ذرائع بھی ہیں جن میں فلم کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ فلم کے کچھ منفی پہلو ہیں تو کچھ تربیتی پہلو بھی ہیں، وہ انسانی معاشرے کی حقیقی و مصنوعی عکاسی بھی کرتی ہے اوررائے عامہ کو ہموار کرنے یا پھر پروپیگنڈے کے لیے انہیں ایک بہترین ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں فلم بینی کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور اس کے حوالے سے تجزیے و تبصرے شایع کرنے والی ویب سائٹس دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹس میں شمار ہوتی ہیں۔

دور جدید میں فلمیں انسانی ذہنوں پر کتنا اثر رکھ رہی ہیں، اس کا اندازہ محض اس بات سے لگا لیجیے کہ بریو ہارٹ کے اجراء کے بعد اسکاٹ لینڈ میں انگلستان سے آزادی چاہنے والوں کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ ہوا اور عوامی سطح پر کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ جتنی بڑی تعداد اب انگلستان سے آزادی کی خواہش رکھنے لگی ہے اتنی تعداد پہلے کبھی نہ تھی۔ اس لیے ہم اس ابلاغی دور میں اس اہم ذریعے کو یکسر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہی وجہ اردو میں ایک فلمی تجزیہ بلاگ کا آغاز کرنے کا محرک ثابت ہوئی جو اب آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔

یہاں “فلمستان” پر ہماری کوشش ہوگی کہ مشہور (یا غیر مشہور)، اچھی (یا بری) اور شاہکار (یا پروپیگنڈہ) فلموں پر تبصرے اور تجزیے پیش کریں اور ان کی خامیوں اور خوبیوں اور کہانی میں کمزوریوں یا پروپیگنڈہ فلموں میں اصل واقعات کو پردۂ سیمیں کے پیچھے چھپانے کی کوششوں کا ذکر کریں، زیر تبصرہ فلموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات قارئین تک پہنچائیں تاکہ وہ کسی بھی فلم کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے سکیں اور فلم بینی کے دوران یہ بلاگ ان کے لیے مددگار ثابت ہو۔

میں اس سلسلے میں تکنیکی مدد فراہم کرنے پر برادر ساجد اقبال ، محمد اسد اسلم اور نعمان یعقوب کا شکر گزار ہوں اور ساتھ میں تحاریر کا وعدہ کرنے اور حوصلہ افزائی کرنے پر جعفر اور خاور بلال کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ذاتی طور پر مجھے دو قسم کی فلمیں ہی پسند ہیں، ایک اینی میٹڈ اور دوسری جنگی۔ اس لیے میری جانب سے تو ایسی ہی فلموں پر تبصرے ممکن ہیں لیکن کبھی کبھار کوئی ایسی فلم بھی نظروں سے گزرتی ہے موضوع میں دلچسپی نہ ہونے کے باوجود دل کو چھو جاتی ہے۔ اس لیے ان فلموں پر بھی تبصرے ہوں گے اور ساتھی لکھاریوں کی جانب سے مختلف النوع فلموں پر تجزیے تو ہوں گے ہی۔

امید ہے کہ اردو بلاگنگ کمیونٹی اس منفرد بلاگ کو سراہے گی اور اس سے اردو بلاگنگ کو ایک نئی جہت عطا ہوگی۔